تعصب بھی اور نا اہلی بھی

92

صدر مملکت جناب ڈاکٹر عارف علوی نے شکوہ کیا ہے کہ کھیلوں کے میدان میں پاکستان کو تعصب کا سامنا ہے ۔ انہوں نے کھلاڑیوں سے کہا ہے کہ وہ محنت سے دنیا میں پاکستان کا نام روشن کریں ۔ اسی روز کے اخبارکی خبر ہے کہ وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کہا ہے کہ اولمپکس میں پاکستان کی ناکامی کی ذمے دار ایسو سی ایشن ہے ۔17برس سے شخصیات نے اداروں پر قبضہ کیا ہوا ہے ۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ اب نیا ٹیلنٹ سامنے لایا جائے گا ۔یہ اعلانات گزشتہ کئی دہائیوں سے سننے کو ملتے رہے ہیں ۔ یہ معاملہ صرف ایک آدھ کھیل کا نہیں ہے بلکہ پاکستان کا معاملہ تعصب سے زیادہ نا اہلی کا ہے اور اگر اولمپکس ایسو سی ایشن نا اہل ہے تو حکومت ہی اس کی بھی ذمہ دار ہے کیا اسے معلوم نہیں تھا کہ 14برس سے شخصیات اداروں پر قابض ہیں کہ اس نے انہیں مزید تین سال قبضوں کی اجازت دے دی ۔ یہ شخصیات بھی تو سرکار کی سر پرستی میں اداروں کوتباہ کرتی ہیں ۔ حال ہی میں نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کا دورہ ملتوی کرنا تعصب کا سبب قرار دیا جا سکتا ہے لیکن یہ بھی عالمی سیاست کا نتیجہ ہو سکتا ہے ۔اگرپاکستان کی حکومت مضبوط ہوتی تو یہ ممالک بھی اتنی آسانی سے ٹیمیں واپس نہیں بلا سکتے تھے ۔ یادورہ منسوخ کر سکتے لیکن مسئلہ تو یہ ہے کہ کھیل کے کسی شعبے کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھ لیں سب با قاعدہ محنت کر کے تباہ کیے گئے ہیں ۔ کرکٹ میں کوئی خاص کارکردگی نہیں ، ہاکی کو دنیا کے نمبر ون سے اٹھا کر اس جگہ پہنچا دیا گیا ہے کہ اب کسی بین الاقوامی مقابلے میں شرکت کے لیے پاکستان کوالیفائنگ رائونڈ کھیلنے پر مجبور ہو گیا ہے ۔ اولمپکس کا دستہ کیا وزیر صاحبہ کے علم میں لائے بغیر گیا تھا جس میں کھلاڑی کم اور آفیشل زیادہ تھے جن کھیلوں پر بھروسا تھا ان میں تو شروع میں ہی صفایا ہو گیا اور بعض کھلاڑیوں نے از خود تھوڑی بہت محنت کرکے امیدیں بڑھا دی تھیں ۔ لیکن باقی کا زوال محض اولمپکس ایسو سی ایشن کی وجہ سے نہیں ہوا ہے موجودہ اور سابق حکمران دونوں اس کے برابر کے ذمے دار ہیں ۔ سفارش، انتقامی کارروائی اور اقرباپروری یہ سارے عوامل کھیل کیا کسی بھی شعبے کو تباہ کر سکتے ہیں۔ کرکٹ کا حال سامنے ہے ۔ پاکستان کو ٹی20 میںنمبر ایک پوزیشن پر پہنچانے والے سر فراز کو ٹیم سے ہی نکال دیا اور اب ہرجگہ شکست ہے ۔ کس کس کو روئیں گے۔پاکستان کو تو تعصب کا سامنا ہے لیکن کھلاڑیوںکو اپنے ہی حکام سے تعصب کا سامنا ہے ۔ اس کابھی تو کوئی علاج کریں ۔