پی آرسی کے تحت سعودی قومی دن پرتقریب‘ رابطہ ٹرسٹ فعال کرنے پر زور

312

پاکستان ریپیٹریشن کونسل (پی آر سی) نے سعودی عرب کے 91 ویں قومی دن پر ایک آن لائن تقریب کا اہتمام کیا، جس کی صدارت چیئرمین احتشام الدین ارشد نظامی نے کی۔ مہمان خصوصی معروف دانشور ، ادیب اور سابق سفارت کار ڈاکٹر علی الغامدی تھے۔ اس موقع پر پی ٹی آئی کے انجینئر افتخار چودھری مہمان خصوصی تھے۔ دیگر مقررین، شاعر اور صحافیوں میں راجا زرین خان وائس چیئرمین آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس، این ای ڈی انجینئرایسوسی ایشن آف کینیڈا کے جنرل سیکرٹری کرامت اللہ، چودھری خالد رشید صدر پاک سعودی فرینڈ شپ فورم، ڈپٹی کنونیئر پی آر سی حامد اسلام خان، کوآرڈینیٹر رابطہ ٹرسٹ آفتاب حسین، شمس الدین الطاف رہنما پیپلز پارٹی جدہ، صحافی محمد عامل عثمانی، شاعر سید محسن علوی، نسیم سحر، زمرد خان سیفی، نعت خواں شیر افضل اور قاری محمد آصف شامل تھے۔
احتشام الدین ارشد نے اپنے صدارتی خطاب میں ڈاکٹر الغامدی اور تمام سعودی باشندوں کو قومی دن پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پی آر سی اس دن کو منانے پر ویسے ہی فخر محسوس کرتی ہے، جیسے ہم پاکستان کا قومی دن مناتے ہیں۔ انہوں نے محصورپاکستانیوں کے مسئلے کو حل کرنے میں او آئی سی اور دیگر سعودی تنظیموں کے کردار کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں ہمارے حکمرانوں نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے مطلوبہ جذبے سے کام نہیں لیا، جو تاخیر کا باعث ہے۔ انہوں نے کہا کہ لگتا ہے عمران خان محصور پاکستانیوں کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں اور فوج کی مدد سے یہ مسئلہ جلد حل کیا جا سکتا ہے۔ بنگلادیش چھوڑنے والے بنگالیوں کی لاوارث جائدادوں کو وطن واپس آنے والے پاکستانیوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے اور بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی مالی مدد کے لیے تیار ہیں۔
ڈاکٹر علی الغامدی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شاہ فیصل نے اس دن کو قومی دن کے طور پر منانے کے لیے 23ستمبر کے دن کا اعلان کیا تھا۔ مملکت کی شکل تین مراحل میں آئی، جسے شاہ عبدالعزیز آل سعود نے مکمل کیا۔ انہوں نے نجد ، عسیر ، حجاز اور دیگرریاستوں کو یکجا کیا اور اسے 1932ء میں سعودی عرب کی بادشاہت قرار دیا۔ اسلامی قانون کے نفاذ نے اس ملک کو امن، ہم آہنگی اور انسانیت کا گہوارہ بنایا، جس نے دنیا میں ساکھ حاصل کی۔ انہوں نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے وژن 2030ء کی نگرانی کی تعریف کی، جس سے تیل پر انحصار کرنے کے بجائے متنوع معیشت پر مملکت ترقی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ مسلم ورلڈ لیگ کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر عبداللہ عمر نصیف اور مرحوم صدر ضیا الحق نے 1988ء میں محصورپاکستانیوں کی وطن واپسی اور بحالی کا بندوبست کرنے کے لیے رابطہ ٹرسٹ قائم کیا، لیکن ضیاالحق کے بعد پھنسے ہوئے پاکستانیوں کی واپسی کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے۔ انہوں نے وزیراعظم عمران خان پر زور دیا کہ وہ ایم ڈبلیو ایل کی مدد سے رابطہ ٹرسٹ کو دوبارہ فعال کریں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام حکمرانوں کو تعلیم دیتا ہے کہ وہ معاشرے کے غریب اور پسماندہ لوگوں کا خاص خیال رکھیں۔ محصور پاکستانی اس زمرے میں آتے ہیں جنہیں 50 سال سے نظر انداز کیا جاتا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ اور او آئی سی پر بھی زور دیا کہ وہ محصورین، فلسطین اور کشمیر جیسے امت مسلمہ کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدگی سے غور کریں۔
مہمان خصوصی انجینئر افتخار چودھری نے سعودی قومی دن پر پروگرام منعقد کرنے پر پی آر سی کی تعریف کی اور کہا کہ پروگرام میں بہت سے پرانے دوستوں کو دیکھ کر خوشی ہوئی۔ انہوں نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مضبوط برادرانہ تعلقات کو سراہا۔ انہوں نے ڈاکٹر غامدی کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے کشمیر اورمحصور پاکستانیوں کی ہمیشہ حمایت کی۔
جنرل سیکرٹری سید مسرت خلیل نے شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ترقیاتی پروگرام اور وژن 2030 کو سراہا اور محصورپاکستانیوں کی وطن واپسی کے عمل کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے رابطہ ٹرسٹ کو فعال کرنے پر زور دیا۔ جنرل سیکرٹری (این ای ڈی اے سی) کرامت اللہ نے سعودی قومی دن منانے اور نصف صدی سے بنگلا دیش میں مقیم محب وطن پاکستانیوں کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے پی آر سی کے کردار کی تعریف کی۔ پاک سعودی فرینڈزشپ فورم کے صدر چودھری خالد رشید نے سعودی قومی دن پر پروگرام منعقد کرنے پر پی آر سی کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے بنگلا دیش سے پھنسے پاکستانیوں کی وطن واپسی کے منصوبے کی حمایت کی اور پی آر سی کی جدوجہد کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ 200 ملین کی آبادی کے ساتھ کوارٹر ملین کا اضافہ کوئی بوجھ نہیں ہوگا بلکہ یہ ہمارے ان بھائیوں کی مدد ہوگی جو پاکستان کے ساتھ اپنی وفاداری کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔
پیپلز پارٹی کےشمس الدین الطاف نے شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی کورونا سے متعلق حکمت عملی کی تعریف کی، جس نے مملکت میں وبائی بیماری کو کنٹرول کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ سعودی عرب کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں۔ آفتاب حسین جو حال ہی میں سعودی عرب سے پاکستان آئے تھے، نے پی آر سی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ مسلم ورلڈ لیگ (ایم ڈبلیو ایل) اور او آئی سی کی مدد سے محصور پاکستانیوں کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے50 برس سے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس مسئلے کے جلد حل کی دعا کی۔ تقریب میں نظامت، ہدیہ نعت اور سعودی قومی دن پر نظم سید محسن علوی نے پیش کی۔ شیر افضل نے کلام اقبال اور قاری محمد آصف نے آیاتِ ربانی کی تلاوت کی۔