اسلحہ کی دوڑ اور نئے امریکی عزائم

107

آکس (AUKUS) فوجی معاہدے کے دستخط گزشتہ ہفتے آسٹریلیا، برطانیہ اور امریکا کے مابین ہوئے ہیں، جس نے مغربی بلاک کے اندر بظاہر اتحادیوں کے مابین بڑی دراڑیں پیدا کردی ہیں، جبکہ چین کی طرف سے اس معاہدے پر تنقید بھی کی جارہی ہے۔ اس معاہدے کی وجہ سے نئی گروہ بندی اس وقت سامنے آئی جب یہ انکشاف ہوا کہ آسٹریلیا، امریکا اور برطانیہ سے جوہری طاقت سے چلنے والی آبدوزیں حاصل کرے گا۔ تاہم، یہ بات قابل ذکر ہے کہ مذکورہ معاہدہ ایک فرانسیسی آسٹریلوی معاہدے کی قیمت پر طے ہوا ہے جس کے ذریعے پیرس نے روایتی آبدوزیں کینبرا/ آسٹریلیا کو فراہم کرنی تھیں۔
فرانس، جو امریکا اور برطانیہ کا نیٹو پارٹنر ہے، نے اپنے اتحادیوں پر الزام لگایا ہے کہ وہ آسٹریلیا کے ساتھ اس کے ملٹی بلین ڈالر کے معاہدے میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔ فرانسیسی وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کے تعلقات سنگین بحران سے دوچار ہیں۔ مزید یہ کہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ جوہری آبدوزیں چین کےلیے ہیں۔ چونکہ آسٹریلیا کےلیے یہ خریدنے کی بظاہر کوئی خاص وجہ نہیں ہے، اور نہ اسے پیسیفک مائیکرو اسٹیٹس کی طرف سے فی الحال کسی بڑے دفاعی خطرات کا سامنا ہے۔
ادھر مبینہ طور پر یورپ نے اپنی خاموشی توڑ دی ہے اور غصے سے بپھرے فرانس کی اس ضمن میں کھل کر حمایت کی ہے۔ اسی تناظر میں جرمن یورپ کے وزیر مائیکل روتھ نے کہا ہے کہ فرانس کا امریکا کے ساتھ حالیہ سفارتی بحران غیر ملکی اور سلامتی پالیسی پر پہلے سے منقسم شدہ یورپی یونین کو متحد کرنے کی جانب ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔ جرمنی اور یورپی یونین کے اعلیٰ عہدیداروں کی طرف سے اس یکجہتی کے مظاہرے کا فرانس نے بھی خیر مقدم کیا، اور کہا ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ اس طرح اعتماد کے ٹوٹنے سے یورپ کا اپنے طور پر اسٹریٹجک راستہ طے کرنے کا معاملہ کافی مضبوط ہوا ہے۔
دریں اثنا، امریکی حکام کے مطابق صدر جو بائیڈن کشیدگی کو کم کرنے کےلیے فرانسیسی صدر عمانوئیل ماکروں کو فون کال کر رہے ہیں، جبکہ ماکروں نے فوراً آسٹریلیا اور امریکا میں فرانس کے سفیروں کو واپس بلانے کا بے باک قدم اٹھا کر ہم جیسے ملکوں کےلیے بھی مثال قائم کی ہے کہ اپنے قومی مفاد پر کسی بھی چیز کو ترجیح نہیں دینی چاہیے۔ ساتھ ہی ساتھ فرانسیسی صدر ماکروں اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے گزشتہ دنوں ہند- بحرالکاہل خطے میں ’’مشترکہ طور پر کام کرنے‘‘ کا عزم ظاہر کیا، کیوں کہ آسٹریلیا اور امریکا کے درمیان آبدوز کا مذکورہ بالا معاہدے پر تنازع بھی شدت اختیار کرگیا ہے۔
آکس تنازع اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ بین الاقوامی تعلقات میں تجارتی خدشات داؤ پر لگنے کی وجہ سے قریبی اتحادی بھی الگ ہوسکتے ہیں۔ بہرحال، یہ بات بالکل عیاں ہے فرانسیسی دفاعی صنعت ایک منافع بخش سودا حاصل کرتی اگر آسٹریلیا اس کے ساتھ اس معاہدے میں آگے بڑھتا۔ مگر ظاہر ہے برطانیہ اور امریکا کے مختلف خیالات تھے، کیونکہ اس پیش رفت سے ان کا اپنا فوجی صنعتی کمپلیکس آسٹریلیا کےلیے مینوفیکچرنگ کے ذریعے سب سے زیادہ فائدہ اٹھائے گا، لیکن اس تنازع سے اُبھرنے والی زیادہ پریشان کن حقیقت بحرالکاہل میں جوہری جہازوں کی تعیناتی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ چین کو کاؤنٹر کرنے کےلیے، مغربی بلاک ہند-بحرالکاہل خطے میں ایک نیا محاذ کھولنے کےلیے تیار کھڑا ہے۔ مزید برآں، فرانسیسی ایوان صدر نے تصدیق کی ہے کہ ماکروں اور مودی اس بات پر متفق ہیں کہ وہ ’’ایک کھلے اور جامع انڈو پیسیفک علاقے میں مشترکہ طور پر کام کریں گے‘‘۔
اگرچہ امریکی صدر جو بائیڈن نے ابھی چند ہفتے قبل اعلان کیا تھا کہ واشنگٹن کے غیر ملکی تعمیراتی منصوبوں کے دن ختم ہوچکے ہیں، تاہم اس کے برعکس ایسا لگتا ہے کہ ابھی تک مکمل طور پر امریکیوں کی عالمی عسکری مہم جوئی کےلیے بھوک ختم نہیں ہوئی۔ اُدھر چین نے الزام لگایا ہے کہ آکس طاقتوں میں سرد جنگ کی ذہنیت پائی جاتی ہے، جبکہ شمالی کوریا نے کہا ہے کہ جوہری ذیلی معاہدے سے علاقائی ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہوسکتی ہے۔ ملائیشیا نے بھی ان کے ہم آواز ہوکر یہی کہا ہے کہ یہ معاہدہ ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ میں شدت کی وجہ بن سکتا ہے۔