کیا پاکستان میں اسلام قبول کرنا جرم ہے! (حصہ دوم)

237

امریکا سمیت دنیا کے کسی بھی ملک میں اٹھارہ سال سے کم عمر میں اسلام قبول کرنے پر پابندی نہیں ہے حتیٰ کہ اگر امریکا میں کوئی دس بارہ سال کا سفید فام لڑکا یا لڑکی وائٹ ہائوس کے سامنے کھڑے ہوکر اسلام قبول کرنے کا اعلان کرے تو امریکا کا قانون اس میں رکاوٹ نہیں بنتا، ہمارے ہاں اس پابندی کا جواز کیا ہے۔ نیز اگر کوئی دس یا پندرہ سال کا لڑکا یا لڑکی اسلام قبول کرنا چاہتے ہیں اور کوئی اس کو اسلام قبول کرنے سے روکتا ہے تو یہ اس کے کفر پر راضی ہونا ہے۔ جبری تبدیلیِ مذہب کے امتناع کا مجوّزہ بل تو اٹھارہ سال پورے ہونے پر بھی اُسے اسلام قبول کرنے کی اجازت نہیں دیتا حتیٰ کہ وہ درخواست دے کر ایڈیشنل سیشن جج کے سامنے پیش ہو، اُسے تفہیمِ مذاہب کے لیے تین مہینے کی تربیت دی جائے۔ سوال یہ ہے کہ نیچے سے اوپر تک ہمارے عمائدینِ مملکت وحکومت میں کتنے ہیں جنہوں نے تقابلِ مذاہب کا کورس کر رکھا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’دین میں کوئی جبر نہیں ہے، بے شک ہدایت گمراہی سے ممتاز ہوچکی ہے، پس جو شخص شیطان کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لائے، تو اُس نے ایسی مضبوط رسی کو پکڑ لیا، جسے ٹوٹنا نہیں اور اللہ خوب سننے والا بہت جاننے والا ہے، اللہ ایمان والوں کا مددگار ہے، وہ انہیں (کفر کے) اندھیروں سے (ایمان کے) نور کی طرف نکالتا ہے اور جنہوں نے کفر کیا، اُن کے حمایتی شیطان ہیں، وہ انہیں نور سے ظلمتوں کی طرف نکالتے ہیں، یہی لوگ جہنمی ہیں جو اس میں ہمیشہ رہیں گے، (البقرہ: 256-257)‘‘۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ کا حکم واضح ہے کہ کسی پر اسلام قبول کرنے کے لیے جبر نہیں کیا جائے گا، کیونکہ ایمان قلبی تصدیق کا نام ہے، اگر جبراً کوئی تسلیم بھی کرلے، جبکہ اس کے دل میں ایمان نہیں ہے، تو آخرت میں اس تسلیم کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا، وہاں فیصلہ ظاہر پر نہیں بلکہ قلبی تصدیق پر ہوگا۔ برصغیر پر مسلمانوں نے ایک ہزار سال حکومت کی، مگر ایسا کبھی نہیں ہوا کہ غیر مسلموں کو زبردستی اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا گیا ہو، اس کا ثبوت یہ ہے کہ آج بھی پورے جنوبی ایشیا میں غیر مسلم آبادی مسلمانوں سے زیادہ ہے۔
اسلام تسلیمِ محض نہیں، بلکہ تسلیم بالرّضا کا نام ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اَعراب نے کہا: ہم ایمان لائے، کہہ دیجیے: تم ایمان نہیں لائے، ہاں! یہ کہو! ہم نے اطاعت کی اور ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو تو وہ تمہارے اعمال میں کوئی کمی نہیں کرے گا، بے شک اللہ بہت بخشنے والا، بے حد رحم فرمانے والا ہے، درحقیقت مومن تو وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے، پھر کبھی شک میں مبتلا نہ ہوئے اور انہوں نے اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا، وہی (ایمان کے دعوے میں) سچے ہیں، (الحجرات: 14-15)‘‘۔
غزوۂ بدر میں مسلمانوں کو تجارتی قافلے سے ٹکرائو کے بجائے بھرپور جنگ کی ابتلا سے گزارنے کی حکمت قرآنِ کریم نے یہی بتائی: ’’تاکہ جو ہلاک ہو، وہ دلیل ظاہر ہونے کے بعد ہلاک ہو اور جو زندہ رہے وہ دلیل سے زندہ رہے، (الانفال: 42)‘‘۔ یعنی حق وباطل کا معرکہ بپا ہونے کے بعد ہی پتا چلے گا کہ کون ہے جو اپنے موقف پر عزیمت کے ساتھ قائم رہتے ہوئے ہر قیمت چکانے کے لیے تیار رہا۔ ایمان قلبی تصدیق کا نام ہے، اس لیے دنیا کے ممالک میں تبدیلیِ مذہب کا ایساکوئی قانون نہیں ہے، ایسے بے معنی تجربات صرف پاکستان میں ہوتے رہتے ہیں کہ پہلے سندھ اسمبلی نے بل پاس کیا اور اب اسے سینیٹ میں پیش کردیا گیا کہ اٹھارہ سال سے قبل اسلام قبول نہیں کیا جاسکتا، ہمیں اس کا فلسفہ آج تک سمجھ نہیں آیا۔ اگر کوئی دس برس کی عمر میں کفر کو ترک کرکے اسلام قبول کرنا چاہتا ہے تو اسے کیوں روکا جائے، کیا اسے اٹھارہ سال تک کفر پر قائم رہنے کے لیے مجبور کیا جائے گا، پھر اس کے بعد اگر چاہے تو قانونی تقاضے پورے کر کے اسلام قبول کرے۔
ہاں! اگر آپ نے کوئی سرٹیفکیٹ دینا ہے، تو آپ اٹھارہ سال کی عمر پوری ہونے پر جاری کردیجیے، لیکن جہاں تک بندے اور رب کا معاملہ ہے، ایمان لانے کے لیے کسی حکومتی سرٹیفکیٹ کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ہمارے پاس اپنی آزادانہ مرضی سے کوئی شخص اسلام قبول کرنے کے لیے آتا ہے، تو ہم اُسے شریعت کے مطابق توبہ کراکے اسلام میں داخل کرتے ہیں، اس میں قانون کا کوئی عمل دخل نہیں ہے، البتہ اگر اُسے سرٹیفکیٹ چاہیے اور وہ عاقل وبالغ ہے، تو ہم کہتے ہیں: فرسٹ کلاس مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہوکر بیان دو کہ میں عاقل وبالغ ہوں، برضا ورغبت اسلام قبول کر رہا ہوں اور مجسٹریٹ اس کی تصدیق کرے، تو ہم بھی اُسے سرٹیفکیٹ جاری کردیتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہمارے یا کسی عدالتی سرٹیفکیٹ کی کوئی ضرورت نہیں ہے، اللہ بندوں کے ظاہر وباطن کو خوب جاننے والا ہے۔
ہم بحیثیت ِ قوم ’’خود ملامتی‘‘ واقع ہوئے ہیں، کچھ دوسروں نے بھی ہمیں ایسے دبائو میں رکھا ہوا ہے کہ گویا ہمارا ہر قول وفعل غلط ہے، ہم ناقابل ِ اعتبار ہیں، ہمارا ہر بیان مشتَبہ ہے، الغرض ہم ہر دبائو کو قبول کرتے ہوئے ہمیشہ دفاعی پوزیشن اختیار کر لیتے ہیں۔ بزعمِ خود ہمارے آزاد وخود مختار میڈیا کے لیے ایسے واقعات ہاٹ کیک ثابت ہوتے ہیں، اُن کی ریٹنگ بڑھ جاتی ہے۔ ساری داستان خواہشات اور مفروضوں پر مبنی ہوتی ہے، کسی تحقیق کے بغیر قبولِ اسلام اور جبر کو لازم وملزوم سمجھ لیا جاتا ہے۔ عدل کا تقاضا یہ ہے کہ پہلے تحقیق کرو اور پھر شواہد پر مبنی رائے قائم کرو۔ اس سے تو یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلام قبول کرنا بہت بڑا جرم ہے، پچاس چینل فریاد کُناں ہوتے ہیں اور دہائی دے رہے ہوتے ہیں، جبکہ مسلمان کے لیے کسی کے اسلام قبول کرنے میں مُمِدّو معاون ہونا بہت بڑی سعادت ہے، حدیث ِ پاک میں ہے:
’’نبیؐ نے غزوۂ خیبر کے دن فرمایا: میں کل جھنڈا اُس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اُس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اُس کا رسول اُس سے محبت فرماتے ہیں، اللہ اُس کے ہاتھوں پر خیبر کو فتح فرمائے گا، لوگوں نے (اس انتظار میں) رات گزاری کہ جھنڈا کسے دیا جائے گا، صبح ہوئی توہر ایک اس کی آس لگائے بیٹھا تھا، آپؐ نے فرمایا: علی کہاں ہے، آپؐ کو بتایا گیا کہ انہیں آنکھوں کا عارضہ ہے، آپؐ نے اُن کی آنکھوں میں اپنا لعابِ دہن لگایا اور اُن کے حق میں دعا کی، (اس کی برکت سے) وہ ایسے صحت یاب ہوئے کہ گویا انہیں کوئی بیماری لاحق ہی نہیں تھی۔ آپؐ نے انہیں جھنڈا دیا، سیدنا علی نے پوچھا: میں اُن سے قتال کرتا رہوں حتیٰ کہ وہ ہماری مثل (مسلمان) ہوجائیں، آپؐ نے فرمایا: تم باوقار انداز میں چلتے رہو یہاں تک کہ تم اُن کے صحن میں اتر جائو، پھر انہیں اسلام کی دعوت دو اور بتائو کہ ان پر کیا احکام واجب ہیں، اللہ کی قسم ! اگر اللہ تمہارے ذریعے ایک شخص کو بھی ہدایت دیدے، تو یہ آپ کے لیے سرخ اونٹوں کی (گراں بہا دولت) سے بہتر ہے، (بخاری)‘‘۔ اگر سب مفتوحین کو زبردستی اسلام میں داخل کرنا ہوتا، تو آپؐ ایک شخص کا ذکر نہ فرماتے، اس حدیث میں اسلام کی دعوت دینے اور اس کی ترغیب کا ذکر ہے۔ اگر کوئی شخص خوش دلی سے اسلام قبول کرلے تو پھر اُسے اسلامی احکام کی تعلیم دینے کا حکم ہے۔ اسلام نے مفروضوں پر رائے قائم کرنے اور تحقیق کے بغیر خبر پر ردِّعمل ظاہرکرنے سے منع فرمایا ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو (ردِّعمل ظاہر کرنے سے پہلے) خوب تحقیق کرلو، مبادا تم انجانے میں کسی قوم کو تکلیف پہنچادو، پھر تم اپنے کیے پر پچھتاتے رہو، (الحجرات: 6)‘‘۔
ہمارا میڈیا اس آیت ِ مبارکہ میں بیان کردہ اللہ کی صریح ہدایت کی خلاف ورزی کر تا ہے، کسی تحقیق اور اس کے نتائج آنے سے پہلے فیصلہ صادرکردیتا ہے کہ جبراً اسلام قبول کیا ہے، آپ مفتیوں کے فتووں پر تو آئے دن پابندی کی بات کرتے رہتے ہیں، آپ کو یہ فری لائسنس کس نے دیا ہے کہ تحقیق کے بغیر جب چاہیں اور جو چاہیں فتویٰ لگادیں، آپ کو Licence to kill کا یہ اختیار کہاں سے ملا ہے، یہ اختیار آپ نے آئین کے کس آرٹیکل اور قانون کی کس دفعہ سے حاصل کیا ہے، ذرا ہمیں بھی بتادیجیے، ہم آپ کے شکر گزار ہوں گے۔
ہماری تجویز یہ ہے کہ ’’وزارتِ بین المذاہب ہم آہنگی‘‘ میں ایک باقاعدہ سیکشن بنایا جائے اور اس میں سرکاری عُمّال کے ساتھ ساتھ تمام مذاہب کے معتَمد نمائندوں کو شامل کیا جائے، اس طرح کے کسی بھی واقعے کی وہاں پر آزادانہ تحقیق ہو، پھر اس کے نتائج کا قومی سطح پر اعلان کیا جائے، اگر جبر ثابت ہو تو اس کے لیے تعزیر مقرر کی جاسکتی ہے، فقہ میں ’’اکراہِ مُلجی‘‘ کی تعریف موجود ہے، یعنی جان سے مارنے یا کسی عضو کو تلف کرنے کی دھمکی دینا، جبکہ اس پر عمل کرنے کے قرائن بھی موجود ہوں، الغرض شرعی معیار پر جبر ثابت کرنا ہوگا۔ عدالتوں کا طریقۂ کار ضوابط کے تابع ہوتا ہے، ان میں وکلا کی طولانی بحثیں شروع ہوجاتی ہیں، باہر سے سیاسی دبائو ہوتا ہے، جبکہ ہماری تجویز آسان اورقابلِ عمل ہے۔
ہم ایک سے زائد مرتبہ ہندو اور مسیحی رہنمائوں کو پیش کش کرچکے ہیں کہ اگر کسی معاملے میں ثبوت وشواہد سے جبر ثابت ہوجائے تو ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ نیز ہم نے ہر فورم پر کہا ہے کہ اقلیت کی اصطلاح کا استعمال ترک کیا جائے، ہم سب پاکستانی ہیں، ہمارا آئین وقانون سب کو تحفظ دیتا ہے، آپ اپنے آپ کو غیر مسلم پاکستانی کہیں، کیونکہ اقلیت کی اصطلاح سے محرومی کا تاثر پیدا ہوتا ہے، جبکہ غیر مسلم پاکستانی کی اصطلاح اپنے ملک و وطن پر استحقاق کا تاثر پیدا کرتی ہے، آپ حقوق کے دعوے دار بنتے ہیں اور بیرونِ ملک پاکستان کی رسوائی بھی نہیں ہوتی۔
’’جبری تبدیلیِ مذہب‘‘ کے بل پر سینیٹر انوار الحق کاکڑ کی سربراہی میں جو پارلیمانی کمیٹی قائم ہوئی، انہوں نے ہندوئوں کے عائد کردہ الزامات کا سروے کرایا تو دستیاب اعداد وشمار سے پتا چلا کہ ننانوے فی صد الزامات غلط تھے، خواتین نے اقرار کیا کہ انہوں نے برضا ورغبت اسلام قبول کیا ہے اور خوشی سے شادی کی ہے۔
نوٹ: اگرچہ وزارت ِ مذہبی امور نے اسلامی نظریاتی کونسل کی مشاورت کے ساتھ اس بِل کو واپس وزارت ِ حقوق ِ انسانی کو بھیجا ہے، لیکن دستوری اعتبار سے یہ اب تک پارلیمنٹ کی ٹیبل پر موجود ہے اور کسی بھی وقت اسے منظوری کے لیے پیش کیا جاسکتا ہے تاوقتیکہ اسے وزارت ِ قانون وپارلیمانی امور باقاعدہ واپس نہ لے، نیز وزارت ِ مذہبی امور کی سفارش میں اٹھارہ سال کی عمر اور تین مہینے انتظار کرنے کی بات کی گئی ہے، لیکن واضح طور پر نہیں کہا گیا کہ قبولِ اسلام پر عمر کی پابندی لگانا یا حکومت کی اجازت کی پابندی لگانا غیر اسلامی وغیر شرعی ہے، نیز سینیٹر مشتاق احمد نے شواہد کے ساتھ کہا ہے: ’’یہ بِل یورپین یونین کے مطالبے پر پیش کیا گیا ہے‘‘۔
(جاری ہے)