حاجی جاوید اقبال چیمہ بھی رخصت ہوئے

229

17 ستمبر 2021ء کی صبح نماز کے فوراً بعد فون کی گھنٹیاں بجنا شروع ہو گئیں، فون اٹھایا تو میرے ماموں چودھری افتخار احمد سندھو کی کال تھی، دل دھڑکا یا اللہ خیر، بات ہوئی تو انہوں نے روتے ہوئے بتایا کہ امیر جماعت اسلامی ضلع سرگودھا حاجی چودھری محمد جاوید اقبال چیمہ وفات پاگئے ہیں۔ ایک دم دھچکا سا لگا جیسے کوئی بہت ہی قریبی ہستی رحلت فرما گئی ہو۔ سابق امیر جماعت اسلامی تحصیل سلانوالی ملک فتح خان اعوان اور افتخار شاہ کے ہمراہ نماز جنازہ کے لیے گھر سے نکلے تو راستہ بھر ملک فتح خان، چیمہ صاحب کے بارے ہی میں گفتگو کرتے رہے۔ انہوں نے بتایا کہ میرا اور حافظ فیض محمد بھٹی کا حاجی جاوید اقبال چیمہ سے بڑا گہرا تعلق تھا اور ہم نے ان کو جماعت کے اکابرین اور ان کے والدین کی خواہش کے مطابق جماعت کا رکن بننے کے لیے تیار کیا۔ ملک فتح خان اعوان بتانے لگے کہ ایک دفعہ میرے گھر آئے تو ہم کھانا کھا رہے تھے کہتے ہیں میں کھانا تو کھا چکا ہوں چکھ لیتا ہوں، چکھتے ہوئے کہتے ہیں تندور کی روٹی نے بڑا مزا کیا ہے اور دو تین روٹیاں کھا گئے۔ پھر پوچھا کھانا کس پہ پکاتے ہیں ہم نے کہا لکڑیاں جلا کر، انہوں نے کہا میری بہن کو بڑی تکلیف ہوتی ہو گی، مجھے ساتھ بٹھایا سیدھا اپنی گیس کی ایجنسی پر لے گئے وہاں سے سلنڈر لیا، بازار گئے وہاں سے چولہا خریدا اور کہا کہ یہ میری طرف سے تحفہ ہے۔ جنازہ گاہ پہنچے تو سابق ناظم اعلیٰ وقاص انجم جعفری کا خطاب جاری تھا وہ کہہ رہے تھے اس گھرانے سے میرا بڑا گہرا تعلق ہے، حاجی جاوید اقبال چیمہ کی والدہ محترمہ کو کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے اپنی اولاد کی ایسی تربیت کی کہ سب آج اسلامی تحریک کے ہراول دستے میں شامل ہیں۔ ان کے بعد نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ شرکاء جنازہ سے مخاطب ہوئے اور فرمایا کہ میں جب اسلامی جمعیت طلبہ صوبہ پنجاب کا ناظم تھا اس وقت حاجی جاوید اقبال چیمہ سے اسی گاؤں میں ان کے گھر میں پہلی بار ملا، اور اس دن سے لے کر آج تک اسمبلی اور اسمبلی کے باہر جماعت اسلامی کی ہر تحریک و جدو جہد میں حاجی جاوید اقبال چیمہ کو اپنے ساتھ پایا۔ ان کے بعد امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق مخاطب ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ میں بڑی دور سے جاوید چیمہ صاحب کے جنازہ میں شرکت کے لیے آیا ہوں میرا کیا تعلق تھا ان سے صرف کلمہ کا تعلق تھا، چیمہ صاحب نے ساری زندگی اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے وقف کیے رکھی اور آج ہم سب گواہ ہیں کہ انہوں نے اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے آخری لمحات تک جدو جہد جاری و ساری رکھی۔ سرگودھا کے عوام سے درخواست ہے کہ وہ ان کے مشن کو جاری و ساری رکھیں۔ یہ سب سنتے ہوئے خیال آیا کہ چیمہ صاحب کتنے خوش قسمت ہیں اور انہوں نے کیسی زندگی بسر کی کہ ہر کوئی ان سے اپنے گہرے تعلق کا اظہار کر رہا ہے۔
حاجی جاوید اقبال چیمہ انتہائی سادہ مزاج اور ٹھنڈی طبیعت رکھنے والے انسان تھے، ہر چھوٹے بڑے انسان کی قدر کرنے والے، چھپ چھپا کر غرباء و مساکین کی خدمت کرنے والے عظیم انسان تھے۔ میرے چچا چودھری سیف اللہ گورایہ مرحوم کا تعزیتی پروگرام تھا۔ حاجی جاوید اقبال چیمہ نے اطلاع دی کہ میں تیار بیٹھا ہوں پر گاڑی نہیں ہے۔ اتفاق سے ہمارے پاس کارگو ہنڈائی گاڑی موجود تھی ہم نے وہی بھجوا دی وہ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اسی پر بیٹھ کر پروگرام میں پہنچ گئے اور تعزیتی پروگرام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس گھرانے سے ہمارے بڑے گہرے تعلقات ہیں میرے والد چودھری فاضل چیمہ مرحوم کا چودھری محمد اکبر گورایہ مرحوم سے اور میرا تعلق چودھری عبد الواحد گورایہ مرحوم سے بہت قریبی تھا۔ ایک جگہ فاتحہ خوانی کے لیے بیٹھے تھے کہ میزبانوں نے پانی پیش کیا ہم نواؤں کو شربت اور چیمہ صاحب کو سادہ پانی تو کہنے لگے بھائی وہ شوگر تو شوگر مل والے چیمہ صاحب کو ہے مجھے نہیں۔
چند ماہ پہلے راقم بہاولپور سے آئے مہمان ان کے گھر پہنچانے گیا تو خاصی دیر گپ شپ ہوتی رہی، فرمانے لگے کہ مجھ پر اللہ کریم کے بے پناہ احسانات ہیں اس ذات کریم نے ہر نعمت سے نوازا۔ حتی کہ صحت اتنی اچھی عطا فرمائی کہ ان 72 سال میں کبھی بیمار نہیں ہوا کوئی تکلیف نہیں آئی۔ اب اس بیماری نے آن لیا ہے تو الحمدللہ کوئی پریشانی نہیں ہے اس ذات کا کتنا فضل ہے کہ اتنی طویل زندگی آرام و سکوں سے گزری ہے۔ جب ان سے رخصت چاہی تو مجھے انہوں نے اس وقت ورطہ حیرت میں ڈال دیا جب سابق ڈپٹی مئیر سرگودھا، سابق ایم پی اے، سابق رکن قومی اسمبلی، امیر جماعت اسلامی ضلع سرگودھا بیماری کے باوجود مجھ ناچیز کو گاڑی تک رخصت کرنے آئے میں نے بار ہا منع کیا تو کہنے لگے ناصر مجھے اس اجر سے محروم نہ کرو۔ اور یہی حیران کن ملاقات ان سے آخری ملاقات ثابت ہوئی۔
ایک خاص بات اگر اس کا تذکرہ نہ کیا جائے تو نا انصافی ہو گی حاجی جاوید اقبال چیمہ کا جنازہ محترم امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کو پڑھانا تھا اور اس کا باقاعدہ جنازہ گاہ میں اعلان بھی کر دیا گیا۔ لیکن کسی نے بتایا کہ حاجی صاحب نے اپنے بیٹے حمائد چیمہ کو وصیت کی تھی کہ آپ کو میرا جنازہ پڑھانا ہے۔ تو فوراً سراج الحق صاحب نے کہا کہ حمائد کو آگے لاؤ اور وہ نماز جنازہ پڑھائے۔ یوں حمائد چیمہ نے اپنے والد محترم کی نماز جنازہ پڑھائی۔
سچی بات ہے کہ اس کا پورا کریڈٹ جماعت اسلامی کو جاتا ہے۔ یہی وہ نظم اور تربیت ہے کہ جس پر امیر جماعت نے برا نہیں منایا بلکہ سب لوگ بہت خوش بھی تھے کہ سنت کے مطابق باپ کا جنازہ بیٹا پڑھا رہا ہے۔ یہ اس گھرانے کی تربیت اور فضیلت ہے۔ ورنہ ہمارے معاشرے میں ایسے جدی پشتی امیر گھرانے اور بگڑی اولادیں نماز جنازہ پڑھانا تو بہت دور کی بات مسجد کی طرف کبھی رخ کرنا بھی گوارا نہیں کرتیں۔ اس روایت کا آغاز بہت قابل تقلید ہے کہ معاشرے میں ہر فرد اپنے اقرباء کا غسل اور جنازہ خود پڑھائیں۔ اور حقیقی اسلامی روایات کو رواج دیں۔ اللہ پاک حاجی جاوید چیمہ کو غریق رحمت فرمائے اور جنتوں میں اعلی مقام عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین