عمران خان کنٹینر سے اتریں

125

وزیراعظم عمران خان اب بھی اسی طرز فکر کے مطابق کام کر رہے ہیںجو 2015ء سے 2018ء تک انہوں نے اختیار کی تھی۔ ہر روز دھرنا، ہر روز جلسہ!! نہیں چھوڑوں گا۔ جیل بھجوائوں گا۔ اوئے شہباز شریف وغیرہ کے نعرے… لگائے جاتے تھے۔ لیکن انہیں سلیکٹرز نے کنٹینر سے اٹھا کر ایوان اقتدار میں پہنچا دیا۔ وزیراعظم بننے کے بعد بھی وزیراعظم کا رویہ وہی رہا جو کنٹینر پر تھا۔ شور شرابا اور اپوزیشن کے خلاف تقریریں۔ اب تو جوں ہی ملک میں کوئی مسئلہ درپیش ہو عمران خان رویے کے اعتبار سے کنٹینر پر چڑھ جاتے ہیں اور پھر نواز شریف، شہباز شریف کی رٹ لگانے لگتے ہیں۔ اس چکر میں ملک کو بھی بدنام کروانے میں کوئی شرم نہیں ہوتی۔ شہباز شریف کو قومی اسمبلی نے اپوزیشن لیڈر بنایا ہے۔ وزیراعظم نے قومی اسمبلی کے فیصلے کو مسترد کر دیا۔ چیئرمین نیب کے تقرر کے لیے اپوزیشن لیڈر سے مشورہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چونکہ شہباز شریف اپوزیشن لیڈر ہیں اور عمران خان اسے تسلیم کرنے کو تیار نہیں اس لیے وہ اس پارلیمانی روایت سے بھی کھلم کھلا انحراف کر رہے ہیں کہ ایسے معاملات میں اپوزیشن لیڈر سے مشورہ کیا جاتا ہے۔ عمران خان کہتے ہیں کہ شہباز شریف سے چیئرمین نیب کے بارے میں پوچھنے کا مطلب یہ ہے کہ ملزم سے پوچھا جائے کہ اس کی تفتیش کون کرے گا۔ یہی سوال عمران خان سے بھی کیا جا سکتا ہے کہ الیکشن کمیشن میں آپ ملزم ہیں نیب میں آپ کے خلاف درخواستیں ہیں تو آپ پر بھی یہی بات صادق آتی ہے کہ ملزم سے پوچھا جائے کہ آپ کی تفتیش کون کرے گا۔ وزیراعظم عمران خان کنٹینر سے اتر کر حقائق کا سامنا کریں اور پارلیمنٹ کی توہین سے باز آجائیں۔ خود اپوزیشن لیڈر کو تسلیم نہیں کرتے تو پارلیمنٹ سے ان کو مسترد کروائیں۔ پھر نئے اپوزیشن لیڈر سے مشورہ کریں۔ فی الحال تو عمران خان اپنی مرضی کے چیئرمین نیب اور الیکشن کمشنر کا تقرر چاہتے ہیں۔