نارتھ ناظم آباد کے مسائل جماعت اسلامی کا ڈی سی آفس کے گھیرائو کا انتباہ

178
کراچی: جماعت اسلامی ضلع وسطی کے تحت’’ تحریک بحالی نارتھ ناظم آباد‘‘ کے سلسلے میں احتجاجی فیملی واک کی جارہی ہے

کراچی (اسٹاف رپورٹر)جماعت اسلامی ضلع وسطی کے تحت ’’تحریک بحالی نارتھ ناظم آباد‘‘ کے سلسلے میں حیدری مارکیٹ تا کے ڈی اے چورنگی صفائی کی بدترین صورتحال ، سیوریج کے تباہ حال سسٹم ، انفرا اسٹرکچر کی تباہی سمیت دیگر بلدیاتی مسائل کے خلاف احتجاجی فیملی واک کا انعقاد کیا گیا۔امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے واک کی قیادت کی، واک میںپبلک ایڈ کمیٹی کراچی کے سیکریٹری نجیب ایوبی، آل پاکستان آرگنائزیشن آف اسمال ٹریڈرز اینڈ کاٹیج انڈسٹریز کراچی کے صدر محمود حامد ،میمن، بانٹوا کمیونٹی سمیت مختلف فلیٹ ایسوسی ایشن کے ذمہ داران اور حیدری مارکیٹ ایسوسی ایشن کے عہدیداران سید اختر شاہد ، تنویر احمد ،حیدری جیولرز کے تاجر رہنما شفیع دائود اور دیگر نے شرکت کی۔ اس موقع پر امیر ضلع وسطی وجیہہ حسن، قیم اویس یاسین، جے آئی یوتھ ضلع وسطی کے حارث علی خان، سیکریٹری اطلاعات زاہد عسکری اور دیگر بھی موجود تھے۔نارتھ ناظم آباد بحالی تحریک کے کنوینر عاطف علی نے مختلف مسائل کے حوالے سے قراداد پیش کی۔واک کے شرکاء نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے جن پر حکومت کے خلاف نعرے درج تھے،احتجاجی فیملی واک میں بچے بوڑھے جوان اور خواتین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ واک کے شرکاء نے زرد رنگ کی کیپ پہنی ہوئی تھی جس پر تحریر تھا کہ Protect north nazimabad،چھوٹے بچوں نے جھنڈے اور پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے جس پر تحریر تھا، Nazimabad Restore North ،جہاں وڈیرا شاہی وہاں صرف تباہی، Mr. PM, Mr CM تم سے نہ ہوپائے گا، Naimatullah khan I Miss ،Go home sindh govermentشرکاء نے مختلف غباروں میں پلے کارڈ ہوا میں چھوڑے جس پر نارتھ ناظم آباد کی بحالی مسائل کا حل صرف جماعت اسلامی تحریر تھا۔واک کے دوران شرکاء نے اپنے مطالبات کے حق میں نعرے لگائے۔ مارچ کے دوران شرکاء نے بینرز اور پلے کارڈاٹھائے ہوئے تھے، جن پر نارتھ ناظم آباد کا پانی ٹینکر مافیا کو کیوں دیا جاتا ہے؟، سندھ سرکار بے کار، اپنا نارتھ ناظم آباد ایسا تو نہیں تھا، برساتی نالے کب صاف ہوں گے؟، چپ چپ سندھ گورنمنٹ سورہی ہے، دنیا پانی سے بجلی بنارہی ہے اور سندھ گورنمنٹ پیسہ، محل نہیں محلے بنائیں درج تھا۔حافظ نعیم الرحمن نے احتجاجی فیملی واک سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نارتھ ناظم آباد ماضی میں اپنی شناخت رکھتا تھا1987 سے 2001 تک نارتھ ناظم آباد کی حالت بہت خراب تھی ،2001 کے بعد نعمت اللہ خان سٹی ناظم بنے تو جماعت اسلامی نے دو سال میں یہاں کے بہت سے مسائل حل کردیے تھے، سڑکیں تعمیر کی گئیں اور ریکارڈ مثالی کام کیے گئے،2005 کے بعد این آر او کے ذریعے نعمت اللہ خان کو دوسری بار سٹی ناظم نہیں بننے دیا، 2005 کے بعد سے اب تک کراچی کو پھر سے تباہ و برباد کردیا گیا۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پیپلز پارٹی، پاکستان تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کی مشترکہ کمیٹی سے ہمارا سوال ہے کہ آپ سب مل کر کراچی کے ساتھ کیا کررہے ہیں،گزشتہ سوا سال سے کراچی کے لیے کوئی نیا پروجیکٹ شروع نہیں کیاگیا،گزشتہ دنوں آدھے گھنٹے کی بارش کے بعد سڑکیں تالاب کا منظر پیش کررہی تھیں،اہلیان نارتھ ناظم آباد کے علاقہ مکین کو مسائل کے حل کے کیے گھروں سے نکلنا ہوگا اور ڈی سی آفس کا گھیراو کرنا ہوگا،نارتھ ناظم آباد بحالی تحریک اب پورے کراچی کی تحریک بننے والی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم کل کراچی سرکلر ریلوے کا افتتاح کرنے آرہے ہیں ، ہم ان سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ آپ افتتاح کرنے آرہے ہیںتو کچھ عرصہ قبل ریلوے کے وزیرشیخ رشید کیا کرنے آئے تھے ؟،ہم وزیر اعظم سے 11 سو ارب روپے کا حساب لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم نے مردم شماری میں کراچی کی آبادی آدھی ظاہر کی اور عوام کو دھوکا دیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں میٹرو ٹرین کا روٹ گیارہ ماہ میں مکمل ہواتھا ، لیکن کراچی میں تین سال گزر گئے اب تک گرین لائن کا پروجیکٹ مکمل نہیں ہوسکا، تین سال کے بعد اب کراچی کے لیے 40 بسیں دے کر احسان جتا رہے ہیں،گرین لائن پروجیکٹ میں لاکھوں روپے کے بل کو اربوں روپے کا ظاہر کیا گیا ہے،ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ گرین لائن پروجیکٹ کا فارنزک آڈٹ کیا جائے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کے ایم سی نے کراچی کے لیے کچھ نہیں کیا پھر کس لیے عوام سے ٹیکس وصول کررہے ہیں،اگر کراچی کے عوام کے مسائل حل نہ کیے گئے تو کے الیکٹرک اور بجلی کے بلوں میں کنزروینسی بل کسی صورت ادا نہیں کیے جائیں گے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ وفاقی حکومت مسلسل مہنگائی میں اضافہ کررہی ہے ،وزیر اعظم یہاں آئیں اور دیکھیے کہ کراچی کے عوام کیسے جی رہے ہیں۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکمران جماعتیں عوام کو صرف منصوبوں کا بتاتے ہیں لیکن عملا کچھ نہیں کرتے،جماعت اسلامی کراچی کے حقوق کی تحریک چلارہی ہے ،کراچی کے عوام چاہے کسی بھی پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں وہ جماعت اسلامی میں شامل ہوجائیں ہم سب کو ساتھ لے کر چلیں گے،کراچی کے عوام کی حقیقی جماعت جماعت اسلامی ہے ، 13 سال سے پیپلز پارٹی سندھ میں برسراقتدار ہے، کروڑوں روپے بجٹ کے پاس کیے گئے لیکن ان میں سے ایک روپیہ بھی شہر میں خرچ نہیں کیا گیا،کیوں کہ پیپلز پارٹی کراچی کو اپنا حصہ ہی نہیں سمجھتی، پیپلز پارٹی اندرون سندھ کے عوام اور جاگیردار اور وڈیرے مقامی سندھیوں کا استحصال کرتے ہیں اور اب مرتضیٰ وہاب کے ذریعے بھی کراچی پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔وجیہ حسن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نارتھ ناظم آباد بحالی تحریک پر خواتین، بچے، بوڑھوں اور نوجوانوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں،نارتھ ناظم آباد بے شمار مسائل کا شکار ہے، یہاں کے عوام انسانی بنیادی ضروری اشیاء سے محروم ہیں، حکمران جماعتوں کو کراچی کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ہے،نارتھ ناظم آباد کے علاقہ مکین خاموش تماشائی نہیں بنے رہیں گے ۔