بر طانیہ : ڈرائیوروں کی کمی کے باعث پیٹرول کی قلت

214
برطانیہ: آئل ٹینکر ڈرائیوروں کی کمی کے باعث پیداشودہ صورت حال میں شہری پیٹرول کے لیے سرگرداں ہیں

لندن (انٹرنیشنل ڈیسک) آئل ٹینکر ڈرائیورز کی کمی کی وجہ سے برطانیہ میں پیٹرول کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق بی پی اور ایسو کے کئی پیٹرول اسٹیشنوں پر پیٹرول ختم ہونے پر عارضی طور پر بند کر دیے گئے ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں پیٹرول کی کوئی قلت نہیں ہے، بلکہ پیٹرول اسٹیشن پر پیٹرول کی قلت کی وجہ ڈسٹریبوشن ٹرمنلز سے فیول کی ترسیل کے مسائل ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق پیٹرول کی قلت ہونے کے بعد ڈرائیورز نے گھبرا کر گاڑیوں کے ٹینک بھرنے شروع کر دیے ہیں، اور پیٹرول اسٹیشنوں کے باہر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں۔ٹرانسپورٹ سیکرٹری گرانٹ شیپس نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا تھا کہ صورت حال کو کنٹرول کرنے کے لیے فوج کو فیول ٹینکرز چلانے کے لیے طلب کیا جا سکتا ہے۔پیٹرول کی قلت کے حوالے سے میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ کورونا وبا اور بریگزٹ سے حالات مزید بگڑے ہیں۔ بعض وزرانے حکومت کو یورپی ممالک سے ڈرائیورز کو عارضی ویزے دے کر بلوانے کی تجویز دے دی ہے۔اسٹیشنوں پر قلت ہونے کے بعد بی پی اور ایسو نے تنبیہی نوٹس بھی جاری کیے کہ ان کے چند اسٹیشنوں پر پیٹرول اور ڈیزل کی قلت کی وجہ سے صارفین خبردار رہیں۔ٹرانسپورٹ سیکرٹری نے تردید کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ میں لاری ڈرائیورز کی کمی کی وجہ بریگزٹ نہیں ہے۔ یورپی یونین سے علاحدگی نے تو حکومت کی مدد کی ہے مسائل کے حل میں۔ برطانیہ اس بحران پر قابو پانے کے لیے عارضی طور پر ویزا ضوابط میں نرمی کرنے جا رہا ہے، تاکہ غیرملکی ڈرائیور برطانیہ میں کام کر سکیں۔ فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ڈرائیوروں کی اس کمی کے اثرات فیول سپلائی پر بھی پڑے ہیں۔ لوگوں نے حکومت کی اس ہدایت کو نظر انداز کردیا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ افراتفری میں اضافی فیول نہ خریدیں۔لوگوں کی افراتفری کی وجہ یہ تھی کہ کچھ پیٹرول اسٹیشن سپلائی نہ ہونے کے باعث بند کیے گئے۔