اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود سکھر موہن جو دڑو بن گیا ، جاوید میمن

83

سکھر( نمائندہ جسارت) سکھر ڈیولپمنٹ الائنس کے چیئرمین حاجی محمد جاویدمیمن نے کہا ہے کہ اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود سندھ کا تیسرا بڑا شہر موہن جو دڑو کا منظر پیش کر رہا ہے۔ شہر بھر میں جگہ جگہ لگے گند کچرے، غلاظت کے ڈھیر اور مسلسل مفلوج نکاسی آب کے نظام نے تاجروں اور شہریوں کی زندگی عذاب بنا دی ہے۔ سکھر شہر کے دل اہم تجارتی مرکز گھنٹہ گھر، پرانہ سکھر، قریشی گوٹھ، بیراج روڈ، سوکھا تالاب، حسینی روڈ، اسٹیشن روڈ سمیت شہر بھر میں مسلسل نکاسی نظام کی خرابی کی وجہ سے گٹروں اور نالیوں کا گندا پانی شاہراہوں پر تالاب کا منظر پیش کر رہا ہے، جس سے شہریوں، تاجروں، خریداری کے لیے آنیوالے خریداروں کو شدید پریشانی اور دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس کے باوجود شہر کے منتخب نمائندے اور انتظامیہ شہری مسائل حل کرنے کے بجائے ایوانوں کے مزے لوٹنے میں مصروف ہیں، جنہیں شہری مسائل سے کوئی بھی سروکار نہیں ہے۔ حکومت اور ارباب اختیار سندھ کے تیسرے بڑے شہر سکھر کی حالت زار کا نوٹس لیکر مفلوج نکاسی نظام کی درستگی، پینے کے صاف پانی کی فراہمی، صفائی ستھرائی کی بہتری کے لیے اقدامات اٹھائیں، بصورت دیگر اس کیخلاف بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دفتر میں ایس ڈی اے رہنمائوں مولانا عبیداللہ بھٹو، غلام مصطفی پھلپوٹو، آغا طاہر مغل، شہزادو بھٹو، محمد رضوان قادری، شاہ محمد انڈھڑ، آغا محمد اکرم درانی، حافظ محمد شریف ڈاڈا، ظہیر حسین بھٹی، شکیل قریشی، محمد منیر میمن،سید عمران شاہ، عیدن جاگیرانی، ڈاکٹر سعید اعوان، امداد جھنڈیر، وقار سومرو، کامریڈ امام الدین، نعیم بلوچ، حمید شیخ، حسن شہید، حسن قاضی، سراج احمد ، حسیب جونیجو و دیگر سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ حاجی محمد جاوید میمن و دیگر رہنمائوں کا مزید کہنا تھا کہ انتہائی افسوس کا مقام ہے سندھ کے تیسرے بڑے شہر سکھر کی ترقیاتی کاموں کے نام پر اربوں روپے کے فنڈز وصول کیے گئے لیکن آج بھی شہری پینے کے صاف پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں، جبکہ نکاسی نظام کی مسلسل خرابی کی وجہ سے گٹروں اور نالیوں کا گندا پانی شاہراہوں، تجارتی مراکز کا زینت بنا ہوا ہے۔ جس سے تجارتی سرگرمیوں کو جاری رکھنا بھی مشکل ہوگیا ہے۔ شہر کے دل گھنٹہ گھر سمیت شہر بھر میں مفلوج نکاسی نظام نے شہریوں کی زندگی عذاب بنا دی ہے۔ شہری گندے پانی سے گزر کر تجارتی مراکز جانے پر مجبور ہیں، جبکہ مساجد جانیوالے نمازیوں کو بھی نماز کی ادائیگی میں شدید پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر کے منتخب نمائندے اور انتظامیہ شہریوں کو لاوارث چھوڑ کر ایوانوں میں مزے لوٹنے اور کاغذی کارروائی میں ترقیاتی کام دیکھا کر فنڈز ہڑپ کرنے میں مصروف ہیں، جن کیخلاف کسی بھی قسم کی کارروائی نہ ہونا سمجھ سے بالاتر ہے۔ انہوں نے حکومت اور تحقیقاتی اداروں سے مطالبہ کیا کہ سندھ کے تیسرے بڑے شہر سکھر کے بڑھتے ہوئے مسائل کا نوٹس لیکر ہنگامی بنیاد پر مسائل کے حل کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں اور ترقیاتی کاموں کے نام پر ہونیوالی لوٹ مار کی شفاف تحقیقات کر کے اس میںملوث افراد کیخلاف کاررروائی کر کے خورد برد کردہ رقم برآمد کر کے شہر کے ترقیاتی کاموں پر لگائی جائے تاکہ شہریوں کے بڑھتے ہوئے بنیادی مسائل حل ہوسکیں۔