یہ صرف کرکٹ کا معاملہ نہیں ہے

236

اور میرے رب کا وہی فرمان، وہی آب دار موتی جن کی قیمت سے ہم آگاہ نہیں: ’’یہود ونصاریٰ تم سے ہرگز راضی نہ ہوں گے جب تک تم ان کے طریقے پر نہ چلنے لگو (البقرہ: 120)‘‘۔
جب طالبان کابل فتح کرچکے تھے، تھکن زدہ امریکیوں کو سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کس طرح بحفاظت کابل سے نکلیں تب گزشتہ مہینے پاکستان ایک محفوظ ملک تھا جب افغانستان سے آنے والے ہزاروں غیر ملکیوں کے لیے اسلام آباد کے تمام ہوٹل 21دن کے لیے خالی کروا لیے گئے تھے۔ ان غیر ملکیوں میں سے بیش تر اعلیٰ عہدیدار تھے۔ تب کسی کو یاد نہیں رہا کہ پاکستان میں امن وامان کی صورتحال بہتر نہیں ہے۔ امریکا سمیت تمام متعلقہ ممالک پاکستان کا شکریہ ادا کررہے تھے۔ پھر اگلے ہی مہینے یکا یک کیا ہوگیا کہ نیوزی لینڈ جیسے چھوٹے اور غیراہم ملک کے کھلاڑیوں کے لیے بھی پاکستان محفوظ ملک نہیں رہا؟
پاکستان کے پاس دنیا کی بہترین فوج ہے۔ نجانے کون کون سے میزائل اور ایٹمی صلاحیت ہے لیکن ہمارے حکمرانوں میں خودداری نہیں ہے۔ عزت کا احساس نہیں ہے۔ ہمیں خطرات دشمنوں سے نہیں اپنے حکمرانوں سے ہیں، محافظان ملت سے ہیں جن کی کوئی اخلاقیات نہیں ہیں۔ ہماری اکیڈمیز میں، سیاست کے میدانوں میں سب کچھ پڑھایا جاتا ہے لگتا ہے کردار کی مضبوطی، غیرت وحمیت کے اسباق نہیں پڑھائے جاتے۔ ڈیگال نے کہا تھا ’’میں جتنا انسانوں کے بارے میں جانتا ہوں مجھے اتنے ہی کتے اچھے لگتے ہیں‘‘۔ یہی بات پاکستان کے حکمرانوں کے حوالے سے بھی کہی جاسکتی ہے۔ کتا جس کا وفادار ہوتا ہے جی جان سے وفادار ہوتا ہے لیکن یہ حکمران جو اس ملک کی ہڈیوں کو بھی چچوڑ رہے ہیں اتنے بھی اس، ملک کے وفادار نہیں۔ ملک کی بے عزتی سے ان کی پیشانیوں پر ندامت کے قطرے نہیں ٹپکتے۔ ایسے میں کون آپ کو وقعت دے گا؟ اگر معاملہ بھارت کا ہوتا، ایک نہیں دس دھمکی آمیز ای میلز موصول ہوجاتیں، نیوزی لینڈ کو ایسا سوچنے کا بھی حوصلہ ہوتا؟
کرکٹ ٹیم کی واپسی کے فیصلے پر وزیراعظم عمران خان نے نیوزی لینڈ کی وزیراعظم سے رابطہ کیا اور انہیں یقین دلایا کہ ’’پاکستان میں نیوزی لینڈ کی ٹیم کو فول پروف سیکورٹی میسر ہے اور پی سی بی کے مطابق خود نیوزی لینڈ کی سیکورٹی نے پاکستان کی سیکورٹی انتظامات پر اطمینان کا اظہارکیا ہے‘‘۔ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے ہمارے وزیراعظم کی یقین دہانی سے زیادہ سنگاپور سے جاری ایک ادھوری ای میل پر اعتماد کیا جو 18ستمبر کو صبح ساڑھے چھ بجے نیوزی لینڈ کے وقت کے مطابق انہیں موصول ہوئی۔ یہ اطلاع بھی انٹرپول نے دی۔ نیوزی لینڈ نے تو ہمیں آگاہ کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی۔ 22ستمبر کو ٹیم کے انخلا کے چاردن بعد پاکستان کو آگاہ کیا گیا کہ یہ ای میل تھی جس کی وجہ سے ہم نے ٹیم واپس بلائی۔ اس بے عزتی پر ہم نے نیوزی لینڈ کے خلاف اب تک کیا کیا؟ پچھلے ہفتے آسٹریلیا نے فرانس کے ساتھ آبدوزوں کی خریداری کا معاہدہ ختم کرکے امریکا سے ڈیل کرلی۔ فرانس نے اس ڈیل کے ختم ہونے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا اور امریکا اور آسٹریلیا سے اپنے سفیر واپس بلا لیے۔ یہ ایک تجارتی معاہدے پر فرانس کا ردعمل ہے جس میں قومی غیرت وحمیت کا کوئی پہلو نہیں تھا۔ رسالت مآبؐ کی توہین پر فرانسیسی سفیر کو ملک سے نکالنا پوری قوم کا مطالبہ ہی نہیں ہر مسلمان کی غیرت وحمیت کا تقاضا ہے لیکن ہمارے حکمران اس توہین پر ذرا بھی پریشان نہیں۔ ان کے بیمار قلوب، ان کے ضمیر، ہمارے طرف ہوکا عالم ہے اگر آواز اٹھتی ہے تو یہ کہ معیشت تباہ ہوجائے گی، ہم دنیا سے کٹ کر زندہ نہیں رہ سکتے۔ یہ فکری غلامی کی بدترین مثال ہے۔ فکری غلامی! جس میں پائوں میں بندھی زنجیر بھی پازیب نظر آتی ہے۔
حکمرانوں کی تان یہاں آکر ٹوٹ رہی ہے کہ ’’پاکستان یہ معاملہ آئی سی سی میں لے کر جائے گا‘‘۔ وہاں کیا ہوگا؟ کچھ بھی نہیں۔ آئی سی سی بورڈ کے چیئرمین کا تعلق نیوزی لینڈ سے ہے۔ آئی سی سی کیا کہے گی سوائے اس کے کہ دونوں ممالک باہمی طور پراس مسئلے کو حل کرلیں۔ حد سے حد یہ ہوگا چیئرمین صاحب اپنے طور پر اس جھگڑے کو نمٹانے کی کوشش کریں گے۔ پاکستان سے رسمی نوعیت کا افسوس کا اظہار کیا جائے گا، عالمی کرکٹ کے زیاں کی بات کی جائے گی۔ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی میں بورڈ کے مثبت کردارکا حوالہ دیا جائے گا۔ آعندلیب مل کے کریں آہ وزاریاں والا منظر ہوگا لیکن عملی طور پر کچھ نہیں کیا جائے گا۔ ساتھ ہی یہ احساس بھی دلادیا جائے گا کہ نیوزی لینڈ کا فیصلہ درست تھا۔ آپ کا ملک ایک نارمل ملک تو نہیں ہے نا، دہشت گردی کے واقعات تو وہاں ہوتے ہی رہتے ہیں بہرحال ہمیں افسوس ہے؟ ٹائیں ٹائیں فش
ہماری قومی زندگی کے ستر سے زائد برس دریا میں بہہ گئے لیکن ہماری سول اور فوجی قیادت نے ماضی کے تلخ تجربات سے کچھ نہیں سیکھا؟ اس کائنات میں کچھ چیزیں تبدیل ہونے کے لیے نہیں ہیں۔ جن میں سے ایک پاکستان کے حکمران ہیں۔ 1965 کی جنگ میں ہم امریکی کیمپ میں تھے جب کہ بھارت امریکا مخالف سوویت یونین کیمپ میں لیکن امریکا نے کس کا ساتھ دیا۔ امریکا نے بظاہر یکساں سلوک کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان اور ہندوستان دونوں پر اسلحہ کی پابندی عائد کردی جس کا فائدہ بھارت کو اور نقصان پاکستان کو پہنچا کیو نکہ بھارت کو سوویت یونین سے تو برابر اسلحہ ملتا رہا۔ 1971 میں امریکا نے پاکستان کی مدد کے لیے ساتواں بحری بیڑہ بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔ وہ بحری بیڑہ آج تک پاکستان نہیں پہنچا۔ افغانستان میں سوویت یونین کے داخلے کے بعد یہ پاکستان ہی تھا جس کی وجہ سے سوویت یونین کو شکست ہوئی اور امریکا دنیا کی واحد سپر پاور قرار پایا۔ لیکن جیسے ہی فتح ملی امریکا کا پاکستان کے ساتھ سلوک بدترین دشمنوں سے بڑھ کر تھا۔ بھارت نے ایٹمی دھماکے کیے امریکا نے کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا جواب میں پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیے تب امریکا نے دونوں ممالک پر پابندیاں عائد کیں جن کا نقصان بہر حال پاکستان ہی کو پہنچنا تھا۔ نائن الیون کے بعد موقع تھا جب پاکستان امریکا کو اس کے سابقہ رویہ یاد دلاتے ہوئے بدلے میں بہت کچھ حاصل کرسکتا تھا لیکن کتوں جیسی وفاداری ہمارے حکمرانوں کے خون میں شامل ہے۔ امریکا نے ذرا پچکارا اور وہ قدموں میں لوٹنے لگے۔ گزشتہ 74برس سے بھارت نے کسی بھی علاقائی اور عالمی مسئلے میں امریکا کا پاکستان کی طرح ساتھ نہیں دیا لیکن اس کے باوجود امریکا اور مغرب بھارت کا دوست اور پاکستان کا بدترین دشمن ہے۔
دنیا میں جو استعماری نظام رائج ہے اس میں عالم کفر ایک طرف ہے اور عالم اسلام دوسری طرف۔ کھیلوں سے لے کر عالمی سیاست اور معیشت تک مغرب کا ہر ملک اسلامی ممالک کے بارے میں شدید انتہا پسندانہ اور متعصب سوچ رکھتا ہے اور ذلیل کرنے کے بہانے ڈھونڈتا ہے۔ ریمنڈ ڈیوس، ایبٹ آباد اور سلالہ امریکیوں نے کہاں کہاں ہماری توہین نہیں کی، کہاں کہاں ہمارے شہریوں کو قتل نہیں کیا لیکن ہمارے حکمرنوں کی آنکھیں نہیں کھلتیں۔ نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ نیوزی لینڈ جیسے چھوٹے سے ملک نے جس سے کبھی ہماری کوئی ناراضی نہیں اس نے بھی ہمیں ذلیل کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ ہم نجانے کس کس طرح آئی ایم ایف سے لے کر ایف اے ٹی ایف تک مغرب کے پیمانوں پر اترنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دینی اور قومی غیرت وحمیت کو پیچھے ڈال کر عالم کفر کے تلوے چاٹتے ہیں اس امید پر کہ شاید اب وہ ہم سے راضی ہوجائیں لیکن رب کا وہی فرمان، وہ آب دار موتی جن کی قیمت سے ہم آگاہ نہیں، کسی کو یاد نہیں رہتے: ’’یہود ونصاریٰ تم سے ہرگز راضی نہ ہوں گے جب تک تم ان کے طریقے پر نہ چلنے لگو (البقرہ: 120)‘‘۔