سی پیک: گیم چینجر بدانتظامی اور نااہلی کا شکار

338

چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور جسے مختصراً سی پیک (CPEC) بھی کہا جاتا ہے سال 2005ء میں بڑے بڑے دعوئوں، خوش خبریوں، امیدوں اور اعلانات کے ساتھ پورے ملک میں اس کا غلغلہ ہوا کہ یہ ایک گیم چینجر (Game Changer) منصوبہ ہے جس سے ملک کی قسمت بدل جائے گی۔ تجارت، معیشت، زراعت، سیاحت اور انفرا اسٹرکچر کا نقشہ ہی تبدیل ہوجائے گا، پاکستان ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہوگا، وسط ایشیا، مشرقی ایشیا اور چین کا اپنی جغرافیائی پوزیشن کی وجہ سے مرکز تجارت بن جائے گا، سڑکوں، ہائی ویز اور موٹر ویز کا جال بچھ جائے گا، بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم ہوجائے گی، ملک میں ایک صنعتی دور کا آغاز ہوگا، بیرونی سرمایہ کاری کے باعث لاکھوں روزگار کے مواقعے پیدا ہوں گے۔ اس زمانے میں سی پیک پر سیمینارز، مذاکرے، مباحثے اور اجلاس ہورہے تھے، پرنٹ میڈیا پر کالم نویسوں اور خبروں کا یہی موضوع تھا۔ مشرقی، مغربی اور وسطی کوریڈور پر خبریں آرہی تھیں، گوادر پورٹ اور شہر بہت زیادہ اہمیت اختیار کرگئے تھے۔
پھر معلوم نہیں کیا ہوا۔ سی پیک منصوبے پس منظر میں چلے گئے۔ نہ کوئی خبر اور نہ کوئی اعلان اور نہ کسی منصوبے کا افتتاح۔ پھر اچانک دو ہفتے پہلے سینیٹ کی ایک اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے چینی سفیر کے حوالے سے یہ خبر دی کہ تین سال سے سی پیک پر کوئی کام نہیں ہوا۔ اس خبر کے آتے ہی حکومتی ایوانوں میں ایک تہلکہ مچ گیا۔ وفاقی وزیر برائے ترقی اور منصوبہ بندی نے ایک پریس کانفرنس کرکے اس تاثر کو مسترد کردیا اور مشورہ دیا کہ سیاستدانوں کو ایسے معاملات میں ذمے دارانہ بیان دینا چاہیے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سی پیک خالد منصور نے پہلے اعتراف کیا کہ تین سال میں کچھ نہیں ہوا لیکن بعد میں انہوں نے اس تاثر کی نفی کردی۔
حقیقت یہ ہے کہ 2018ء کے بعد سی پیک منصوبے سست روی اور عدم توجہی کا شکار تھے اور اس سلسلے میں چینی حکام اپنی تشویش اور شکایت سے پاکستانی متعلقہ افسران کو آگاہ کرتے رہے تھے جن میں پالیسیوں کا عدم تسلسل، پاکستانی لیبر کی غیر معیاری کارکردگی، زمین کی لاگت، گوادر سٹی اور اسپیشل اکنامک زونز کو بنیادی سہولتوں کی عدم فراہمی اور چینی کمپنیوں کے قرض کے واجبات کی عدم ادائیگی جیسے معاملات شامل تھے۔ اس پر مزید یہ کہ 14 جولائی کو داسو ہائیڈرو پروجیکٹ کے لیے جانے والی بس پر دہشت گردوں کا حملہ جس میں 9 چینی شہری بھی ہلاک ہوئے جس نے چینی افسران و مزدوروں کی سیکورٹی پر سوال کھڑا کردیا۔ چینی حکام نے اس پر شدید غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے 16 جولائی کو ہونے والی جوائنٹ کوآپریشن کمیٹی کی دسویں میٹنگ ملتوی کردی جو سی پیک معاملات پر غور و خوص اور منصوبہ بندی کے لیے سب سے اہم فورم ہے، یہ اجلاس ڈیڑھ سال بعد ہورہا تھا۔ اس سے پہلے چینی حکام سی پیک میں موجود کراچی تا پشاور ریلوے لائن کی بہتری (ML-1) کے منصوبے میں 6 ارب ڈالر کے قرضے میں عدم دلچسپی ظاہر کرچکے ہیں۔
موجودہ صورت حال میں سی پیک کے حالات کو بہتر کرنے کے لیے حکومت نے کچھ سرگرمی دکھائی ہے۔ چینی سرمایہ کاروں کے قرضوں کی ادائیگی میں کچھ پیش رفت نظر آرہی ہے۔ سیکورٹی میں بہتری کے لیے بھی اقدامات کیے جارہے ہیں۔ سی پیک کا پہلا مرحلہ 2015ء سے 2020ء تک جاری رہا جس میں توانائی اور انفرا اسٹرکچر پر توجہ دی گئی۔ اس مرحلے میں 53 ارب ڈالر کے منصوبے تھے۔ ساڑھے تین ہزار میگاواٹ بجلی کے منصوبے (ن) لیگ کی حکومت میں مکمل کیے گئے، جب کہ 5846 میگاواٹ کے منصوبے موجودہ حکومت میں پایہ تکمیل کو پہنچ چکے ہیں۔ اس طرح چار سو کلو میٹر طوالت کی سڑکیں اور ہائی ویز پچھلی حکومت اور 413 کلو میٹر کی سڑکیں گزشتہ تین سال میں تعمیر کی جاچکی ہیں۔
سی پیک کا دوسرا مرحلہ 2021ء سے 2025ء تک ہے جس میں صنعتی تعاون اور سماجی و معاشی ترقی جیسے پہلو زیادہ اہم ہیں۔ صنعتی تعاون میں ٹیکسٹائل، پٹروکیمیکل، آئرن، اسٹیل اور معدنیات شامل ہیں جس کے لیے نو اسپیشل اکنامک زونز سی پیک میں شامل ہیں۔ اب تک 2 کا افتتاح کیا جاچکا ہے۔ حکومت کی ذمے داری ہے کہ جلد از جلد تمام اکنامک زون قائم کرے اور اُن میں تمام بنیادی سہولتیں فراہم کرے تاکہ سی پیک کا اصل خواب پورا ہو۔