!حکمرانوں کا ورلڈ مافیا

221

ہمیشہ ہی سے عالمی سیاست، سفارت اور عسکری امور پر مخصوص ممالک کے حکمرانوں کا غلبہ رہا ہے۔ اب افغانستان میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کی طالبان کے ہاتھوں شکست کے بعد یہ مافیا کھیل کے میدانوں کو بھی اُجاڑنے پر اُتر آیا ہے۔ یورپ میں فٹ بال عوام کا پسندیدہ کھیل ہے، اِسی طرح کرکٹ پاکستان میں عوام کا پسندیدہ کھیل ہے۔ ذرا تصور کریں کہ یہ طاقتور حکمرانوں کا مافیا پاکستان سے کس انداز میں اپنی شکست کا بدلا لے رہا ہے، ایک ساتھ نیوزی لینڈ اور برطانیہ نے پاکستان کی سرزمین پر کرکٹ کھیلنے سے انکار کردیا ہے اور آسٹریلیا بھی یہ پالیسی اپنانے والا ہے۔ جواز کیا دیا گیا ہے کہ پاکستان میں سیکورٹی کے مسائل ہیں۔ دوسری جانب سفارتی سطح پر برطانیہ نے پاکستان میں اپنے ہائی کمشنر کی سطح پر جو پالیسی بیان دیا ہے اس کے مطابق یہ کہنا کہ ہمارے کھلاڑی تھک چکے ہیں، بہت ہی تھکا ہوا جواب ہے اور پھر یہ بھی کہنا کہ برطانیہ نے کوئی سیکورٹی ایڈوائز جاری نہیں کی۔ اس طرح کی سفارت کاری دہرے معیار کا کھلا مظاہرہ ہے۔ لاکھوں کی تعداد میں پاکستانی تارکین وطن برطانیہ میں مقیم ہیں وہ فٹ بال اور کرکٹ جیسے کھیل سے اتنا ہی لگائو رکھتے ہیں جتنا کہ برطانوی گورے۔ عوامی سطح پر لوگوں کا ردعمل دیکھنے میں آرہا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ آج پاکستان کا وزیراعظم خود کھلاڑی ہے۔ عمران خان نے اپنی زندگی کا لمبا عرصہ برطانیہ میں گزارا، برطانیہ کے کرکٹ کے میدانوں میں طویل عرصے تک کرکٹ کھیلی اور اپنی تعلیم بھی اسی سرزمین پر رہ کر حاصل کی۔ کیا یہ تصور کیا جاسکتا ہے کہ عمران خان بطور وزیراعظم کسی قسم کے سیکورٹی تھریٹ سے باخبر نہ ہوں اور وہ اس ضمن میں کھلاڑیوں کی مکمل حفاظت اور باکس سیکورٹی فراہم کرنے کے لیے خصوصی ہدایت نامہ سیکورٹی کے اداروں کو جاری نہ کرتے ہوں گے۔ دراصل یہ تمام کی تمام کرکٹ ڈپلومیسی اس ’’نئی گیم‘‘ کا حصہ ہے جو امریکا اس خطے میں بھارت کو اپنے ساتھ ملا کر پاکستان کو دنیائے کرکٹ سے باہر نکالنے کی سازش کروا رہا ہے۔ ماضی میں افغانستان میں بھارت نے جو کردار ادا کیا یہ سب کے سامنے ہے۔ بھارتی قونصل خانے افغان سرزمین پر پاکستان میں دہشت گردی کروانے اور بلوچستان میں دراندازی کے لیے استعمال ہوتے رہے ہیں، پاکستان کے علٰیحدگی پسندوں کو بھاری سرمایہ کی فراہمی ہوتی رہی، امریکی سی آئی اے، بھارتی ’را‘ اور اسرائیلی ’موساد‘ مل کر پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں مصروف رہی، اب آنے والے دنوں میں بات صرف کرکٹ کے کھیل تک محدود نہیں رہے گی یہ پاکستان کو معاشی طور پر دیوالیہ کرنے کی بھی بھرپور کوشش ہوگی۔
وزیراعظم عمران خان نے پاکستان میں سیاحت کے فروغ کے لیے جو منصوبہ تیار کیا ہے اسے بھی ناکام بنانے کی ہر ممکن کوشش اس طرح کی جائے گی کہ پاکستان کو دنیا میں غیر محفوظ ملک قرار دے کر پاکستان کے سیاحتی مقامات کو ویران کردیا جائے۔ حالاں کہ ابھی حال ہی میں خود امریکی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کو محفوظ مملکت قرار دیا گیا ہے اور امریکی اور برطانوی سیاحوں کے علاوہ دیگر یورپی ممالک کے سیاحوں کی پاکستان میں گہری دلچسپی کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے۔ ایک ریکارڈ سطح پر کورونا وبا کے وقت بھی ان کی آمد پاکستان میں رہی ہے۔ امریکا اور برطانیہ کے اپنے فوجیوں کی حالت یہ ہے کہ جن فوجیوں نے عراق، افغانستان اور لیبیا میں فوجی مشن میں حصہ لیا ہے وہ اپنی حکومتوں کی جارحانہ پالیسی کے خلاف احتجاج کرتے رہے ہیں اور وہ ان ممالک میں ہونے والی انسانیت سوز فوجی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے عوام کے ساتھ عوامی سطح پر ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں اپنے فوجی میڈلز تک واپس کرتے رہے ہیں۔ اسی قسم کا رویہ ارکان پارلیمنٹ اور بعض وزرا کا بھی ہے جو برابر اِن فوجیوں کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ 9/11 کمیشن رپورٹ کے وائس چیئرمین LEE HAMILTON کے اپنے الفاظ میں کہ:
“I Don’t Believe For A Minute That We Got Everything Right. We Wrote A First Draft Of History”
اصل حقیقت یہ ہے کہ اس وقت پوری دنیا میں حکمرانوں کا ایک مخصوص کلب ہے جو ورلڈ مافیا کی حیثیت اختیار کرگیا ہے، ان کے عزائم مسلم اُمہ کے خلاف ہیں، چند ایک مسلم حکمران جو بادشاہت کی شکل میں عوام پر حکمرانی کرتے ہیں اور امریکا ان کی بھرپور پشت پناہی بھی کرتا ہے اور ان کے اقتدار کو برقرار رکھنے میں ہر طرح کی عملی امداد بھی فراہم کرتا ہے اور ساتھ ہی ان ممالک کے تیل کے ذخائر پر بھی اپنا اثرو رسوخ جمائے ہوئے ہے۔ اس کے علاوہ ان کی سرزمین پر امریکی فوجی اڈے بھی قائم ہیں۔ دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ ان فوجی اڈوں کے تمام اخراجات خود مسلم ممالک ہی ادا کرتے ہیں۔ مثلاً سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، اومان، قطر، بحرین اور کویت میں ان امریکی فوجی اڈوں کے اخراجات ان ممالک کے شاہی حکمران ادا کرتے ہیں۔ پاکستان کی حیثیت ان ممالک کی نسبت اس بنا پر مختلف ہے کہ ایک تو مملکت پاکستان واحد اسلامی مملکت ہے جو ایٹمی قوت کی حامل ہے، یہ ایٹمی قوت کا ہونا بھی حکمرانوں کے ورلڈ مافیا کو کسی صورت میں بھی قبول نہیں ہے۔ اب پاکستان کا اپنے پڑوسی ملک افغانستان میں امن اور استحکام کے لیے کردار بھی ان قوتوں کو ناگوار گزارا ہے۔ کسی صورت میں بھی خطے میں چین کی سرمایہ کاری اور پاکستان کا اس سرمایہ کاری میں شامل ہونا بھی مغربی قوتوں کو پسند نہیں ہے۔ کرکٹ، سیاست، سفارت اور معیشت پر ایک ساتھ حکمرانوں کا ورلڈ مافیا اپنا تسلط چاہتا ہے اب چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔