مہنگائی کا طوفان… عوام سراپا احتجاج

150

عمران خان کی حکومت ’’تبدیلی‘‘ کے نعرے کے ذریعے وجود میں آئی ہے، اور اب اس کے جانے کا وقت بھی زیادہ دور نہیں۔ لوگوں کو توقع تھی کہ تبدیلی کے نعرے والی حکومت میں ان کی زندگی تبدیل ہوگی اور حالات بھی بہتر ہوں گے۔ لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ اس وقت عوام بدحال اور پریشان ہیں، کم آمدنی والے گھرانے کے لیے زندگی گزارنا انتہائی مشکل ہوتا جارہا ہے۔ ڈالر کی قیمت 170.40روپے پر پہنچ گئی ہے۔ عمران خان کی حکومت میں.. خاص طور پر جب وہ سب ٹھیک ہورہا ہے کا بار بار اعلان کررہے ہیں.. گزشتہ ایک سال کے دوران مہنگائی میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ ادارئہ شماریات کے مطابق صرف ایک ہفتے میں 20اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ مہنگائی کی مجموعی سالانہ شرح 14.33فی صد پر پہنچ گئی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 57.14 فی صد اضافہ ہوا۔ زندہ مرغی کی قیمت 125 سے 210 روپے فی کلو ہوگئی ہے۔ 2018ء میں بکرے کا گوشت کم از کم 700 روپے فی کلو اور زیادہ سے زیادہ 800 روپے فی کلو رہا، جو اَب 1250 روپے فی کلو فروخت ہورہا ہے۔ 2018ء میں گائے کا گوشت ہڈی والا 480 روپے فی کلو اور بغیر ہڈی والا 550 روپے فی کلو تھا، جو آج بالترتیب 650 روپے اور 750 روپے فی کلو فروخت ہورہا ہے۔ 2018ء میں انڈے کے کم سے کم نرخ 80 سے 90 روپے فی درجن اور سردی کے دنوں میں 110 سے 120 روپے فی درجن تھے، جبکہ آج 180 روپے فی درجن فروخت ہورہے ہیں۔ دیگر اشیائے خور ونوش کی قیمتوں میں بھی ہوشربا اضافہ ہوا۔ گھی اور کوکنگ آئل کی قیمت 360 روپے فی کلو ہوگئی ہے۔ اسی طرح 5 کلو گھی کی قیمت صرف ایک دن میں 55 روپے اضافے کے بعد 1 ہزار 805 روپے پر پہنچ گئی ہے۔ اس وقت کوئی ایسی چیز نہیں جس کی قیمت میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ نہ ہوتا ہو۔ ایسا لگتا ہے کہ ملک میں مافیاز کی حکومت ہے۔ یہ کبھی چینی اور کبھی آٹے کا بحران پیدا کرتے ہیں۔ وزیراعظم نوٹس لیتے ہیں، کچھ دن ٹی وی ٹاک شوز میں تماشا لگتا ہے، لیکن ان اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ برقرار ہی رہتا ہے۔ کورونا کی وجہ سے پہلے ہی لوگوںکی معیشت تباہ ہے، بے روزگاری کی وجہ سے غریب آدمی کو اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ اچھے اچھوں کی قوتِ خرید ختم ہوگئی ہے۔ خوشحال بدحال ہیں اور احتجاج پر مجبور ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کی ترجیحات کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اُن کے نزدیک اس وقت سب سے بڑا مسئلہ فیک نیوز اور پروپیگنڈا ہے۔ بدقسمتی سے اس صورتِ حال میں اپوزیشن کا کوئی کردار نہیں ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس ہوشربا مہنگائی کے خلاف پورے ملک میں ایک بڑی تحریک چلتی اور احتجاج ہوتا، جس میں تمام سیاسی جماعتوں کا حصہ ہوتا۔ تاہم ایسا لگتا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ کوئی ’’این آر او‘‘ ہوچکا ہے، یہی وجہ ہے کہ بات صرف رسمی بیانات تک ہی محدود رہتی ہے، لیکن ایسے میں جماعت اسلامی عوام کی ترجمان بنی ہوئی ہے، اور عوام کے دکھ درد کو محسوس کرتے ہوئے ان کے لیے میدان میں ہے۔ اسی تسلسل میں امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کی اپیل پر ملک میں کمر توڑ مہنگائی و بے روزگاری کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک جاری ہے۔ اس سلسلے میں جمعہ کے روز بھی کراچی سمیت پورے ملک میں احتجاج ہوا۔ اس دوران سراج الحق نے درست کہا کہ ’’مفادات کے اسیر اور محلات کے مقیم حکمران عوامی مسائل کے ادراک اور انھیں حل کرنے کی صلاحیت سے عاری ہیں۔ وزیراعظم بتائیں ایک کروڑ نوکریاں کس کو دیں؟ اور پچاس لاکھ گھر کہاں تعمیر کیے؟ مدینہ کی ریاست کدھر ہے اور تبدیلی کے نعروں کا کیا بنا؟ حیران ہوں کہ ڈھٹائی سے مسلسل جھوٹ بولنے والوں کو شرم کیوں نہیں آتی!‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ’’عوام مہنگائی کا مزید بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔ حکومت قوم کو مزید امتحان میں مبتلا نہ کرے۔ معیشت کو سود سے پاک اور آئی ایم ایف سے چھٹکارا دلائے بغیر چارہ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پی ٹی آئی اور سابقہ حکومتوں کی پالیسیوں اور اقدامات میں کوئی فرق نہیں۔ وزیراعظم نے قوم کو ریاست مدینہ کے نام پر دھوکا دیا ہے۔ حکمرانوں کا سارا زور آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی اداروں سے بھیک مانگنے پر ہے‘‘۔ سراج الحق کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ آج 3 سال بعد ملک 30 سال پیچھے چلا گیا ہے۔ اس وقت حکومت کی ترقی کا پہیہ الٹا چل رہا ہے۔
ہمارے وزیراعظم جب اقتدار میں نہیں آئے تھے تو کہا کرتے تھے کہ جب پٹرول کی قیمت بڑھ جائے تو اس کا مطلب ہے کہ ملک کا وزیراعظم اور وزیر خزانہ چور ہیں۔ وزیراعظم یہ بھی کہا کرتے تھے کہ ڈالر کی قیمت بڑھنے سے قرضوں کی رقم میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ پی ٹی آئی کے حکومت میں آنے کے بعد تین سال میں مہنگائی میں جتنا اضافہ ہوا ہے وہ گزشتہ دس سال میں بھی نہیں ہوا۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارے اوپر ہمیشہ ایسے حکمراں مسلط رہے ہیں جن کو عوام اور ان کے حقوق سے کبھی دلچسپی نہیں رہی، یہی وجہ ہے کہ قدرتی وسائل سے مالامال ہونے کے باوجود پاکستان کے عوام بھوک، فاقہ کشی، بے روزگاری اور مہنگائی جیسے عذاب کا شکار ہیں، اور یہ عذاب اُسی وقت ختم ہوسکتا ہے جب اس ملک میں اہل اور ایمان دار لوگ حکمراں بنیں۔ اور یہ کسی بڑے عوامی انقلاب اور تحریک کے نتیجے ہی میں ممکن ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے عوام کو راستہ دکھاتے ہوئے کہا ہے کہ ’’وہ سرمایہ داروں، وڈیروں، چودھریوں، جاگیرداروں کو آئندہ الیکشن میں مسترد کردیں، ہم اپنے آپ کو قوم کے سامنے بہتر نعم البدل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ وعدہ کرتا ہوں کہ اللہ کی تائید و نصرت اور لوگوں کے اعتماد سے ملک کو ترقی کے راستے پر ڈالیں گے‘‘۔