بارش کے بعد ڈینگی کے مرض میں اضافہ

120

کراچی میں ایک بار پھر بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ دنوں پورے شہر میں مختلف اوقات میں ہلکی اور تیز بارش ہوئی جس کے بعد تمام حکومتی دعووں کے برعکس جگہ جگہ پانی جمع نظر آتا ہے، جس نے انتظامی اداروں کی کارکردگی ایک بار پھر عیاں کردی ہے۔ بارشوں کے بعد گلی، محلوں، بازاروں میں کئی دنوں تک کھڑا ہوا پانی کئی بیماریوں کا باعث بنتا ہے اور بن رہا ہے۔ دیگر بیماریوں کے علاوہ بارشوں کے بعد کراچی میں ڈینگی کے کیسز میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور ستمبر کے پہلے 20 دنوں میں ڈینگی کے77 کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ محکمہ صحت سندھ کے مطابق سندھ میں رواں سال اگست تک ڈینگی کے 1365 کیس رپورٹ ہوئے، ڈینگی کے باعث اب تک 4 اموات ہوچکی ہیں۔ محکمہ موسمیات نے 27 ستمبر سے شہرِ قائد سمیت سندھ کے مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے موسلادھار بارشوں کی پیش گوئی کی ہے، جس کا مطلب ہے کہ بارش کا پانی جگہ جگہ جمع ہوگا۔ ماہرین کے مطابق پاکستان اور پوری دنیا میں ڈینگی پھیلانے والا مچھر ایڈیز ایجپٹی ہے، اور دھبے دار جِلد والا یہ مچھر پاکستان میں مون سون کی بارشوں کے بعد ستمبر سے لے کر دسمبر تک ہی موجود رہتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ڈینگی کے مرض سے بچائو کے لیے سب سے اہم چیز یہ ہے کہ کسی بھی جگہ پانی جمع نہ ہونے دیا جائے۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ سندھ حکومت ایسے عملی اقدامات کرے جس سے پانی کہیںکھڑا نہ ہو، اور مچھروں کی افزائش کا باعث نہ بنے، اور اگر کہیں پانی جمع ہو تو اسے فوراً نکال کر وہاں اسپرے کیا جائے، کیونکہ اگر مچھروں کی افزائش کا ماحول ہی ختم کردیا جائے تو اس مرض کا خاتمہ ممکن ہے۔