پردے کے رحجان میں اضافے کی وجہ خواتین میں شعور بیدار ہونا ہے

166

لاہور (رپورٹ: حامد ریاض ڈوگر) اہل فکر و دانش نے اس امر میں اختلاف کیا ہے کہ معاشرے میں پردے کا رجحان بڑھ رہا ہے تاہم اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ اگر واقعی پردہ خواتین میں فروغ پا رہا ہے تو اس کی وجہ معاشرے میں دین اور مذہب سے لوگوں کا لگائو ہی ہے ’’جسارت‘‘ کے اس سوال کہ کیا خواتین میں پردے کا بڑھتا ہوا رجحان معاشرے کے زیادہ مذہبی ہونے کا نتیجہ ہے ؟کے جواب میں اسلامی نظریاتی کونسل اور قومی اسمبلی کی سابق رکن سمیحہ راحیل قاضی، روزنامہ نوائے وقت کے اداریہ نویس، ممتاز کالم نگار اور شاعر سعید آسی اور پروفیسر ڈاکٹر اختر عزمی نے اظہار خیال کیا جماعت اسلامی شعبہ خواتین کی مرکزی رہنما محترمہ سمیحہ راحیل قاضی نے جسارت کے استفسار پر بتایا کہ خواتین میں پردے کے رجحان میں اضافہ کی وجہ یہ ہے کہ ان میں شعور اور آگہی بڑھ رہی ہے اور معاشرے کا متوسط طبقہ دینی اقدار کی جانب لوٹ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برائی کے اپنے عروج پر پہنچنے کے بعد انسان اپنی فطرت کی جانب پلٹتا ہے، الحمد للہ ہمارے معاشرے میں متوسط اور پڑھے لکھے طبقے میں خیر زیادہ ہے یہ طبقہ احساس رکھتا ہے کہ ساتر لباس عورت کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتا ہے معاشرے میں ساتر لباس میں بچیوں کی عزت، وقار اور احترام میں اضافہ ہوتا ہے یہ بات تجربے نے بھی لوگوں کو سمجھائی ہے کہ دین کی تعلیمات کے مطابق عورت جتنی مستور ہو گی اس کی قدر، عزت، وقار اور اعتبار بڑھے گا چنانچہ خواتین اپنی آزاد مرضی اور خوشی سے کسی جبر کے بغیر دین کے بتائے ہوئے پردہ اور حجاب کے احکام پر عمل کر رہی ہیں۔ روزنامہ نوائے وقت کے اداریہ نویس، ممتاز کالم نگار اور معروف شاعر سعید آسی نے ’جسارت‘سے گفت گو کرتے ہوئے کہا کہ میری رائے میں پردے اور حجاب کا جو تصور اسلام نے ہمیں دیا ہے اس سے صرف خواتین ہی نہیں پورا معاشرہ محفوظ ہوتا ہے اور جرائم میں کمی ہوتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں خواتین میں دین کی جانب رجحان اور پردہ اختیار کرنے پر از خود آمادگی معاشرے کے سدھار کی جانب اہم پیش رفت ہے یہ ان عناصر کے لیے یقینا پریشانی اور تشویش کا باعث ہو گا جو خواتین کو بے حجاب کرنا اور مہذب اسلامی معاشرے کی اقدار و تعلیمات سے دور لے جانا چاہتے ہیں اور یہاں بے مقصدیت اور بے راہروی کو فروغ دینے کے خواہاں ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر اختر عزمی نے ’جسارت‘ کے سوال کے جواب میں کہا کہ میری رائے میں تو پردہ معاشرے میں بڑھ نہیں رہا بلکہ اس کا رجحان کم ہو رہا ہے تاہم اگر کسی کی رائے میں پردے کا رجحان فروغ پا رہا ہے یا کوئی سروے خواتین میں پردے کے فروغ کی نشاندہی کرتا ہے تو واقعی یہ لوگوں کے زیادہ مذہبی ہونے کے سبب ہی ممکن ہے کیونکہ موجودہ ماحول میں اگر کوئی پردہ اختیار کرتا ہے تو یہ اس کی دین سے محبت اور اطاعت ہی کی وجہ سے ہے ورنہ آج کل تو اچھے اچھے دیندار گھرانوں کی بچیاں حجاب سے گریزاں ہیں میرے تجربہ کے مطابق کچھ لوگ شعوری طور پر حجاب کو اختیار ضرور کر رہے ہیں مگر ان کی تعداد بہت زیادہ اور قابل لحاظ نہیں۔