جب روح نے ایک لفظ کا ترجمہ سُجھایا

280

آشوری تہذیب کے بارے میں ہرمن ہلپریٹ کو لوگ حرفِ آخر کا درجہ دیتے ہیں. انہوں نے نہایت دشوار گزار راستوں و مقامات کا سفر کرکے ٹھوس اصولوں کی بنیاد پر تحقیق کی تھی اور یہ تحقیق ایک کتاب کی صورت میں شائع بھی ہوچکی ہے.

اس کتاب میں انہوں نے آشوریوں کے پاس سے ملنے والی متعدد اشیاء اور اس پر آشوری زبان میں درج باتوں کے بارے میں بھی لکھا تھا. یہ کوئی آسان کام نہیں تھا. اس معاملے میں انہییں غیرمعمولی تحقیق اور جان فشانی سے کام لینا پڑا.

ان اشیاء میں سے پتھروں کے دو ٹکڑوں پر درج ایک جملے کا ترجمہ ان سے نہیں ہوپارہا تھا. وہ اگر چاہتے تو اپنے علمی درجے کی وجہ سے کچھ بھی لکھ دیتے اور پوری دنیا اسے تسلیم کرلیتی لیکن انکی ایمانداری نے انہیں ایسا کرنے نہیں دیا.

ایک دن انہوں نے طےکرلیا کہ وہ آج ترجمہ کرکے رہیں گے. رات آگئی اور ان کی اہلیہ مسز ہرمن سونے چلی گئیں اور وہ اس کوشش میں لگے رہے. ان پر شدید نیند کا غلبہ تھا. وہ اپنے اسٹڈی روم میں پتھری ٹکڑوں کا جائزہ لے رہے تھے کہ انہیں نیند آگئی. انہیں خواب آیا جس میں وہ اپنے آپ کو قدیم بابل شہر میں پاتے ہیں. ایک دیو قامت مذہبی عالم انکے سامنے آیا اور انہیں مختلف مقامات سے گزارتے ہوئے معبد میں لے آیا. اس معبد میں رکھی ایک بڑی مورتی کے سائے میں انہیں ستون نظر آیا اور یہ وہی ستون تھا جس کے ٹکڑے ان کے پاس تھے اور اس کی تحریر کا ترجمہ کرنے کی کوشش کررہے تھے.

ہرمن سکتے کی حالت میں اس ستون کو دیکھتے رہے مگر اب بھی اس ستون پر درج جملے کا ترجمہ کرنا باقی تھا. اسی اثناء میں جو انکے ساتھ دیوقامت مذہبی عالم تھا اس نے خواب میں ہی ان محقق کو جملے ‘nebuchadnezzer’ کا ترجمہ بتادیا اور یہ ترجمہ اتنا درست تھا کہ برسوں بعد اس کی تصدیق ہوئی پائی. عام طور پر ماہرین جو اس کا ترجمہ کرتے ہیں وہ ہے، ‘نیبو! ہمارے اعمال کی حفاظر فرما’ لیکن اس کا اصل ترجمہ جو خواب میں اس مذہبی عالم نے بتایا وہ تھا، ‘نیبو! ہماری سرحدوں کی حفاظت فرما’