حیدرآباد میں بجلی کا بحران شدت اختیا ر کرگیا،شہری سراپا احتجاج

44

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) بجلی کا مصنوعی بحران شدت اختیار کردیا، کئی علاقوںمیں شہری سراپا احتجاج، بارش کی پہلی بوند گرتے ہی شہر تاریکی میں ڈوب گیا، کئی علاقوںمیں رات گئے تک بجلی بحال نہ ہوسکی۔ تفصیلات کے مطابق لطیف آباد نمبر 4 کے رہائشیوں نے مختیار پیٹرول پمپ کے قریب مرکزی سڑک بند کردی ٹائروں کو نذر آتش کرتے ہوئے احتجاج کیا۔ مظاہرین نے کہاکہ 33 دن سے ٹرانسفارمر خراب ہونے کے باعث بجلی کی فراہمی معطل ہے ، جبکہ سخت گرمی کی وجہ سے مکین سخت اذیت کا شکار ہیں کوئی پرسان حال نہیں ہے نئے ٹرانسفارمر کی منظوری کے باوجود ٹرانسفارمر نہیں لگایا جارہا جبکہ علاقے میں پانی کی قلت پیدا ہوگئی ۔ انہوںنے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر ٹرانسفارمر نصب کیاجائے بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ وسیع کیاجائے گا علاوہ ازیں کچا قلعہ کے مکینوں نے کئی روز سے بجلی کی بندش کے خلاف شاہراہ بلاک کرکے احتجاج کیا جبکہ لطیف آباد کے مختلف علاقوں لطیف آباد نمبر10، 12،مہر علی ہاؤسنگ سوسائٹی سمیت دیگر علاقوں میں بجلی کا شدید بحران ہے ۔علاوہ ازیں بارش کی پہلی بوند گرتے ہی حیسکو کے 80فیڈرز سے بجلی کی فراہمی بند ہوگئی۔ حیدرآباد میں بعد نماز جمعہ ہلکی بارش کا سلسلہ شروع ہوگیا جبکہ میرپورخاص،ٹنڈوالہیار،ٹنڈومحمد خان،جامشورو، مٹیاری اورٹنڈوآدم میں کہیں ہلکی کہیں تیز بارش کے باعث نظام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی، بارش کی وجہ سے 80 عدد 11 کے وی فیڈرز کی بجلی بند ہوگئی جبکہ حیسکو حکام کا کہنا ہے کہ بجلی احتیاطاً بند کی گئی ہے جو بارش کے بعد بحال کردی جائے گی۔ذرائع کے مطابق حیسکو حکام کے دعوئوں کے باوجودرات گئے تک بجلی کی فراہمی بحال نہ ہوسکی۔