ٹیم کی بہتری کیلیے جو کرسکتا تھا وہ کیا ،وقار یونس

111

کراچی(اسٹاف رپورٹر)پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق بولنگ کوچ وقار یونس نے کہا ہے کہ بولنگ کوچ کی حیثیت سے اس سے بہتر نہیں کر سکتا تھا۔اپنے ایک انٹرویو میںوقار یونس نے کہا کہ کوچنگ ایک تھینک لیس جاب ہے ، جب ٹیم اچھا کرتی ہے تو کریڈٹ بورڈ کو چلا جاتا ہے یا پھر کپتان کو کریڈٹ دے دیا جاتا ہے لیکن جب بھی کچھ برا ہوتا ہے تو سب کچھ کوچز پر ڈال دیا جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میرے پاس ٹین ایجر بولرز آئے، سینئرز آسٹریلیا جانے سے پہلے ریڈ بال کرکٹ سے الگ ہو گئے تھے، نوجوان بولروں کے ساتھ کام کیا اور اب نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں، 6 ماہ میں بولرز کی کارکردگی سب کے سامنے ہے۔سابق فاسٹ بولر وقار یونس نے کہا کہ مجھے کرکٹ سے محبت ہے، یہ میرا جذبہ ہے اس لیے اس سے جڑا رہتا ہوں، وہ چاہے کمنٹری ہو یا کوچنگ، میں مستقبل میں بھی کوچنگ کروں گا، جب جاب نکلتی ہے تو اپلائی کر کے آتا ہوں، میں ادھر ادھر سے نہیں آتا، سی وی دیتا ہوں، درخواست دیتا ہوں اور پھر انٹرویو دے کر آتا ہوں۔وقار یونس سمجھتے ہیں کہ مصباح کے اسٹائل سے مجھے نقصان نہیں پہنچا، مصباح دھیمے مزاج کے ایک اچھے انسان ہیں، ان کی پاکستان کرکٹ کے لیے بڑی خدمات ہیں، انہوں نے پاکستان ٹیم کو ٹیسٹ کی نمبر ون ٹیم بنایا لیکن کوچنگ کے شعبے میں برانڈ نیو تھے، انہیں اس کا تھوڑا نقصان ہوا۔سابق بولنگ کوچ نے اپنے عہدے کے الگ ہونے کے بارے میں کہا کہ کرکٹ بورڈ میں چیزیں بدل گئیں تھیں اور میرے عہدے کی مدت مکمل نہ ہو سکی، عہدے کی مدت مکمل نہ ہونے کوخوش قسمتی بھی کہا جا سکتا ہے اور بدقسمتی بھی لیکن مصباح الحق کے فیصلے کے بعد میرا بھی عہدے سے الگ ہونا بنتا تھا کیونکہ ہم اکٹھے آئے، اکٹھے ہی جانا تھا، بورڈ میں تبدیلی کے علاوہ کووڈ کے ایشوز بھی تھے، ویسے بھی کوئی بھی نیا چیئرمین آئے تو وہ اپنی ٹیم بناتا ہے۔