حکومت، حکومت سے ٹکرا گئی

228

ملک کے سیا سی حا لات اور واقعات کا گہری نظر سے جا ئزہ لیا جا ئے تو محسوس ہو تا ہے کہ مو جودہ حکومت آنے والے دنوں سے خا صی پریشان ہے اور کیوں نہ پر یشان ہو اس کے دامن میں ایسی کو ن سی کامیابیاں ہیں جن کی بناء پر انھیں یقین ہوکہ عوام انھیں ایک بار پھر خدمت کا موقع دینے والے ہیں لہٰذا حکومت کی جانب سے ایسی کوششیں بھی جاری ہیں کہ کسی نہ کسی طرح ایک باری کم ازکم اور مل ہی جائے اسی حوالے سے حکومت نے الیکشن کو شفاف بنانے اور دکھانے کے لیے الیکٹرونک ووٹنگ مشین متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے مگر اپوزیشن یہ سمجھتی جب 2018 کے انتخابات میں اپنی مرضی اور منشاء کے نتائج حاصل کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر انتخابی انجینئرنگ کی شاندار مثال قائم کی گئی تو الیکٹرونک ووٹنگ مشین پر کیسے بھروسا کیا جا سکتا ہے کیوں کہ الیکٹرونک ووٹنگ مشین کے نتائج بھی اپنی مرضی اور منشاء کے مطابق با آسانی تبدیل کیے جاسکتے ہیں اور شاید انھیں چیلنج کرنا بھی دشوار ہو جب الیکشن کمیشن نے اپوزیشن کے دلا ئل کو شرف قبولیت بخشا تو حکومتی وزراء نے الیکشن کمیشن کے خلاف ہی محاذ آرائی شروع کر دی اور الیکشن کمیشن ہی کو متنازع بنانے میں اپنا حصہ ڈال دیا، ہو تا تو یہ آیا ہے کہ اپوزیشن ہی الیکشن کمیشن پر حکومت کی حمایت اور جانبداری کا الزام لگاتی رہی ہیںلیکن مو جودہ حکومت کی نا دانی نے قوم کی سیاسی تاریخ میں یہ اضا فہ بھی کردیا کہ حکومت خود ہی اپنی حکومت کی اپوزیشن کا کردار ادا کرہی ہے۔ سوچنے والی بات یہ ہے کہ آخر وزراء کو کیا سوجھی تھی کہ الیکشن کمیشن کے خلاف ایسے غیر ضروری بیا نات داغ دیں جن کی وجہ سے الیکشن کمیشن کی ساکھ کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہو، کہیں نہ کہیں سے تو وزراء کو ہدایا ت جا ری کی جارہی ہیں یا اشارے کیے جارہے ہیں کہ الیکشن کمیشن کو ایسے الجھا دیا جا ئے کہ اپنی مرضی اور منشاء کے مطابق فیصلے حاصل کیے جا سکیں یا الیکشن کمیشن کو ایسے دبائو میں رکھا جائے کہ اسے حکومتی خواہش کا احترام کر نا پڑے۔ اداروں کو دبائو میں رکھنا کسی بھی طرح ملک وقوم اور جمہوریت کے لیے نیک شگون نہیں ہے۔
پاکستان کے عوام آج سب سے زیادہ غربت، مہنگائی اور بے روزگاری کے مارے ہوئے ہیں لیکن موجودہ حکومت زبانی جمع خرچ کے سوا کوئی ایسے قابل قدر اقدامات نہیں کررہی کہ جن کا عوام کی زندگیوں پر مثبت اثرات مرتب ہوں۔ ضرورت کی ہر شے کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں آئے دن اخبارات مختلف اشیاء کی قیمتوں میں ہونے والے ردوبدل کے حوالے سے خبریں لگا رہے ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ حکومت کی اس پر کوئی توجہ نہیں حکومت کی دلچسپی جس طرح مخالفین کہ خلاف سیاسی محاذگرم کرنے میں ہے یا الیکٹرونک ووٹنگ مشین کے حوالے سے ہے۔ حکمرانوں کو جان لینا چاہیے کہ عوام کا مسئلہ الیکٹرونک ووٹنگ مشین نہیں عوام تو یہ چاہتے ہیں کہ تما م اداروں کو قانون کے دائرے میں رہتے ہو ئے آزادانہ کام کرنے کا موقع ملنا چاہیے تاکہ ملک ترقی کے مدارج با آسانی طے کر سکے کیونکہ اداروں کو حکومتی کنٹرول میں رکھنے کی پا لیسی کسی طرح بھی ملک اور قوم کے مفاد میں نہیں ماضی میں بھی جب سرکاری اداروں کو حکومت نے آئین اور قانون کی با لادستی کے بجائے اپنی مرضی اور منشاء کے مطابق چلانے کی کوشش کی تو اس کے کچھ بہتر نتائج سامنے نہیں آئے بلکہ ملک میں بے چینی کی کیفیت میں اضافہ ہو گیا اور جمہوریت کو اس کا نقصان اٹھا نا پڑا آج بھی صورتحا ل کچھ ایسی ہی بنتی جا رہی ہے اگر حکومتی اقدامات کے خلاف اپوزیشن تیزی سے متحرک ہو جائے اور رائے عامہ بھی حکومتی اقدامات کے خلاف اٹھ کھڑی ہو تو جمہوریت پر اس کے منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
شفاف انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی اہم ذمے داری ہے حکومت اور اس کے وزراء کا یہ کام نہیں کے انتخابی عمل پر اثر انداز ہونے کے لیے مختلف النوع ہتھکنڈے استعمال کریں اور نہ ہی اپنی رائے اور منشاء پاکستان کے عوام پر تھوپنے کی کوئی کوشش کریں۔ الیکٹرونک ووٹنگ مشین کے حوالے سے وزراء کے جا رحانہ بیانات نے مسئلہ کو گمبھیر بنا دیا حالا نکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا وزراء اس مسئلہ پر خاموشی اختیار کر لیتے اور الیکشن کمیشن کو اپنا کام کرنے اور راستہ بنانے کا موقع دیتے تو جس قسم کی صورتحال پیدا ہوئی ہر گز ایسا نہ ہوتا لیکن وزراء کو بیان بازی کی اتنی جلدی تھی کے انھوں نے وقت ضا ئع کیے بناء اس اہم ترین اور حساس نو عیت کے مسئلہ کو پریس کی زینت بنادیا اسی لیے کہتے ہیں کہ اگر وزیر اور مشیر معاملہ فہم نہ ہوں تو حکومت کے لیے روز نت نئے مسائل پیدا کرنے کا باعث بن جاتے ہیں۔ عمران خا ن کو چاہیے کے قومی نوعیت کے اہم ترین معاملات پر کسی بھی قسم کا بیان دینے سے وزراء کو روکیں اور انھیں پابند کریں کہ مشاورت کے بغیر کسی بھی قسم کی بیان بازی سے گریز کریں کیوں کہ اس طرح حکومت کی کارکردگی پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں نت نئے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں عوامی سطح پر حکومت کو سبکی کا سامنا کر نا پڑتا ہے۔ ہر مسئلہ کا حل یہ نہیں کہ حکومت کی طرف سے بیان بازی کا سلسلہ شروع کر دیا جائے اس طرح عوامی مسائل اور معاملات پس پشت چلے جاتے ہیں اور حکومت غیر ضروری معاملات میں الجھتی چلی جاتی ہے۔
عمران خان نے قوم سے جو وعدے وعید کیے تھے ان کو پایے تکمیل تک پہنچانے کے لیے اپنی بہترین توانائیاں بروے کار لائیں اور وزیروں اور مشیروں کو پابند کریں کہ وہ حکومتی مسائل میں مزید اضافے کا سبب نہ بنیں اور حکومت کی راہ میں بڑے بڑے گڑھے نہ کھودیں کہ جنہیں بھرنا خود حکومت اور عمران خان کے لیے دشوار ہو جائے اپوزیشن تو اس بات کے انتظار میں ہوتی ہے کہ حکومت کی نادانیوں اور ناکامیوں سے فائدہ اٹھائے اور ہمارے نادان وزیر اعظم کے ساتھی اپوزیشن کو یہ موقع فراہم کرنے میں پیش پیش ہیں عقل مندوں نے درست کہا ہے کہ ایک چپ سو سکھ عمران خان کو اپنے وزیروں اور مشیروں کو اس بات کی تربیت دینا چاہیے کہ کسی بھی معاملے پر وزیراعظم کے مشورے کے بغیر رائے زنی سے پرہیز کریں اور ضروری نہیں کہ ہر معاملے پر پریس کانفرنس کرکے مشکلات پیدا کی جائیں۔
اگر عمران خان یا ان کے وزراء کو الیکشن کمیشن کے حوالے سے کسی بھی قسم کے تحفظات تھے بھی تو بطور وزیر اعظم چیئرمین الیکشن کمیشن کو وزیر اعظم ہائوس طلب کر کے اپنے اور اپنی پارٹی کے تحفظات سے آگاہ کر سکتے تھے لیکن وزرائے باتدبیر نے جو بھونڈا طریقہ اختیار کیا اس سے عوام میں یہ تاثر پیدا کیا گیا گویا الیکشن کمیشن من مانی کررہا ہے اور حکومتی پالیسیوں کی اس کو کوئی پروا نہیں حالانکہ ایسا ہونا ممکن نہیں الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے اور اس کو آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہی اپنے فرائض انجام دینا ہیں یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ کسی کی دی ہوئی ڈکٹیشن کے مطابق اپنے فرائض انجام دے الیکشن کمیشن کی کارکردگی ہر سطح پر مانیٹر کی جا رہی ہوتی ہے کیا عوام اور کیا خواص زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد الیکشن کمیشن کی کارکردگی کا گہری نظر سے جائزہ لے رہے ہوتے ہیں اس کے علاوہ حکومت اور اپوزیشن کے اراکین، شعبہ صحافت کے کھلاڑی بھی الیکشن کمیشن پر عقاب کی نگاہ رکھتے ہیں اور جہاں بھی یہ محسوس ہوتا ہے کہ کہیں ہلکا سا بھی جھول ہے قومی پریس عوام کے سامنے حقیقت حال کھول کھول کر بیان کردیتا ہے اس کے باوجود وزراء کی جانب سے الیکشن کمیشن کے حوالے سے غیرذمے دارانہ بیانات سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت اپنی پہلی اننگز ہی میں پسپا ہوگئی ہے اور اپنی ناکامیوں کا ملبہ کسی بھی ادارے پر گرانے کے راستے ڈھونڈھ رہی ہے حالانکہ حکومت کو ذمے داری کے ساتھ تمام تر معاملات کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے اقتدار تو ہے ہی ایسی شے جیسا بو گے ویسا ہی کا ٹو گے۔ اگر حکومتی اقدامات کو عوامی پزیرائی حاصل ہوتی ہے تو عوام ایسے حکمرانوں کی ہمیشہ قدر کرتے ہیں لیکن اگر عوام ہی حکومت کی پالیسیوں سے نالاں ہو جائیں تو پھر آنے والے وقت کا اللہ ہی حافظ ہے اسی لیے دانا ہمیشہ کہتے ہیں حکومت وہ ہی اچھی ہوتی ہے جو عوام کے دلوں پر راج کرے نہ کہ زمین پر اپنا اقتدار قائم کر دیا جائے اور عوام کا براحال ہو، اللہ ہمارے حکمرانوں کو توفیق دے کہ وہ عوامی امنگوں کے مطابق قومی بھلائی و بہتری کو فوقیت دیتے ہوئے ملک اور قوم کی بھلائی اور بہتری کو اپنی زندگی کا مقصد بنالیں۔