جناب وزیر اعظم کے ارشادات

193

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بڑے بڑے مافیاز ملک میں قانون کی بالادستی نہیں چاہتے، ماضی کے حکمرانوں نے نظام کو مضبوط نہیں ہونے دیا، بیرون ملک اربوں روپے کی جائیدادیں بنانے والے اب وہاں بیٹھے تقریریں کر رہے ہیں لیکن اپنے ذرائع آمدن کی ایک رسید تک نہیں دکھا سکتے، کرپٹ سسٹم سے فائدہ اٹھانے والے کہتے ہیں ہمیں این آر او دے دیں، غریبوں کو پکڑیں۔ جمعرات کو ڈیرہ اسماعیل خاں میں کسان کنونشن اور کسان کارڈ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا ملک اور عوام کی ترقی کے لیے اگلے انتخابات کا نہیں اگلی نسلوںکا سوچنا ہو گا، سچے اور غیرت مند لوگ ہی مضبوط قوم بنا سکتے ہیں، ہمیں بڑی قوم بننے کے لیے صادق اور امین بننا ہو گا اور انصاف کا نظام قائم کرنا ہو گا۔ ہم قانون کی بالادستی کی جنگ لڑ رہے ہیں لیکن ساتھ ساتھ قوم کو بھی اپنے آپ کو بدلنا ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں تقریر کے دوران وزیر اعظم نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے یہ بڑی حد تک حقیقت پسندانہ ہیں اور ملک و قوم کو درپیش حالات کی عکاسی کرتے ہیں اور وزیر اعظم اکثر اپنے خطابات میں ان کا اعادہ کرتے رہتے ہیں بلکہ جب وہ ابھی اقتدار کے ایوانوں سے باہر حزب اختلاف میں تھے تب بھی ان کی تقاریر اسی طرح کے خیالات پر مبنی ہوتی تھیں تاہم وزیر اعظم کو اس حقیقت کا بھی ادراک ہونا چاہئے کہ اب وہ ملک کے چیف ایگزیکٹو یعنی سیاہ و سفید کے مالک ہیں جب تک وہ حزب اختلاف میں تھے تو اس طرح کی تقریریں ان کو جچتی تھیں اور ان کا جواز موجود تھا مگر اب مملکت کے اعلیٰ ترین عہدے پر فائز ہونے کے بعد بار بار اس طرح کی باتیں ان کو زیب نہیں دیتیں بلکہ بہت سے سوالات کو جنم دیتی ہیں وزیر اعظم کا یہ ارشاد کہ بڑے بڑے مافیاز ملک میں قانون کی بالادستی نہیں چاہتے، کوئی راز کی بات نہیں جسے وہ عوام کے سامنے فاش کر رہے ہیں بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا مشاہدہ معاشرے کا ہر فرد روزمرہ زندگی میں قدم قدم پر کرتا ہے۔ یہ بات بھی کوئی انکشاف نہیں کہ ماضی کے حکمرانوں نے نظام کو مضبوط نہیں ہونے دیا۔ مگر سوال یہ ہے کہ جناب عمران خاں کے اقتدار میں آنے کے بعد نظام کو کس قدر مضبوطی اور استحکام حاصل ہوا ہے اور خود کو قانون سے بالا تر سمجھنے والے مافیاز کو کس حد تک قانون کا تابع بنایا گیا ہے ؟ کیا اب پاکستان میں شیر اور بکری ایک گھاٹ پر پانی پینے لگے ہیں؟ کیا جناب عمران خاں کی حکومت میں امیر اور غریب کے لیے قانون ایک ہو گیا ہے، سب کو یکساں انصاف دستیاب ہے؟ جو اب یقینا نفی میں ہے اور جناب وزیر اعظم نے یہ جو فرمایا ہے کہ ’’بیرون ملک اربوں روپے کی جائیدادیں بنانے والے اب وہاں بیٹھے تقریریں کر رہے ہیں لیکن اپنے ذرائع آمدن کی ایک رسید تک نہیں دکھا سکتے، کرپٹ سسٹم سے فائدہ اٹھانے والے کہتے ہیں ہمیں این آر او دے دیں، غریبوں کو پکڑیں۔‘‘ کیا جناب وزیر اعظم بتانا پسند فرمائیں گے کہ اربوں روپے کی جائیدادوں کے مالک کو جیل سے نکال کر بیرون ملک جانے دینے کی ذمہ داری خود ان کی ذات کے علاوہ کس پر عائد ہوتی ہے، وہ تو عدالت سے سزا پا کر جیل میں بند تھے، یہ آپ کی حکومت تھی جس نے ایک سزا یافتہ شخص کو بیماری کے جواز پر نہ صرف جیل سے نکالا بلکہ اسے علاج کے بہانے بیرون ملک جانے کے لیے تمام سہولتیں بھی فراہم کیں گویا وزیر اعظم عمران خاں جن لوگوں کو ہدف تنقید بنا رہے ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں چھوڑ دیں اور غریبوں کو پکڑیں۔ انہی کی باتوں پر خود عمل بھی کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے اپنے پیشرو اور طاقتور شخصیت کو تو بیماری کی وجہ سے جیل سے بھی نکالا اور قوم کی آنکھوں میں دھول جھونک کر بیرون ملک بھی جانے دیا مگر کیا وہ کوئی ایک مثال بھی ایسی پیش کر سکتے ہیں کہ ان کی حکومت میں کسی عام یا غریب آدمی کو بھی شدید ترین علالت کے باوجود جیل سے رہا کیا گیا ہو۔ جناب وزیر اعظم نے ڈیرہ اسماعیل خاں ہی کی اپنی تقریر میں یہ بھی فرمایا کہ ’’ہم قانون کی بالادستی کی جنگ لڑ رہے ہیں لیکن ساتھ ساتھ قوم کو بھی اپنے آپ کو بدلنا ہے…‘‘ جناب وزیر اعظم یہ قانون کی بالادستی کی کیسی جنگ ہے جس میں غریب اور امیر کے لیے قانون کی عمل داری الگ الگ ہے، یہاں چند سو روپے چوری کرنے پر مجبور اور معصوم بچہ تو پکڑ کر جیل میں ڈال دیاجاتا ہے، جہاں کوئی اس کی خبر گیری کرنے والا ہوتا ہے نہ اس کی ضمانت پر رہائی کا کوئی امکان اور وہ معمولی جرم بلکہ غلطی کی سزا میں برسوں جیل میں پڑا سڑتا رہتا ہے یا پھر کسی جرائم پیشہ گروہ کا حصہ بن کر ایک تربیت یافتہ مجرم بن کر جیل سے باہر آتا ہے اور پھر معاشرے سے اپنے جرم بے گناہی کی سزا کا بدلہ لیتا ہے ۔ دوسری جانب وزیر اعظم جن مافیاز کا ذکر کر رہے ہیں وہ قوم کے کروڑوں اربوں روپے ہضم کر جاتے ہیں مگر کسی کو ان پر گرفت کی ہمت نہیں ہوتی۔ ماضی کو تو چھوڑ دیجئے، موجودہ حکومت کے تین برس کے دوران چینی، آٹا، پٹرول، گیس، ادویات اور نہ جانے کون کون سے مافیاز نے قوم کو انتہائی بے دردی سے لوٹا ہے وزیر اعظم اور ان کی کابینہ کے ارکان بار بار ان مافیاز کا ذکر بھی کرتے ہیں، ان سے متعلق تحقیقاتی کمیٹیاں بھی تشکیل پاتی ہیں، کمیشن بھی بنائے جاتے ہیں، ان کی رپورٹیں بھی وزیر اعظم کو پیش کی جاتی ہیں، وزیر اعظم ذمہ داران میں سے کسی کو نہ چھوڑنے کے اعلانات بھی کرتے ہیں مگر تین برس میں عملاً کسی ایک بھی شخص یا گروہ کو سزا ملنے کی نوبت نہیں آئی جس سے وزیر اعظم کی باتوں پر لوگوں کا یقین اُٹھ گیا ہے، عوام میں مایوسی بڑھ رہی ہے جب کہ جرائم پیشہ اور منافع خور عناصر کے حوصلے بہت بڑھ گئے ہیں، انہیں کسی قانون کا خوف ہے نہ حکومتی کارپردازوں کی کسی دھمکی کی پرواہ۔ وہ مکمل طرز پر من مانی کر رہے ہیں اور دونوں ہاتھوں سے عوام کو لوٹنے میں مصروف ہیں، جب کہ وزیر اعظم اور ان کی کابینہ کے ارکان روز افزوں مہنگائی، بے روز گاری،رشوت اور بدعنوانی کی چکی میں پستے عوام کو محض طفل تسلیاں دینے میں مصروف ہیں اور چکنی چپڑی باتوں اور خوبصورت تقریروں سے بہلانے میں کوشاں ہیں، ایسے میں جناب وزیر اعظم اور ان کے ساتھیوں سے یہی گزارش کی جا سکتی ہے کہ ؎
آپ ہی اپنی ادائوں پہ ذرا غور کریں
ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہو گی
وزیر اعظم عمران خاں نے اپنے خطاب میں قوم کو بھی تلقین کی ہے کہ وہ بھی اپنے آپ کو بدلے۔ اس ضمن میں وزیر اعظم کو معلوم ہو گا کہ بزرگ بہت پہلے یہ دو ٹوک فیصلہ سنا گئے ہیں کہ ’’الناس علی دین ملوکہم‘‘ کہ لوگ اپنے بادشاہوں کے دین پر ہوتے ہیں یعنی عوام اپنے حکمرانوں کی پیروی کرتے اور ان کے نقش قدم پر چلتے ہیں اس لیے جناب وزیر اعظم اگر واقعی قوم کو بدلنے میں سنجیدہ ہیں تو انہیں قوم کے سامنے اپنی مثال پیش کرنا ہو گی، جس تبدیلی کا انہوں نے اقتدار میں آنے سے پہلے وعدہ کیا تھا اور آج تین برس گزر جانے کے بعد بھی یہ وعدہ تواتر سے دہرائے چلے جا رہے ہیں۔ لوگوں کو جس روز اس تبدیلی کی کوئی جھلک ملک کے نظام میں اور حکمرانوں کے کردار میں نظر آئے گی، وزیر اعظم کو کہنا نہیں پڑے گا، قوم میں تبدیلی خود بخود آ جائے گی…!!!