تبدیلی مذہب بل قبول اسلام کی راہ میں رکاوٹ ہے،نورالحق قادری

146

اسلام آباد (آن لائن) وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی نے جبری تبدیلی مذہب کی روک تھام کا مجوزہ بل وزارت انسانی حقوق کو اعتراضات کے ساتھ واپس بھیج دیا ۔ وزارتِ انسانی حقوق کے مجوزہ بل میں موجود 18 سال عمر کی شرط ، جج کے سامنے پیشی اور 90 دن انتظار کو غیر شرعی ، غیر قانونی اور بنیادی آئینی حقوق کے منافی قرار دیا گیا ہے۔ یہ بات وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری نے اپنے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجوزہ بل پر وزارتِ مذہبی امور میں علما کرام کے ساتھ متعدد مشاورتی اجلاسوں کی صدارت اور اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کے بعد مجوزہ بل متعدد اعتراضات کے ساتھ وزارت انسانی حقوق کو واپس بھیج دیا گیا ہے۔ مجوزہ قانون اپنی موجودہ کیفیت میں شریعت اسلامی اور بنیادی انسانی و آئینی حقوق سے متصادم ہے۔ اس بل کو اسلام قبول کرنے کی ممانعت کے لیے استعمال ہونے کا خدشہ ہے۔ مجوزہ بل مسلم اور غیر مسلم کمیونٹی میں منافرت کا باعث بنے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ مذہب کی جبری تبدیلی کی اسلام میں ہرگز گنجائش نہیں اور اس کی روک تھام بہر حال ضروری ہے۔ پاکستان میں جبری تبدیلی مذہب کے واقعات بہت کم ہیں لیکن بدنامی کا باعث ہیں۔ وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری کی زیر صدارت جائزہ کمیٹی میں چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز، علامہ عارف واحدی سابق رکن اسلامی نظریاتی کونسل صاحبزادہ پیرحسان حسیب الرحمان،رکن اسلامی نظریاتی کونسل مفتی گلزار نعیمی،رکن قومی اقلیتی کمیشن سمیت وزارت مذہبی امور اور اسلامی نظریاتی کونسل کے شعبہ تحقیق و حوالہ جات کے افسران شامل تھے۔ علاوہ ازیں وفاقی وزیر برائے مذہبی امور پیر نور الحق قادری نے پیغام پاکستان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیغام پاکستان کو مساجد، مدارس، اسکولوں، چرچز اور گوردواروں کی سطح پر لے جانے کی ضرورت ہے،افغانستان کے حوالے سے پاکستان کی ریاست جو پالیسی اور طریقہ کار متعین کرے گی وہی ہم سب کا راستہ ہو گا، یہاں نفرتیں پھیلانے والوں کی بھی کمی نہیں ہے مگر محبتوں کو پھیلانے اور دوریاں ختم کرکے قربتیں بڑھانے والے لوگ ہمارے لیے قابل قدر اور قابل احترام ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علما اور حکمران دونوں طبقات کے درمیان جتنی دوریاں ہوں گی اتنی ہی بدگمانیاں بڑھیں گی اس لیے ان دونوں طبقات کو مل بیٹھنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیشہ سے اہل سنت اور اہل تشیع نے قومی اور اجتماعی ضرورت کے وقت اہم کردار ادا کیا ہے۔