خواتین کو وراثت میں حق اپنی زندگی میں ہی لینا ہوگا، عدالت عظمیٰ

92

اسلام آباد (اے پی پی) عدالت عظمیٰ نے پشاور کی رہائشی خواتین کے بچوں کا نانا کی جائداد میں حق دعویٰ مسترد کرتے ہوئے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا ہے، عدالت عظمیٰ نے قرار دیا ہے کہ خواتین کو وراثت میں حق اپنی زندگی میں ہی لینا ہوگا، خواتین زندگی میں اپنا حق نہ لیں تو ان کی اولاد دعویٰ نہیں کرسکتی۔ جمعرات کو جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے معاملے پر سماعت کی، جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ قانون وراثت خواتین کے حق کو تحفظ فراہم کرتا ہے، دیکھنا ہوگا خواتین خود اپنے حق سے دستبردار ہوں یا دعویٰ نہ کریں تو کیا ہوگا۔ عدالت عظمیٰ نے پشاور کی رہائشی خواتین کے بچوں کا نانا کی جائداد میں حق دعویٰ مسترد کرتے ہوئے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔ واضح رہے کہ مرحوم عیسیٰ خان نے 1935ء میں اپنی جائداد بیٹے شاہدالرحمان کو منتقل کر دی تھی اور اپنی دونوں بیٹیوں کو جائداد میں حصہ نہیں دیا تھا، دونوں بیٹیوں نے اپنی زندگی میں وراثت نامے کو چیلنج نہیں کیا تھا، دونوں خواتین کے بچوں نے 2004ء میں نانا کی وراثت میں حق دعویٰ دائر کیا تھا، سول کورٹ نے بچوں کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔ پشاور ہائیکورٹ نے سول کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا تھا، جس کے بعد پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف عدالت عظمیٰ میں اپیل دائر کی گئی تھی۔