حکومت اور روحانیت…

154

دولت کی طرح حکومت اور قیادت بھی روحانیت کے منافی نہیںہے، بشرطیکہ خواہش نفس کی تکمیل کے لیے اور عوام پر اپنی مرضی مسلط کرنے کے لیے نہ کی جائے۔ حکومت اور قیادت کو دْنیا داری کا کام سمجھا جاتا ہے اور روحانیت کو اس سے دور خیال کیا جاتا ہے، مگر قرآن کی نظر میں حکومت اور روحانیت میں تضاد نہیں ہے۔ اگر حکومت اللہ کے بندوں کے حقوق ادا کرنے کے لیے کی جائے، انصاف اور خیر خواہی کے ساتھ کی جائے اور اللہ کے احکام کو اللہ کی زمین میں نافذ کرنے کے لیے کی جائے تو یہی روحانیت کا تقاضا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
’’ان لوگوں کو جب ہم زمین میں اقتدار عطا کرتے ہیں تو وہ نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں، نیکی کا حکم دیتے ہیں اور بْرائی سے روکتے ہیں اور تمام معاملات کا انجامِ کار اللہ کے ہاتھ میں ہے‘‘۔ (الحج: 14)
نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا اور نیکی کی اشاعت کرنا خالص روحانی عمل ہے اور یہ حکمرانوں کی ذمے داری ہے۔ اگر وہ اس ذمے داری کو نبھائیں تو مسند حکومت پر سرفراز ہونے کے باوجود وہ روحانی ہستیاں ہیں۔ انبیا علیہ السلام سے زیادہ روحانی شخصیت دنیا میں کس کی ہوسکتی ہے۔غور کیجیے کہ سیدنا دائود علیہ السلام اور سیدنا سلیمان علیہ السلام اور سیدنا یوسف علیہ السلام اپنے وقت کے عظیم الشان بادشاہ ہیں اور ایسے صاحب شوکت وحشمت کہ چرند پرند اور ہوائوں پر بھی حکومت ہے، مگر اسی کے ساتھ وہ اللہ کے جلیل القدر نبی بھی ہیں اور روحانیت کے امام بھی ہیں۔
سیدنا محمدؐ نے یہ دعا مانگی ہے:
’’پروردگار، مجھ کو جہاں بھی تو لے جا سچائی کے ساتھ لے جا اور جہاں سے بھی نکال سچائی کے ساتھ نکال اور اپنی طرف سے ایک ایک اقتدار کو میرا مددگار بنا دے‘‘۔ (بنی اسرائیل: 80)
رسول پاکؐ سے بڑھ کر دنیا میںکوئی روحانی ہستی نہیں پیدا ہوئی، مگر آپؐ کا اقتدار کے لیے دعا کرنا اور پھر مدینہ پہنچ کر اسلامی ریاست قائم کرنا روحانیت کے منافی نہیں ہے بلکہ روحانیت کو مضبوط اور وسیع کرنے کے لیے ہے، تا کہ زمین پر شیطان کی حکومت ختم ہو اور رحمٰن کی حکومت جاری و ساری ہو۔ اللہ کے بندوں کے لیے اللہ کی بندگی کا ماحول سازگار ہو، نفسانیت کا خاتمہ ہو، روحانیت کا بول بالا ہو۔
جناب رسول پاکؐ کے بعد خلفاے راشدین، سیدنا ابو بکرؓ، سیدنا عمرؓ، سیدنا عثمانؓ اور سیدنا علیؓ مثالی حکمران تھے۔ دنیا کے تمام حکمرانوں کے لیے اسوہ اور رہنما تھے اور اسی کے ساتھ وہ روحانیت کے اعلیٰ درجے پر فائز تھے۔ آج کی روحانی ہستیوں کا کمال یہ ہے کہ وہ ان خلفاے راشدین کے نقش قدم تک پہنچ جائیں اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی میں جس اعتدال وتوازن کی ضرورت ہے وہ ان پاک ہستیوں سے سیکھیں۔
روحانیت مطلوب ہے رہبانیت نہیں
قرآن نے روحانیت کی جو تعلیم دی ہے وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد، یعنی اللہ اور بندوں کے حقوق کی یکساں ادایگی کے ذریعے انجام پاتی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے انسان سماج میں رہ کر دنیا کی ضروریات کی تکمیل کرتے ہوئے اپنی روحانی پاکیزگی کا اہتمام کرے۔ سماج سے کٹ جانا، گوشہ نشینی اختیار کرلینا، لوگوں کی حاجت روائی سے رو گردانی کرنا اور انسانی حقوق کی ادایگی سے غفلت برتنا روحانیت کے منافی ہے۔ انسانوں کی فیض رسانی کرنا اور ان کی تکالیف پر صبر کرنا روحانیت کا تقاضا ہے، جب کہ رہبانیت ترکِ دنیا کی تعلیم دیتی ہے، انسانی سماج سے علیحدہ ہوجانے اور گوشۂ عافیت میں بیٹھ کر یادِ خدا میں زندگی گزارنے کی تلقین کرتی ہے۔ رہبانیت اللہ کو مطلوب نہیں ہے اور اسلام اللہ اور بندوں کے حقوق کی ادایگی کو روحانی زندگی کا مشن قرار دیتا ہے۔
علامہ سید سلیمان ندویؒ لکھتے ہیں:
’’اکثر مذاہب نے دین داری اور خدا پرستی کا کمال یہ سمجھا تھا کہ انسان کسی غار، کھوہ یا جنگل میں بیٹھ جائے اور تمام دْنیا سے کنارہ کشی اختیار کر لے۔ اسلام نے اس کو عبادت کا صحیح طریقہ نہیں قرار دیا ہے۔ عبادت در حقیقت خدا اور اس کے بندوں کے حقوق ادا کرنے کا نام ہے۔ اس بنا پر وہ شخص جو اپنے تمام ہم جنسوں سے الگ ہوکر ایک گوشے میں بیٹھ جاتا ہے، وہ در حقیقت ابناے جنس کے حقوق سے قاصر رہتا ہے۔ اس لیے وہ کسی تعریف کا مستحق نہیں‘‘۔ (سیرت النبی، ج 5، ص 31)