طالبان، انسانی حقوق اور مغرب

434

اقبال نے کہا تھا:
اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے
سرِ آدم ہے ضمیر کن فکاں ہے زندگی
بدقسمتی سے مسلمانوں نے اقبال کے اس مشورے پر عمل نہیں کیا۔ چناں چہ مسلمانوں کی دنیا مسلمانوں کی دنیا نہیں ہے۔ ہماری دنیا مغرب کی دنیا ہے۔ ہمارا سیاسی نظام مغرب سے آیا ہے۔ ہمارا معاشی نظام مغرب کی عطا ہے۔ ہمارا عدالتی نظام مغربی ہے۔ ہمارا تعلیمی نظام مغربی فکر میں ڈوبا ہوا ہے۔ ہماری تفریح مغربی ہے۔ یہاں تک کہ اب ہم غذائیں بھی مغرب کی کھانے لگے ہیں۔ مغرب کے تسلط کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ اس نے 20 سال تک افغانستان پر جنگ مسلط کیے رکھی اور اب وہ طالبان پر اپنا بیانیہ مسلط کررہا ہے۔ مغرب کہہ رہا ہے کہ وہ طالبان کی حکومت کو خود تسلیم کرے گا نہ کسی اور کو کرنے دے گا۔ وہ اس سلسلے میں پاکستان پر دبائو بڑھا رہا ہے۔ مغرب کا اصرار ہے کہ طالبان پہلے اس کے مطالبات تسلیم کریں پھر مغرب ان کی حکومت کو تسلیم کرے گا۔ مغرب کا پہلا مطالبہ یہ ہے کہ طالبان انسانی حقوق کی پاسداری کریں۔ وہ خواتین اور اقلیتوں کو تحفظ مہیا کریں۔ مغرب کا ایک مطالبہ یہ ہے کہ طالبان وسیع البنیاد حکومت قائم کریں۔ امریکا اور یورپی ممالک اس سلسلے میں جو طرزِ عمل اختیار کیے ہوئے ہیں اس سے محسوس ہوتا ہے کہ مغرب کامل ہے اور طالبان ناقص ہیں۔
مغربی دنیا تضادات کی دنیا ہے۔ تضادات کی نہیں ہولناک تضادات کی۔ مغرب انسانی حقوق کے تحفظ کی بات ہے۔ انسان کی تکریم کی بات ہے مگر مغرب نے انسانیت کی جتنی تذلیل کی ہے کسی نے نہیں کی۔ امریکا مغربی دنیا کا نمائندہ ہے مگر امریکا انسانیت کا سب سے بڑا قاتل ہے۔ امریکا کے ممتاز دانش ور نوم چومسکی امریکا کو بدمعاش ریاست یوں ہی نہیں کہتے۔ امریکا کی پوری تاریخ بدمعاشی کی تاریخ ہے۔ امریکا کے سفید فاموں نے امریکا پر قبضہ کیا اور امریکا کے اصل وارثوں یعنی ریڈ انڈینز کی نسل مٹادی۔ مائیکل مان نے اپنی تصنیف Dark side of The Democracy میں لکھا ہے کہ امریکا کے سفید فاموں نے ’’امریکاز‘‘ میں 8 سے 10 کروڑ لوگوں کو قتل کیا۔ امریکا کی تہذیب اور انسان پرستی کا یہ عالم ہے کہ اس نے آج تک اس نسل کشی کا اعتراف نہیں کیا نہ ہی اس پر ریڈ انڈینز سے معافی مانگی۔ سوال یہ ہے کہ کیا طالبان نے بھی 8 سے 10 کروڑ انسانوں کو قتل کرکے افغانستان پر قبضہ کیا ہے جو امریکا انہیں انسانی حقوق کے تحفظ پر لیکچر دے رہا ہے؟ امریکا نے ایٹم بم ایجاد کیا تو کہا گیا کہ یہ بم صرف ڈرانے کے لیے ہے استعمال کرنے کے لیے نہیں ہے۔ امریکا کے ایٹم بم کے بانی آئن اسٹائن کو اس بم کی تباہ کاری کا احساس ہوا تو اس نے کہا کہ کاش میں سائنس دان کے بجائے موچی ہوتا۔ لیکن امریکا کی انسان دشمن قیادت ایٹم بم کے سلسلے میں موچی کی سطح سے بھی نیچے چلی گئی۔ اس نے دوسری عالمی جنگ میں جاپان کے دو شہروں ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرادیے۔ امریکا کے ممتاز دانش ور اور محقق ہاورڈ زن نے اپنی تصنیف ’’امریکا کی عوامی تاریخ‘‘ میں لکھا ہے کہ امریکا کو جاپان کے خلاف ایٹم بم استعمال کرنے کی ضرورت نہیں تھی، اس لیے کہ جاپان کی فوج امریکا کے سامنے ہتھیار ڈالنے ہی والی تھی۔ امریکی فوج نے اس سلسلے میں جاپانی فوج کے خفیہ پیغامات ڈی کوڈ کرکے پڑھ لیے تھے مگر اس کے باوجود امریکا نے جاپان کے خلاف ایٹم بم استعمال کیا۔ کیا یہ انسانی حقوق کی پاسداری تھی؟ یا انسانی حقوق کی بدترین پامالی تھی؟ کیا طالبان نے بھی دنیا میں کسی کے خلاف ایٹم بم استعمال کرکے دو لاکھ انسانوں کو قتل کیا ہے؟ امریکا وہ طاقت ہے جس نے کوریا کی جنگ میں 30 لاکھ انسانوں کو قتل کیا۔ کیا یہ قتل عام بھی انسانیت کی ’’عزت افزائی‘‘ کے لیے کیا گیا تھا؟ کیا طالبان نے بھی کسی جنگ میں اپنے حریفوں کے 30 لاکھ باشندے ہلاک کیے ہیں؟ امریکا نے ویت نام کی جنگ میں 10 لاکھ ویت نامیوں کو ہلاک کیا۔ اس کے باوجود بھی امریکا انسانی حقوق کا علمبردار ہے۔ امریکا اور اس کے مغربی اتحادیوں نے صدام حسین کے عراق پر اقتصادی پابندیاں عائد کیں تو ان سے غذا اور دوائوں کی قلت ہوگئی۔ اس قلت سے دس سال میں پانچ لاکھ بچوں سمیت 10 لاکھ افراد ہلاک ہوگئے۔ یہ سب عام لوگ تھے۔ امریکا اور اس کے اتحادی جب 10 لاکھ بے گناہ لوگوں کو قتل کررہے تھے تو انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی کے مرتکب ہورہے تھے۔ کیا طالبان نے بھی کسی ملک پر اقتصادی پابندیاں عائد کرکے پانچ لاکھ بچوں سمیت دس لاکھ انسانوں کو ہلاک کیا ہے جو مغرب انہیں انسانی حقوق کی پاسداری کا درس دے رہا ہے۔ امریکا اور اس کے اتحادیوں نے نائن الیون کے بعد افغانستان اور عراق کے خلاف ننگی جارحیت کا ارتکاب کیا اور 20 برسوں میں دس سے بارہ لاکھ عراقیوں اور افغانیوں کو مار ڈالا۔ کیا امریکا اور اس کے اتحادیوں کا یہ عمل انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی نہیں تھا؟ کیا طالبان نے بھی دو ملکوں پر جارحیت مسلط کرکے دس سے بارہ لاکھ افراد کو لقمۂ اجل بنایا ہے؟ امریکا کا ریکارڈ ہے کہ اس نے گزشتہ پچاس برسوں میں ایک سو سے زیادہ ملکوں میں فوجی مداخلت کی ہے۔ فوجی مداخلت انسانی حقوق کی پاسداری ہے یا ان کی پامالی ہے؟ کیا طالبان نے بھی سو سے زیادہ ملکوں کے اقتدار اعلیٰ کو پامال کرنے کا ریکارڈ قائم کیا ہے؟ یہ بات تاریخ کے ریکارڈ پر ہے کہ امریکا نے نائن الیون کے بعد پیٹریاٹ ایکٹ کے نام سے قانون بنایا، اس قانون کے تحت کسی بھی شخص کو وجہ بتائے بغیر گرفتار کیا جاسکتا ہے اور اسے چھ ماہ تک حراست میں رکھا جاسکتا ہے؟ کیا یہ قانون انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہے؟ نائن الیون کے بعد امریکا نے پوری مسلم آبادی کو مشتبہ قرار دے دیا اور مسلمانوں کے ٹیلی فون ٹیپ کیے جانے لگے۔ ان کے کمپیوٹرز پر نظر رکھی جانے لگی۔ ان کی ڈاک سینسر کی جانے لگی۔ کیا یہ سب کچھ انسانی حقوق کی پامالی نہیں ہے۔ یورپ میں اسلامو فوبیا عروج پر ہے اور وہاں عام مسلمان تو کیا رسول اکرمؐ کی تکریم بھی محفوظ نہیں ہے۔ فرانس سمیت کئی یورپی ممالک میں پردے پر پابندی لگادی گئی ہے۔ فرانس میں مسلم بچوں کی مذہبی تعلیم کو ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔ کیا یہ سب کچھ انسانی حقوق کی پاسداری کے ذیل میں آتا ہے۔ کیا طالبان نے بھی افغانستان میں اس طرح کی پابندیاں لگائی ہوئی ہیں؟
امریکا اور دیگر مغربی ممالک طالبان کو انسانی حقوق کی پاسداری کا درس دے رہے ہیں مگر امریکا اور یورپی ممالک کو نظر نہیں آتا کہ بھارت 25 کروڑ مسلمانوں کو کچل رہا ہے۔
اس نے مسلمانوں کی سیاسی زندگی تباہ کردی ہے۔ ان کی تعلیم اور معاش کو آگ لگادی ہے۔ بھارت میں گزشتہ 74 سال میں پانچ ہزار سے زیادہ مسلم کش فسادات ہوچکے ہیں۔ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی بھارتی مسلمانوں کو کتے کا پلّا کہتے ہیں۔ ان کے وزیر داخلہ امت شاہ مسلمانوں کو ’’دیمک‘‘ قرار دیتے ہیں۔ بھارت میں مسلمان کو قتل کرنے کے لیے کسی اجازت کی ضرورت نہیں۔ مسلمان کا مسلمان ہونا ہی بجائے خود ایک جرم ہے جس کی سزا موت ہے۔ بھارت میں ہر سال ایک لاکھ سے زیادہ دلت خواتین کی عصمت دری کی جاتی ہے مگر امریکا اور یورپ بھارت میں انسانی حقوق کی کوئی خلاف ورزی نظر نہیں آتی۔ بھارت سے کوئی نہیں کہتا کہ اگر تم نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی تو ہم تیری حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کردیں گے۔ کیا انسانی حقوق کی پامالی کے سلسلے میں طالبان کا ریکارڈ بھارت سے بھی زیادہ خراب ہے جو مغرب ان سے کہہ رہا ہے کہ اگر تم نے انسانی حقوق کی پاسداری نہ کی تو ہم تمہیں تسلیم نہیں کریں گے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں بھی انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں کررہا ہے۔ وہ گزشتہ 30 سال میں ایک لاکھ کشمیریوں کو شہید کرچکا ہے۔ دس ہزار سے زیادہ خواتین کی عصمت دری کی جاچکی ہے۔ ہزاروں لوگ غائب ہیں۔ ہزاروں جیلوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ مگر مغرب کو کشمیر میں انسانی خلاف ورزی کی کوئی خلاف ورزی نظر نہیں آتی۔ کیا طالبان نے بھی کسی مقبوضہ علاقے میں اتنے بڑے بڑے جرائم کر رکھے ہیں جتنے بڑے جرائم کا مرتکب بھارت مقبوضہ کشمیر میں ہوا ہے؟۔
اسرائیل ایک دہشت گرد ریاست ہے۔ وہ گزشتہ 70 سال میں لاکھوں فلسطینیوں کو شہید کرچکا ہے۔ اس نے غزہ کو دنیا کی سب سے بڑی کھلی جیل بنادیا ہے۔ اسرائیل نے غزہ میں فراہمی و نکاسی آب کا نظام تک تباہ کردیا ہے۔ وہ ہزاروں فلسطینی بچوں کا قاتل ہے مگر امریکا اور یورپ نے آج تک اسرائیل کے بارے میں یہ نہیں کہا کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کررہا ہے۔ نہ ہی اس سلسلے میں اسرائیل پر کبھی کوئی پابندی لگائی گئی۔ خود عرب ممالک میں بدترین سیاسی جبر ہے۔ جنرل سیسی نے اخوان المسلمون کے دس ہزار سے زیادہ کارکنوں کو سڑکوں پر مار ڈالا۔ ان پر ٹینک چڑھا دیے۔ ان کے سروں اور سینوں پر گولیاں چلائیں، مگر مغرب کو مصر میں انسانی حقوق کی کوئی خلاف ورزی نظر نہ آئی۔ الجزائر کی فوج وہاں اسلامی تحریک کے دس لاکھ افراد کو مار چکی ہے مگر مغرب نے اس پر کبھی احتجاج نہ کیا۔ کیا طالبان کا ریکارڈ اس سلسلے میں مصر اور الجزائر کے ریکارڈ سے زیادہ خراب ہے؟ اصل بات یہ ہے کہ مغرب ایک شیطان ہے۔ اسلام دشمنی اس کے خمیر میں ہے۔ مغرب طالبان کو میدان جنگ میں تو شکست نہ دے سکا مگر اب وہ بیانیے کی جنگ میں انہیں شکست دینے کے لیے کوشاں ہے۔