کراچی کی تعمیر نو… کیسے؟

91

یہ حقیقت ہر پاکستانی کے علم میں آچکی ہے کہ کراچی ملک کو محصولات فراہم کرنے میں سب سے بڑا شراکت دار ہے۔ یہ شہر حکومت کی آمدنی میں سب سے زیادہ رقم ادا کرتا ہے، لیکن یہی شہر سب سے زیادہ تباہ حال ہے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ عہد ِ جدید میں قومی زندگی میں معیشت کو غیر ضروری طور پر مرکزی اہمیت دے دی گئی ہے۔ یعنی دین و مذہب کا مقام بھی معیشت نے حاصل کرلیا ہے۔ اس کے باوجود پاکستان کا صنعتی و تجارتی دارالحکومت تباہ حال ہے۔ اور تباہ حالی کا سبب یہ بتایا جاتا ہے کہ اس شہر کے پاس وسائل بھی نہیں ہیں۔ حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ گزشتہ کئی برسوں سے عدالت عظمیٰ نے کراچی کی تباہی کے بارے میں کئی ازخود نوٹس لیے ہیں اور فیصلے سنائے ہیں۔ عدالت عظمیٰ کی کراچی رجسٹری کی سماعت میں چیف جسٹس نے بجا طور پر سندھ حکومت کو کراچی کی تباہی کا ذمے دار قرار دیا ہے۔ یہ تبصرہ درست ہونے کے باوجود تباہی کے ذمے داروں کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔ حالات اس حد تک ابتر ہوچکے ہیں کہ کراچی کی بحالی کے لیے عدالت عظمیٰ کے فیصلوں سے بھی حالات پر کوئی اثر نہیں پڑ رہا ہے، بلکہ نئی پیچیدگیاں پیش آرہی ہیں۔ حکومت سندھ اس بحران کے پردے میں شہریوں پر مزید ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنے کا منصوبہ بنائے ہوئے ہے۔ ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی کا دعویٰ ہے کہ وسائل فراہم کیے بغیر بلدیاتی ترقیاتی کام انجام نہیں دیے جاسکتے۔ سوال یہ ہے کہ جو ٹیکس وصول کیے جاتے ہیں ان کا ایک حصہ بلدیاتی اداروں کے لیے کیوں مختص نہیں کیا جاتا۔