تائیوان کی بحر الکاہل تجارتی معاہدے میں شمولیت کی درخواست پر چین برہم

165
برطانیہ، جاپان اور کینیڈا کے جہاز بحرالکاہل میں تائیوان کی حمایت میں موجود ہیں

بیجنگ (انٹرنیشنل ڈیسک) تائیوان کی جانب سے بحرالکاہل تجارتی معاہدے میں شمولیت کی درخواست پر چین سے سخت ردعمل کا اظہار کردیا۔ چینی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدام بیجنگ کے داخلی معاملات میں مداخلت ہے۔ اگر سی پی ٹی پی پی سمجھوتے سے اسے روکا نہ گیا تو ہم اس معاملے سے نمٹنے کے لیے ایک چین پالیسی نافذ کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ تائیوانی انتظامیہ کی جانب سے ردعمل میں کہنا تھا کہ تائیوان طویل مدتی معاشی ترقی کی حکمت عملی کے طور پر بحرالکاہل کے آزادانہ تجارت کے 11 رکنی سمجھوتے میں شمولیت کا خواہاں ہے۔ سمجھوتے میں چین کے پہلے شامل ہونے کی صورت میں یہ تائیوان کی رکنیت کے لیے نمایاں خطرہ ہوگا ۔ ادھر چین کی جانب سے دھمکی آمیز بیانات کے باعث برطانیہ، جاپان اور کینیڈ اکے جہازوں نے ہند بحرالکاہل میں مشقیں شروع کردیں۔ خبررساں اداروں کے مطابق برطانوی جہازایچ ایم ایس کوئین الزبتھ ، جاپانی جے ایس لوزومو اور کینیڈا کے ایچ ایم سی ایس وینی پیگ نے تائیوان کی حمایت میں مشقیں شروع کررکھی ہیں۔ دوسری جانب جاپانی وزیر خارجہ موتیگی توشی متسو نے کہا ہے کہ بحرالکاہل میں سی پی ٹی پی پی میں تائیوان کی جانب سے شمولیت کی درخواست کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تائیوان جاپان کے یلے ایک انتہائی اہم شراکت دار ہے جو آزادی، جمہوریت، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی جیسی مشترکہ بنیادی اقدار رکھتا ہے۔ سی پی ٹی پی پی کو اس بات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ تائیوان اْس کے سخت معیار پر مکمل طور پر پورا اترنے کے لیے تیار ہے۔ دوسری جانب جاپانی وزیر اعظم سیوشی ہیدے سوگا امریکا، آسٹریلیا اور بھارت کے ساتھ 4 فریقی سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے روانہ ہوگئے۔ یہ کواڈ اتحاد کا پہلا بالمشافہ اجلاس ہوگا۔ روانگی سے قبل سوگا کا کہنا تھا کہ تمام ممالک کئی شعبوں میں مل کر کام کرنے پر اتفاق کریں گے۔ ان میں ویکسین کی منصفانہ تقسیم سمیت کورونا وائرس کے خلاف اقدامات شامل ہیں۔