افغانستان میں مشترکہ اور جامع حکومت بنائی جائے،سلامتی کونسل

191

نیو یارک/بیجنگ/ برلن (آن لائن) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل اراکین نے طالبان پر زور دیا ہے کہ افغانستان میں مشترکہ اور جامع حکومت بنائی جائے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیوگوتریس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل کے مستقل رکن ممالک پرامن اور مستحکم افغانستان کے خواہاں ہیں، سلامتی کونسل افغانستان میں آسان اور بلا تفریق انسانی امداد کی ترسیل اورخواتین کے حقوق کا احترام چاہتی ہے۔انہوں نے بتایاکہ افغانستان کو دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ نہ بننے دینے پر سب کا اتفاق ہوا ہے۔ادھر چینی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ افغانستان سے متعلق ہونے والے جی 20 وزرائے خارجہ کے اجلاس میں چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے افغانستان پر سے اقتصادی پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔انہوںنے کہا ہے کہ افغانستان کے زرمبادلہ کے ذخائر افغان عوام کا قومی اثاثہ ہیں جس پر نہ صرف ان کا اپنا حق ہونا چاہیے بلکہ استعمال بھی انہیں خود ہی کرنا چاہیے لہٰذا عالمی برادری زرمبادلہ کو افغانستان پر سیاسی دباؤ ڈالنے کے لیے سودے بازی کے طور پر استعمال نہ کرے۔دوسری جانب جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس کا کہنا ہے کہ اگر طالبان حکومت کو عالمی برادری سے تعلقات قائم کرنے ہیں تو اس کے لیے انہیں پہلے بعض شرائط کو پورا کرنا ہوگا۔ڈی ڈبلیو سے بات چیت میں انہوںنے کہا کہ طالبان کے ساتھ روابط کا انحصار اہم شرائط سے مربوط ہو گا۔ان کا کہنا تھا اہم بات یہ ہے کہ جو مطالبات ہم نے طالبان سے کیے ہیں، وہ انسانی حقوق، بالخصوص خواتین کے حقوق اور ایک جامع شمولیتی حکومت کے قیام کے بارے میں ہیں، مطالبات میں یہ بھی ہے کہ وہ خود کو دہشت گرد گروہوں سے دور رکھیں اور آخر میں یہ کہ محض باتوں سے کام نہیں چلنے والا بلکہ اس پر حقیقی عمل بھی ضروری ہے۔علاوہ ازیں بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر نیویارک میں جی 20کے وزرا خارجہ کی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان نے افغان سرزمین کو کسی بھی طرح کی دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دینے کا جو وعدہ کیا ہے اس پر عمل درآمد ہونا چاہیے۔بھارتی وزیر خارجہ نے اپنی ٹویٹس میں اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ دنیا توسیعی بنیاد پر ایک شمولیاتی عمل کی توقع رکھتی ہے جس میں افغان معاشرے کے تمام طبقات کو نمائندگی حاصل ہو۔ان کا کہنا تھاکہ جہاں تک بھارت سے تعلقات کی بات ہے تو یہ افغان عوام کے ساتھ اس کی تاریخی دوستی کی بنیاد پر منحصر ہوگی۔