شرح سود میں اضافے سے کاروبار کو دھچکا لگے گا،میاں زاہد

97

کراچی (اسٹاف رپورٹر)نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فورم وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدراورسابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا گیا ہے جس میں بنیادی شرح سود میں 0.25 فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے جویکم اکتوبر سے دوماہ کے لیے نافذ العمل ہوگا۔ اس فیصلے سے کاروباری لاگت بڑھ جائے گی جس سے ملک میں بڑھتی ہوئی معاشی سرگرمیوں پرمنفی اثر پڑے گا جبکہ برآمدات کی لاگت بھی کچھ حد تک بڑھے گی۔ میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بزنس کمیونٹی شرح سود 5 فیصد رکھنا چاہتی تھی لیکن سات فیصد پربھی مطمئن تھی اورزیادہ قرضے لے رہی تھی جس سے کاروباری سرگرمیاں اور پیداواربھی بڑھ رہی تھی جبکہ عوام بھی خرید وفروخت، گھراورکار فنانسنگ وغیرہ میں دلچسپی لے رہے تھے جس پراب منفی اثر پڑے گا۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ تعمیراتی اورکاروباری سرگرمیوں میں اضافہ کے ساتھ ساتھ درآمدات میں بھی مسلسل اضافہ ہورہا ہے جبکہ ایکسپورٹ میں اضافہ نہ ہونے سے تجارتی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھ رہا ہے موجودہ حالات میں جبکہ روپیہ مسلسل کمزور ہورہا ہے جس سے ہرچیز کی قیمت تیزی سے بڑھ رہی ہے ۔