پن ڈوبیاں یورپ امریکا اتحاد ڈبو رہی ہیں

386

جنگ ِ عظیم دوم کے بعد سب سے بڑے امریکا، برطانیہ اور آسٹریلیا کے جوہری آبدوزوں کے معاہدے پر امریکا کے پریس سیکرٹری جان ساکی نے کہا کہ یہ شراکت داری امریکا کے دفاعی مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے ہے جس میں انڈو پیسیفک علاقے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے بین الاقوامی قاعدوں کو ملحوظِ خاطر رکھا گیا ہے۔ اس معاہدے کی وجہ سے آسٹریلیا نے فرانس کے ساتھ 43 ارب ڈالر کا وہ معاہدہ منسوخ کر دیا ہے جس کے تحت، درجن بھر کنوینشنل سب میرینز (پن ڈوبیاں) آسٹریلیا کو فراہم کی جانی تھیں۔ جس میں سے ایک ارب 50 کروڑ ڈالرز آسٹریلیا نے فرانس کو ادا بھی کر دیے ہیں۔ چین اور فرانس نے امریکا، برطانیہ کی جانب سے آسٹریلیا کو جوہری طاقت سے لیس آبدوزوں کی تیاری میں مدد کے معاہدے پر برہمی کا اظہار کیا ہے جس کے بعد وائٹ ہائوس فرانس سے کشیدگی کم کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ چین نے خطے میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے ایشیا پیسیفک تجارتی معاہدے کی رکنیت حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ امریکا، برطانیہ اور آسٹریلیا کے درمیان ایک تاریخی معاہدے کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔ سی پی ٹی پی پی نامی اس تجارتی معاہدے کو دراصل امریکا نے چین کے خطے میں اثر رسوخ کو کم کرنے کے لیے بنایا تھا تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2017ء میں اس معاہدے سے دستبرداری کا اعلان کر دیا تھا۔ چین کے وزیرِ تجارت وانگ وینٹاؤ نے بتایا کہ دنیا کی دوسری بڑی معیشت نے اس فری ٹریڈ معاہدے کا حصہ بننے کے لیے نیوزی لینڈ کے وزیر ِ تجارت کو خط لکھ دیا ہے۔ نیوزی لینڈ اس معاہدے کے انتظامی امور سنبھالتا ہے۔ خیال رہے کہ سابق امریکی صدر بارک اوباما کی جانب سے اس ٹرانس پیسیفک پارٹنر شپ (ٹی پی پی) کے قیام کے وقت اسے ایشیا پیسیفک میں چین کے بڑھتے معاشی اثر رسوخ کو چیلنج کرنے والا معاشی بلاک قرار دیا گیا تھا۔ جب صدر ٹرمپ نے اس معاہدے سے دستبرداری کا اعلان کیا تو جاپان نے ان مذاکرات اور مشاورت کے بعد سی پی ٹی پی پی کے قیام کا اعلان کیا۔ سی پی ٹی پی پی معاہدے پر 2018 میں 11 ممالک نے دستخط کیے تھے جن میں آسٹریلیا کینیڈا، چلی، جاپان اور نیوزی لینڈ شامل ہیں۔
آکس (آسٹریلیا، یو کے، یو ایس) سے موسوم سیکورٹی شراکت داری کے اس نئے معاہدے میں آسٹریلیا، برطانیہ اور امریکا شامل ہیں۔ یہ جنگ ِ عظیم دوم کے بعد سب سے بڑا دفاعی معاہد ہ ہے جو بحرالکاہل میں چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کا مقابلہ کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ لیکن عالمی تجزیہ کار اس اقدام کو عسکری میدان اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں چین کی بڑھتی ہوئی قوت کے مقابلے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم اسکاٹ موریسن نے کہا ہے کہ جب فرانس کے ساتھ 2016 میں معاہدہ کیا گیا تھا، تب امریکی ٹیکنالوجی دستیاب نہیں تھی۔ اس معاہدے کے بعد فرانس کے وزیرِ دفاع ژا ژیو یودگیان نے ’فرانس انفو ریڈیو نیٹ ورک‘ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے آسٹریلیا اور امریکا پر تنقید کی ہے۔ اْن کا کہنا تھا کہ یہ پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہے۔ فرانسیسی وزیرِ دفاع نے امریکا کے صدر جو بائیڈن پر بھی تنقید کی اور انہیں منفی انداز میں اپنے پیش رو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح قرار دیا۔ ان کے بقول، ’’یہ سنگ دلانہ، یکطرفہ اور غیر متوقع فیصلہ ہمیں بہت کچھ یاد دلاتا ہے جو ماضی میں مسٹر ٹرمپ کیا کرتے تھے۔
امریکا، برطانیہ اور آسٹریلیا کا سیکورٹی کا نیا اتحاد، انڈوپیسفک تعلقات میں نیا موڑ سامنے لارہا ہے۔ چین نے بھی برہمی کے ساتھ اس پیش رفت پر اپنا ردعمل دیا ہے۔ چینی وزارت ِ خارجہ کے ترجمان ژاو لیجان نے بیجنگ میں پریس کانفرنس کے دوران خبردار کیا کہ مذکورہ معاہدہ علاقائی سلامتی اور امن کو گمبھیر نقصان پہنچاتا ہے۔ انہوں نے تینوں ملکوں (آسٹریلیا، برطانیہ، امریکا) پر الزام عائد کیا کہ وہ انتہائی غیر ذمے دارانہ رویے کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ ترجمان نے تینوں ملکوں پر زور دیا کہ وہ سرد جنگ کے دور کی ذہنیت ترک کر دیں۔ چین کے بیان کے ردِعمل میں وائٹ ہاؤس کی ترجمان جین ساکی نے کہا کہ امریکا پیپلز ری پبلک آف چائنا کے ساتھ سخت مقابلے کے لیے صلاحیت میں اضافے کا خیر مقدم کرتا ہے۔ صدر بائیڈن نے گزشتہ روز ویڈیو لنک پر آسٹریلیا اور برطانیہ کے رہنماؤں کے ساتھ اجلاس میں شرکت کے موقع پر کہا تھا کہ آسٹریلیا کو جوہری طاقت سے لیس آبدوزوں کی ٹیکنالوجی فراہم کرنے کا معاہدہ اہم ہے۔ صدر جو بائیڈن کے بقول ’’ہمیں اس قابل ہونا چاہیے کہ خطے کے موجودہ اسٹرٹیجک ماحول اور اس سے پیدا ہونے والی صورتِ حال سے نمٹ سکیں۔ آسٹریلیا کو آبدوزوں کی فراہمی کے اقدام کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ہم میں سے ہر ایک کے پاس جدید صلاحیتیں موجود ہیں جن کی ہمیں ضرورت ہے کہ ہم چین کے تیزی سے بڑھتے ہوئے خطرات کے خلاف اپنا دفاع کر سکیں۔
آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم اسکاٹ موریسن کہتے ہیں اْن کا ملک جوہری ہتھیاروں کا خواہش مند نہیں۔ امریکی صدر اور برطانوی وزیرِ اعظم کے ساتھ ویڈیو لنک پر گفتگو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ وہ جوہری عدم پھیلاؤ سے متعلق اپنی ذمے داریاں پوری کرتے رہیں گے۔ بائیڈن انتظامیہ کے ایک اہل کار کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا کو ایٹمی آبدوزوں کی فراہمی کے لیے 18 مئی 2022ء کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے جس کے دوران تینوں ممالک ان آبدوزوں کی حوالگی کے مراحل پر کام کریں گے۔ برطانیہ کے وزیرِ اعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ ان کا ملک آسٹریلیا کے ساتھ معلومات کے تبادلے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ یاد رہے کہ آسٹریلیا برطانیہ کی سابق نو آبادیات کا حصہ رہا ہے اور اب بھی کامن ویلتھ کا حصہ ہے۔ کامن ویلتھ ایک ایسی تنظیم ہے جس کی قیادت ملکہ الزبتھ دوم کے پاس ہے۔ نئی شراکت داری تینوں ملکوں کے لیے اہم ٹیکنالوجی، جیسے کہ مصنوعی ذہانت، سائبر ٹیکنالوجی، کوانٹم ٹیکنالوجی، انڈر واٹر سسٹمز سمیت مختلف شعبوں میں معلومات اور مہارت کے تبادلے کو مزید آسان بنائے گی۔ اس سیکورٹی معاہدے کے تحت انٹیلی جنس اور کوانٹم ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں ٹیکنالوجی اور معلومات کے تبادلے کے ساتھ ساتھ کروز میزائل کا حصول بھی شامل ہے۔
آسٹریلین اسٹرٹیجی پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے دفاعی و قومی سلامتی کے ڈائریکٹر مائیکل شوبرج کا کہنا تھا کہ ’’ایک ایٹمی آبدوز بہت زیادہ دفاعی صلاحیتوں کی حامل ہوتی ہے اور اسی وجہ سے اس خطے میں ان کے نتائج ہوں گے۔ دنیا کے صرف چھے ممالک کے پاس ایٹمی آبدوزیں ہیں اور وہ ایٹمی ہتھیاروں کے بغیر بھی ایک طاقتور دفاعی صلاحیت ہیں۔ امریکی جوہری ’آبدوز پرپلسن ایٹمی‘‘ ایسی آبدوزیں عام آبدوزوں کی نسبت بہت زیادہ خفیہ رہ سکتی ہیں، اس ٹیکنالوجی کی وجہ سے امریکی چھے ماہ تک خاموشی سے کام کرتی ہیں اور وہ آسانی سے حرکت کر سکتی ہیں اور ان کی کھوج لگانا مشکل ہوتا ہے۔ لیکن وہ سب کہیں دور تک بھی نظر نہیں آرہے جو کہا کرتے ہیں دنیا کا ماحول تباہ ہو جائے گا۔ لیکن امریکا کو یہ یاد رکھنا ہو گا کہ ’’پن ڈوبیاں یورپ امریکا اتحاد ڈبو رہی ہیں‘‘۔