عالمی تقسیم کے سائے کھیل پر

219

نیوزی لینڈ کی ٹیم نے راولپنڈی میں کرکٹ میچ کے آغاز سے چند گھنٹے قبل کھیلنے سے انکا ر کرکے پاکستان سمیت دنیا بھر میں شائقین کرکٹ کو مایوس کر دیا۔ اس فیصلے کا جواز سیکورٹی تھریٹ کو بتایا گیا مگر یہ نہیں بتایا گیا کہ آخر کس نے نیوزی لینڈ کی ٹیم کے کان میں دہشت گردی کی دھمکی پھونکی تھی۔ ایسے میں جب نیوزی لینڈ کی سیکورٹی ایجنسیاں خود یہاں آکر حالات کا جائزہ لے کر گرین سگنل دی چکی تھیں اور پاکستان کی ایجنسیوں نے بھی حفاظتی اقدامات کو تسلی بخش قرار دیا تھا۔ حکومت نے غیر ملکی کی کھلاڑیوں کی حفاظت کے لیے فول پروف اقدامات کر رکھے تھے۔ اس کے باوجود نیوزی لینڈ کی ٹیم کا عین وقت پر کھیلنے کا فیصلہ بدلنا شائقین کرکٹ کی سماعتوں پر بجلی بن کر گرا۔ نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جسینڈا آرڈرن نے ٹیم کے نہ کھیلنے اور واپسی کا رخت سفر باندھنے کے فیصلے کی تائید کرتے ہوئے کھلاڑیوں کی دیکھ بھال پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ وزیر اعظم عمران خان نے تاجکستان سے جسینڈا آرڈرن سے ٹیلی فون پر بات کی اور انہیں فیصلہ بدلنے کو کہا مگر وہ اپنے فیصلے پر قائم رہیں جس پر عمران خان نے کہا کہ نیوزی لینڈ نے یہ فیصلہ کرکے پاکستان کی ایجنسیوں اور سیکورٹی نظام پر سوال کھڑا کر کے پاکستان کی ساکھ خراب کی ہے۔ عمران خان نے پی سی بی کے چیرمین رمیز راجا کو یہ معاملہ آئی سی سی میں اُٹھانے کو کہا ہے۔ وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسے سیاسی فیصلہ قرار دیا اور کہا کہ اس میں دستانے پہنے ہوئے ہاتھ ہیں جن کا نام لینا مناسب نہیں۔ کرکٹ میچ ملتوی ہونے کے بعد حسب ِ روایت بھارت میں دھمالیں شروع ہو گئیں۔ اس فیصلے سے پاکستان میں امن وامان کی صورت حال کے بارے میں عالمی سطح پر سوال کھڑے کیے گئے اور اس کا مقصد پاکستان کی ساکھ کو بری طرح خراب کرنا ہے۔
نیوزی لینڈ اس وقت آسڑیلیا کا ہمسایہ اور قریبی اتحادی ہے اور آسڑیلیا کواڈ کے نام سے امریکا، جاپان اور بھارت کے ساتھ مل کر جنوبی چین کے سمندروں میں چین کا گھیرائو کرنے کی تیاریاں کر رہا ہے۔ کواڈ کا معاہدہ ہی کیا کم تھا اب آسٹریلیا نے برطانیہ اور امریکا کے ساتھ آکوس کے نام سے ایک اور معاہدہ کیا ہے اور کواڈ کی طرح یہ معاہدہ بھی چین کے خلاف ہے۔ اس معاہدے نے یورپ کو تقسیم کردیا اور فرانس نے برطانیہ کے ساتھ معاہدے میں بندھنے پر آسٹریلیا پر کڑی تنقید کی ہے۔ ایک آکوس معاہدے میں آسڑیلیا امریکا اور برطانیہ نے ایٹمی آبدوزیں چھوڑنے کا اعلان کیا ہے چین نے اس فیصلے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے غیر ذمے دارانہ قرار دیا ہے۔ ایک اور معاہدے میں نیوزی لینڈ براہ راست شریک ہے یہ پانچ ملکی معاہدے فائیو آئیز یعنی پانچ آنکھیں کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس معاہدے میں امریکا، برطانیہ، کینیڈا، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا شامل ہیں۔ ایک طرف صورت حال یہ ایک پول کا پورا زور دوسرے پول کو اُبھرنے سے روکنے پر صرف ہو رہا ہے دوسری طرف چین، روس، ایران اور پاکستان اس نظام کے توازن کی خاطر ایک نیا پول بنانے اقدامات کر رہے ہیں۔ پاکستان اس میں اس قدر منہمک ہے کہ اس کے سربراہ کی ایک مہینے میں دو بار روسی صدر پیوٹن سے بات ہوتی ہے اور چین کے حکمرانوں سے کسی بھی بات ہوسکتی ہے مگر امریکا کے صدر کے ساتھ ابھی تک رسمی ہیلو ہائے بھی نہیں ہوئی۔
دنیا کی تشکیل نو کا ایک عمل سرعت کے ساتھ جاری ہے۔ افغانستان میں مغربی بلاک کی شکست نے مغرب کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ انہیں احساس ہے کہ سونے کی ایک چڑیا ان کے ہاتھ سے نکل گئی ہے اور وہ اسے اپنی بڑی ناکامی قرار دے رہے ہیں۔ مغربی ملکوں کی رائے عامہ اپنی حکومتوں کی فوجی صلاحیتوں پر سوال اُٹھا رہی ہے۔ لوگ پوچھ رہے ہیں کہ اگر بیس سال بعد پھر افغانستان طالبان کے حوالے ہی کرنا تھا تو ان کی حکومت گرانا کیا ضروری تھا اور اس کے لیے ہزاروں فوجی اور کھربوں ڈالر خرچ کیوں گئے۔ امریکا سمیت کئی فوجی جرنیل قانون سازا داروں کے کٹہروں میں پیش ہونے پر مجبور ہو رہے ہیں جہاں سخت سوالوں سے ان کی پالیسیوں کے بخیے ادھیڑے جا رہے ہیں۔ مغربی بلاک یہ سمجھتا ہے کہ اس خفت اور ندامت کا شکار کرنے میں پاکستان کا سب سے زیادہ حصہ ہے۔ اس لیے مغرب ایک زخمی شیرنی کی طرح پلٹ کر وار کرنے کے طریقے سوچ رہا ہے۔ افغانستان میں شلواریں چھوڑ کر بھاگنے والے بھارتی را کے افسر بھی بدلہ لینے کے جذبات سے لبریز ہیں۔ افغانستان میں خانہ جنگی کرکے کھیل اُلٹ ڈالنے کی کوششیں اب تک ناکام ہو چکی ہیں۔ پنج شیر میں ماضی کے افسانوی کردار افسانہ بن کر رہ گئے ہیں۔ اندازہ ہورہا ہے کہ ان کی طاقت کا راز قریبی وسط ایشیائی ریاستیں اور روس کی آشیر باد تھی۔ اب نئی ہونے والی تقسیم میں روس کسی اور مقام پر کھڑا ہے اور روس کا مطلب وسط ایشیا کی سابق سوویت ریاستیں بھی ہیں جو اب آزاد ملکوں کے طو رپر کام کر رہے ہیں مگر ان پر روس کا اثر اب بھی محسوس کیا جا رہا ہے۔ اس بدلی ہوئی فضا اور بدلے ہوئے زمینی حقائق کے باعث افسانوی کردار افسانہ بن کر رہ گئے۔ اس عالمی تقسیم کے اثرات اب کھیلوں پر بھی پڑ رہے ہیں۔ نیوزی لینڈ کی طرف سے میچ کی منسوخی کا فیصلہ بھی اپنے اندر سیاسی اثرات لیے ہوئے ہے۔ ابھی کھیل کی ابتدا ہے۔ جوں جوں دنیا کی تقسیم کے خدوخال واضح ہوتے جائیں گے اس طرح کی رسہ کشی بڑھتی چلی جائے گی۔ مغرب کے ارمان افغانستان میں بائیڈن کے آنسوئوں کی صورت میں بہہ گئے ہیں تو جوابی طور پر وہ کچھ نہ کچھ تو کریں گے؟