کراچی شہر نہیں کچرا ہے ،شیم آن سندھ حکومت ،چیف جسٹس

226

کراچی(اسٹاف رپورٹر) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے سندھ حکومت کی کارکردگی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سر سے پاؤں تک پورا کراچی گندا ہے، یہ شہر نہیں کچرا ہے ، سڑکیں ٹوٹی ہوئی اور بجلی کے تار لٹک رہے ہیں، شیم آن سندھ حکومت۔بدھ کو شہر قائد میں تجاوزات کے خاتمے سے متعلق کیس کی سماعت عدالت عظمیٰ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں ہوئی۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سندھ حکومت میں کچھ نہیں ہورہا، سندھ میں سردرد صورتحال ہے ،ورلڈ بینک کے کتنے منصوبے ہیں مگر کچھ نہیں ہورہا، وزرا اور باقی سب کے لیے فنڈز ہیں ، باقی سارے امور چلا رہے ہیں، صرف عوام کے لیے پیسے نہیں، یہ عدالت عظمیٰ کو طے کرنا ہے کہ پیسے کہاں خرچ کرنا ہیں؟ جب تک نالہ متاثرین کو گھر نہیں دیتے، وزیراعلیٰ اور گورنر ہاؤس الاٹ کر دیتے ہیں، جنہوں نے یہ زمینیں الاٹ کیں، ان کے خلاف کیا ایکشن لیا۔چیف جسٹس کے استفسار پر سلمان طالب الدین نے کہا کہ یہ تو 40سال پرانا مسئلہ ہے، جس پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آپ انتہائی غیر ذمے دارانہ بیان دے رہے ہیں، یہ کوئی طریقہ نہیں، شیم آن سندھ حکومت۔جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ جس بلڈنگ کو اٹھاؤ اس کا برا حال ہے، سٹرکیں ٹوٹیں، بچے مریں، کچھ بھی ہو، یہ کچھ نہیں کرنے والے، یہ حال سندھ حکومت کا اور یہی حال وفاقی حکومت کا بھی ہے، سب پیسہ بنانے میں لگے ہوئے ہیں، سیاسی جھگڑے اپنی جگہ مگر لوگوں کے کام تو کریں، پورا کراچی گند میں بھرا ہوا ہے، گٹر ابل رہے ہیں، تھوڑی بارش میں شہر ڈوب جاتا ہے، کیا یہ کراچی شہر ہے، غیر قانونی قبضوں اور تجاوزات کی بھرمار ہے، کوئی سڑک ، کوئی گلی دیکھ لیں ، ٹوٹی ہوئی ہے، کچھ نہیں کراچی میں، یہ تو گاربیج دکھائی دیتا ہے، شہر اس طرح چلایا جاتا ہے؟ کراچی میں ایک انچ کا بھی کام نہیں ہوا ، یہ ہے سندھ حکومت، اور پھر کہتے ہیں پیسے نہیں۔ایڈووکیٹ جنرل سندھ سلمان طالب الدین نے مؤقف اختیار کیا کہ جب محدود وسائل ہوتے ہیں تو مشکلات ہوتی ہیں۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ کی ترجیحات کچھ اور ہیں، آپ نے زمین اونے پونے بیچ دی، لوگوں کی بحالی کے لیے آپ کے پاس پیسے نہیں ہیں۔ ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ گجر نالہ متاثرین کے لیے 10 ارب روپے چاہییں، جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ سندھ حکومت کا بجٹ کتنا ہے؟ ایڈوکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ اس وقت میں نہیں بتا سکتا۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سندھ حکومت کا کئی سو ارب کا بجٹ ہوتا ہے، متاثرین کی بحالی کے لیے 10 ارب روپے نہیں ہیں آپ کے پاس؟چیف جسٹس نے ایڈوکیٹ جنرل سندھ سے کہا کہ آپ لوگوں کی بحالی کا راستہ نکالیں، جبکہ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ نے ہمیں کہا کہ نالے صاف کروائیں ہم نے کروا دیے، اب آپ کہہ رہے ہیں کہ پیسے نہیں۔ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ بورڈ آف ریوینیو کی جانب سے رپورٹ پیش کی جا چکی ہے، 6 ہزار 5 ایکڑ زمین پر ترقیاتی کام ہوں گے، وفاقی حکومت نے پیسے نہیں دیے جس کی وجہ سے سندھ حکومت شدید مالی بحران کا شکارہے، وفاقی حکومت کے پاس 20 ارب روپے رہتے ہیں۔جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ سندھ حکومت کو اربوں روپے ہر سال ملتے ہیں پھر بھی کہتے ہیں کہ پیسے نہیں ہیں،اگر سروس نہیں دے سکتے تو جائیں کسی اور کو آنے دیں۔اس موقع پر اٹارنی جنرل آف پاکستان نے کہا کہ گجر نالہ متاثرین کی بحالی حکومت کی ذمے داری ہے، زمین موجود ہے اس کی نیلامی ہو سکتی ہے اور بہت طریقے ہیں متاثرین کی بحالی کے، وفاقی اور صوبائی حکومت کو مل بیٹھ کر مسئلہ حل کرنا ہوگا۔عدالت نے کہا کہ ماضی میں سندھ حکومت کہتی رہی ہے کہ متاثرین کی بحالی کا کام کریں گے، اب کہتے ہیں کہ پاس پیسے نہیں ہیں، ایڈووکیٹ جنرل سندھ کا عدالت کے سامنے بیان مناسب نہیں ہے، متاثرین کی بحالی سندھ حکومت کی ذمے داری ہے، سندھ حکومت اپنے وسائل سے متاثرین کی بحالی کرے۔عدالت عظمیٰنے وزیراعلیٰ سندھ کو نالوں سے متعلق ابتدائی رپورٹ 2 ہفتوں میں پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ایک سال میں نالہ متاثرین کی بحالی کے لیے فنڈز کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔