قبول اسلام کیلئے کوئی عمر مقرر نہیں، عدالت نے تبدیلی مذہب کیلئے ذہنی بلوغت پیمانہ قرار دیدیا

360

اسلام دس سال کی عمر میں تبدیلی مذہب کی اجازت دیتا ہے شریعت نے قبول اسلام کیلئے کوئی خاص عمر مقرر نہیں کی،عدالت

لاہور(آئی این پی)لاہور ہائیکورٹ نے ذہنی بلوغت کو تبدیلی مذہب کے لیے پیمانہ قرار دے دیا، جمعرات کو نجی ٹی وی کے مطابق گلزار مسیح نے اپنی چودہ سالہ بیٹی چشمان کے تبدیلی مذہب کے خلاف ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی جس پر عدالت نے فیصلے میں حضرت علی کی مثال دی ،عدالت نے فیصلے میں کہا کہ اسلام دس سال کی عمر میں تبدیلی مذہب کی اجازت دیتا ہے شریعت نے قبول اسلام کے لیے کوئی خاص عمر مقرر نہیں کی،عدالت نے چشمان کو والدین کے حوالے کیے جانے کی استدعا مسترد کردی اور چشمان کے قبول اسلام کو قانونی قرار دے دیا، واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے چشمان کیس کا 14ستمبر کو سماعت کے بعد محفوظ کیا تھا۔