حیدرآباد ، سیاسی جماعت کے دفتر کو مسمار کرنے پر ہنگامہ آرائی

113

حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) ضلعی انتظامیہ کی نگرانی میں بلدیہ کی جنرل بدین اسٹاپ کی اراضی کے لیے شروع کی جانے والی کارروائی تصادم کی نظر، سیاسی جماعت کے دفتر کو مسمار کرنے پر ہنگامہ آرائی،پتھراؤ، فائرنگ سے ایک شخص زخمی، سیاسی رہنما کی گرفتاری کیخلاف بدین بس اسٹاپ سبزی منڈی، نیا پل باچا خان چوک سمیت دیگر علاقوں میں بازار بند، پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری طلب علاقے میں کشیدگی۔ اسسٹنٹ کمشنر لطیف آباد فاطمہ صائمہ احمدکی جانب سے ضلع کے مرکزی جنرل بدین اسٹاپ پر قائم تجاوزات ختم کرانے اورسرکاری اراضی قابضین سے واگزار کرانے کے لیے پلان جاری کیا تھا جس کے تحت کیے جانے والی کارروائی پتھرائو، فائرنگ اور بھگدڑ کے نتیجے میں ابتدائی مراحل ہی میں روک دی گئی۔ اسسٹنٹ کمشنر لطیف آباد کی سرکردگی میں بلدیہ اینٹی انکروچمنٹ سیل کے عملے نے ڈائریکٹر ولی محمد شاہ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر فیاض کلیار کی سرکردگی میں بھاری مشینری کے ذریعے کارروائی کا آغاز معمولی تھلوں اور عارضی تجاوزات کے خاتمے سے کیا اس دوران وہاں قابضین اوران کے حامیوں کی بڑی تعداد وہاں جمع ہوگئی،کاروائی کے دوران عملے نے سیاسی جماعت کے دفتر کی سرکاری اراضی پر قائم سیڑھیوں سمیت تین دکانوں کو مسمارکرکے مزید کارروائی کی کوشش کی تو موقع پر موجود ایک سیاسی جماعت کے رہنماء کے گارڈ کی چلنے والی گولی لگنے کے نتیجے میں ایک شخص زخمی ہوگیا جیسے فوری موقع سے غائب کردیا گیا، معلوم ہواہے کہ مذکورہ شخص قابضین کے ساتھ پہنچا تھا اور مزاحمت میں شامل تھا، اسی دوران قابضین نے ایکسیویٹرز سمیت دیگر سرکاری گاڑیوں اور عملے پر پتھرائو شروع کردیاجس سے سرکاری عملے کے کئی اہلکار معمولی زخمی ہوگئے۔ اس موقع پر موجود پولیس اوراینٹی انکروچمنٹ فورس کی بھاری نفری افسران موجودگی میں خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتی رہی اور اسسٹنٹ کمشنر لطیف آبادسمیت دیگر افسران کے جاتے ہی غائب ہوگئی۔ بعد ازاں اسسٹنٹ کمشنر لطیف آباد کی جانب سے قابضین کودستاویزات سمیت اپنے دفتر طلب کرلیا گیا جہاں رات گئے تک افسران قابضین کی موجودگی میں دستاویزات کی چھان بین میں مصروف رہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما جاوید خان کی گرفتاری کیخلاف بدین جنرل اسٹاپ، سبزی منڈی، نیاپل، باچا خان چوک سمیت دیگر علاقوں میں دکانیں بند ہوگئیں۔ واضح رہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے 2 نومبر 2016ء ضلع بھر سے تمام تجاوزات ختم کرانے سابق ڈویژنل کمشنرقاضی شاہد پرویز کوکپتان مقررکرتے ہوئے احکامات دیے تھے جس کے بعد ڈپٹی کمشنرمعتصم عباسی کی سرکردگی میں بلدیہ اینٹی انکروچمنٹ سیل نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر توحید احمد راجپوت کی سرکردگی میں سٹی لطیف آباد کے علاقوں میں کئی مہینوں تک جاری انسدادتجاوزات آپریشن دوران ہزاروں تجاوزات کو مسمار کرکے اربوں روپوں کی سرکاری اراضی کو واہ گزارکرایاتھااسی طرح جنرل بدین اسٹاپ کی اراضی واگزار کرانے کے لیے تقریباً 10 روزہ جاری کارروائی کے دوران درجنوں کئی کئی منزلہ تعمیرات، سیکڑوں دکانوں و دیگر تجاوزات کو مسمار کرکے تقریباً99 فیصد جنرل بدین اسٹاپ کی اراضی کو واگزار کرالیا تھا، مگر مذکورہ اراضی کے ایک حصے پر سیاسی جماعت کا دفتر قائم ہونے کے باعث سیاسی اثر و رسوخ، دبائو، دھونس دھمکیوں کے سبب آپریشن کو روک دیاگیا۔