قبول اسلام کی منظوری مسترد کرتے ہیں ، علماء مشائخ

119

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) ملک بھر کے علماء مشائخ نے18سال سے کم عمر افرادکے قبول اسلام پر پابندی اور غیر آئینی اور اسلام مخالف قوانین، سندھ اسمبلی میں قبول اسلام بل کی منظوری اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو مسترد کرتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پرشدید غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے بھر پور مذمت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئین پاکستان کے مطابق کوئی بھی قانون اسلام سے متصادم بنانے کی اجازت بالکل نہیں مگر بدقسمتی سے مدینہ کی ریاست کے دعویدار حکمرانوں نے ماضی قریب سے وفاق اور صوبوں میں بالخصوص پنجاب اور سندھ میں مختلف قوانین بنائے جو قرآن وحدیث کے صریح خلاف اور آئین پاکستان سے متصادم ہیں جنہیں ہر کلمہ گو مسترد کرتا ہے۔ ایک کے بعد ایک اسلام دشمن اور آئین پاکستان سے متصادم بل ملک میں پاس ہونا بظاہر ایسا لگتا ہے کہ جیسے مدینہ کی ریاست کے دعویدار ہی اصل میں اسلام دشمن اقدامات کی پشت پناہی کررہے ہیں۔ ملک میں ایک سازش کے تحت فرقہ واریت کی آگ بھڑکانے کی سازش کی جارہی ہے، عقائد اسلام اور ملک کی اکثریتی عوام کے عقائد کے خلاف کھلم کھلا بدزبانی کی جارہی ہے یہ سب کچھ ملک دشمن عناصر کی طرف سے وطن عزیز کو غیر مستحکم کرنے کے لیے کیا جارہا ہے جو لمحہ فکر ہے۔ ان خیالات کا اظہارعلماء مشائخ نے ملک بھر کے علماء مشائخ کی نمائندہ تنظیم علماء مشائخ فیڈریشن آف پاکستان اور مختلف مکاتب فکر کے علماء مشائخ کے ہنگامی اجلاس جو مرکزی چیئر مین سفیر امن پیر صاحبزادہ احمد عمران نقشبندی کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں متحدہ ختم نبوت فورم پاکستان، علماء ایکشن کمیٹی،جمعیت قوۃ الاسلام پاکستان،بزم محبان شہید وطن حضرت ظہورالحسن بھوپالیؒ، اہلسنّت رابطہ کونسل پاکستان، نیشنل مشائخ کونسل، الجماعت اہلسنّت پاکستان، قومی امن رابطہ کونسل پاکستان کے رہنماؤں فقیر ملک محمدشکیل قاسمی، علامہ محمدحفیظ اللہ ہادیہ صدیقی، علامہ سید آصف مصطفائی، محمد سلیم خاں، صوفی سید مسرورہاشمی خانی، پیر ارشدقمر، پیر غلام غوث محی الدین حسینی جانی شاہ مرکزی ،پروفیسر ڈاکٹر جلال الدین نوری ،علامہ ڈاکٹر محمود عالم جہانگیری آسی۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد سعید ، پیر محمد فیض قادری ، مرشد احمد سفیان گورایا ایڈووکیٹ، محمد جنید احمد، احمد مہران گورایا ایڈووکیٹ، سید غلام مصطفی ، ایس مسرور ہاشمی ، قاضی کامران احمد، ایم ظفر حسین ، محمد جنید احمد،،محمد شاہ بخاری ، دربار حقانی کے خلیفہ مجتبیٰ حسنین ، شجاعت احمد صدیقی ، پروفسیر ڈاکٹرضیاء الدین ، پروفسیر ڈاکٹر مہربان نقشبندی، پیر عبدالغنی سہروردی،پیر محمد احمد چشتی ، صاحبزاہ کامران سرفراز چشتی ، پیر غلام مدنی، مفتی شاہ محمدیوسف محمدی،پیر سیف الرحمان کھگہ، پیر حاجی قدیر،پیر سید معین شاہ،پیر زادہ ایم امین، ذیشان قادری، عبدالرحمان خانی ودیگر نے شرکت کی۔ اجلاس کے بعد جاری اعلامیئے کے مظابق علماء مشائخ نے کہا کہ سندھ اسمبلی نے ایک ایسا کالا اور شرمناک قانون منظور کیا جو اسلامی تعلیمات اور احکامات کے بالکل منافی ہے۔ سندھ اسمبلی میں منظور کیے گئے بل کے مطابق 18 سال سے کم عمر افراد کا قبول اسلام معتبر نہیں ہے جبکہ 18 سال سے زائد عمر کا شخص 21 روز تک قبول اسلام کا اعلان نہیں کرسکتا۔ایسی صورت میں اسلام قبول کرانے والے یعنی کلمہ پڑھانے والے اور نکاح خواں کے لیے کم از کم 5 سال یا عمر قید کی سزا مقرر کی گئی ہے، کلمہ اور نکاح پڑھانے والے شخص کی مذکورہ مقدمہ میں ضمانت بھی نہیں ہو سکے گی ،انہوں نے کہا کہ نظریہ پاکستان اور آئین پاکستان کی دشمن لابی حکومت کی گود میں بیٹھ کر غیر اسلامی قانون سازی کی ڈوریں ہلا رہی ہے۔ پوری پاکستانی قوم نظریہ پاکستان اور اسلام دشمن بل پاس کرنے والے سابقہ اور موجودہ حکمرانوں کے مکروہ عزائم کو پوری طرح پہچان چکی ہے۔علماء مشائخ نے کہا کہ ایسے قوانین کا مقصد صرف اسلام کی ترویج و اشاعت روکنے کی کوشش کرنا ہے کیونکہ اس وقت اسلام واحد مذہب ہے جو تیزی سے دنیا بھر میں پھیل رہا ہے۔