جمس اسپتال میں ڈائریکٹر کی تقرری پر وزیر صحت کو خط

69

جیکب آباد (نمائندہ جسارت) ڈسٹرکٹ بار کی جانب سے جمس اسپتال میں ڈائریکٹر کی تقرری اور بے ضابطگیوں پر وزیر صحت کو خط، تحقیقات کرانے کا مطالبہ۔ جیکب آباد کی ڈسٹرکٹ بار نے جمس اسپتال میں شدید بے ضابطگیوں، ڈائریکٹر عبدالواحد کی غیر قانونی تقرری کیخلاف وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو کو خط لکھ کر کرپشن کی تحقیقات کرانے اور جمس اسپتال کو مکمل فعال کرنے سمیت ایماندار سند یافتہ ڈائریکٹر مقرر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ڈسٹرکٹ بار جیکب آباد کے نائب صدر زاہد حسین سومرو اور جنرل سیکرٹری مظفر رند کی جانب سے لکھے گئے خط کی کاپی سیکرٹری صحت، ڈی جی حیدرآباد، کمشنر لاڑکانہ، ڈپٹی کمشنر جیکب آباد اور بیس کمانڈر شہباز ایئر بیس کو بھی ارسال کی گئی ہے۔ جیکب آباد بار کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ جمس ڈائریکٹر کے متعلق سوشل میڈیا، پرنٹ میڈیا اور مریضوں کی جانب سے متعد د شکایات ہیں کہ ڈائریکٹر جمس عبدالواحد ٹگڑ ٹھیکوں اور ادویات کی خریداری میںکرپشن میں ملوث ہیں۔ سالانہ 60 کروڑ روپے سے زائد بجٹ کے باوجود جمس اسپتال کو مکمل فعال کرنے سمیت ایم آر آئی، سٹی اسکین، ٹراما سینٹر اور چوبیس گھنٹے ایمرجنسی کی سہولت دینے میں ناکام ہوگئے ہیں۔ امراض چشم کے آپریشن، جنرل سرجری، تھیلیسیمیا سینٹر تک کی سہولت موجود نہیں، عبدالواحد ٹگڑ کی ڈائریکٹر کے طور پر تقرری جمس ایکٹ کے خلاف ہے، 4 ستمبر 2018ء کو ایک نوٹیفکیشن کے تحت محکمہ صحت لاڑکانہ کے فیلڈ سپروائزر 19 گریڈ کے عبدالواحد ٹگڑ کو جمس کے ڈائریکٹر کا اضافی چارج عارضی طور پر دیا گیا جب تک مستقل ڈائریکٹر کی تعیناتی نہیںہوجاتی، اس لیے اعلیٰ تحقیقاتی ادارے سے شفاف تحقیقات کرانے کے احکامات جاری کریں۔