کنیڈا : حکمراں جماعت واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکام

158
کیوبک (کینیڈا): وزیراعظم جسٹن ٹروڈو اپنی جماعت کی کامیابی پر جشن منا رہے ہیں

اوٹاوا (انٹرنیشنل ڈیسک) کینیڈا میں وزیراعظم جسٹس ٹروڈو کی زیرقیادت لبرل پارٹی نے عام انتخابات میں ایک بار پھر کامیابی حاصل کرلی، تاہم اسے واضح اکثریت حاصل نہیں ہوسکی۔ کینیڈا میں گزشتہ 2 برس سے بھی کم عرصے میں دوسری بار ایک نئی حکومت منتخب کرنے کے لیے انتخابات کرائے گئے تھے۔ وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے کورونا وائرس کی وبا کے نام پر یہ کہتے ہوئے قبل از وقت انتخابات کرانے کا اعلان کیا تھا کہ وہ وبا کے بعد آیندہ کا لائحہ عمل طے کرنے کے حوالے سے ووٹروں کی رائے جاننا چاہتے ہیں۔ حالاں کہ اپوزیشن نے مقررہ وقت سے 2 برس قبل رائے شماری کرانے کے ٹروڈو کے فیصلے پر نکتہ چینی کی تھی۔ اس نے الزام لگایا تھا کہ ٹروڈو نے یہ انتخابات پارلیمان میں واضح اکثریت حاصل کرنے کے ارادے سے کرائے ہیں۔ ابھی حتمی نتائج کا اعلان نہیں ہوا ہے، تاہم جسٹن ٹروڈو کی لبرل پارٹی ایک بار پھر حکومت بنانے جارہی ہے، لیکن وہ واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکامی کا سامنا ہے۔ کینیڈا کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کنزرویٹو پارٹی کے رہنما ایرن او ٹول نے انتخابات میں اپنی پارٹی کی شکست تسلیم کرلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ جسٹن ٹروڈو کی لبرل پارٹی کو تیسری بار حکومت سازی سے روکنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ اوٹول نے ٹورنٹو میں اپنی رہایش گاہ کے باہر اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے ٹروڈو کو ان کی کامیابی پر مبارک باد بھی دی۔ کینیڈا کے اس پارلیمانی انتخابات میں پاکستانی کمیونٹی کی اہم سیاسی شخصیات بھی حصہ لے رہی ہیں۔ لبرلز، کنزرویٹو، این ڈی پی، گرینز اور پیپلز پارٹی آف کینیڈا کے مجموعی طورپر 20 پاکستانی امیدوار بھی اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔ 49 سالہ ٹروڈو سابق وزیر اعظم پیرے ٹروڈو کے بیٹے ہیں۔ وہ پہلی بار 2015ء میں وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہوئے تھے، تاہم اقتدار پر ان کی گرفت کمزور ہوتی گئی اور 2019ء کے دوسرے انتخابات میں ان کی حکومت اقلیت میں آگئی۔ 2001ء میں جب ایک یونیورسٹی پارٹی میں چہرے پر سیاہی والی ان کی تصویر منظر عام پر آئی تو ایک ماڈرن اور تفریق مخالف رہنما کے طور پر ان کے امیج کو سخت نقصان پہنچا۔