۔25 ہزار تنخواہ کے فیصلے پر عملدر آمد کیوں نہیں ہو رہا ؟ عبدالرشید

76

کراچی(اسٹاف رپورٹر)مہنگائی نے عوام کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے،سندھ حکومت 25000 تنخواہ کا فیصلہ اور نوٹیفکیشن جاری کرنے کے باوجود تاحال اس پر عملدرآمد کروانے میں ناکام ہے،لیاری جنرل اسپتال کا آئی سی یو ٹیکنیشن تنخواہ نہ ملنے کی وجہ سے خودکشی کر کے اس دنیا سے چلا گیا ذمہ دار کون ہے، ان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی کے ایم پی اے سید عبدالرشید نے سندھ اسمبلی میں اپنے توجہ دلاؤ نوٹس پر بات کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر مالیات جواب دیں کہ 25ہزار روپے تنخواہ کے فیصلے پر اب تک عملدرآمد کیوں نہیں ہوا ہے۔ سید عبدالرشید کا کہنا تھا کہ سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں اب تک مزدوروں کو اس قانون کے مطابق تنخواہ نہیں دی جارہی ہے،صورتحال یہ ہے کہ سندھ سرکار کے چند محکموں کی بات کروں تو فوڈ ڈپارٹمنٹ کے کنٹریکٹ ملازمین کو 700 روپے یومیہ مشاہراہ دیا جا رہا ہے جو 17000 ماہانہ بنتی ہے،ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ میں 500 روپے یومیہ اور لوکل گورنمنٹ ڈی ایم سی اور سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے ملازمین کو 400 سے 550 روپے یومیہ اجرت دی جارہی ہے، بتایا جائے کہ سندھ سرکار اپنے ہی فیصلے پر عملدرآمد کرانے میں کیوں ناکام ہے۔ سید عبدالرشید کا کہنا تھا کہ مہنگائی دن بدن بڑھتی جارہی ہے، آٹا 80 روپے کلو ،چینی 110 روپے کلو ،گھی تیل 300 روپے اور سبزی 100 روپے سے تجاوز کر گئی ہے اور گوشت غریب کی پہنچ سے باہر ہوچکا ہے ،صرف اعلانات سے کام نہیں چلے گا آگاہ کیا جائے غریب کے مسائل کو حل کرنے کے لیے کب تک 25000 تنخواہ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوگا؟سید عبدالرشید نے کہا کہ لیاری جنرل اسپتال میں موجود مافیا لوگوں سے کام تو لے رہا ہے لیکن تنخواہ نہیں دے رہا حکومت سندھ کیا کرر ہی ہے، سید عبدالرشید کا کہنا تھا کہ حکومت اپنے فیصلوں پر عملدرآمد کرائے۔