خلاف شریعت قانون سازی: خرابی کہاں ہے

288

پہلا حصہ
خلاف شریعت قانون سازی اس نظام کی وہ برہنگی ہے، جو حکمرانوں کی اسلام سے وابستگی کو ان کے پرفریب نعروں کی اونچی اڑانوں سے جدا کرکے سینوں سے باہر لے آتی ہے۔
24نومبر 2016 کو سندھ اسمبلی نے ’’Criminal Law (Protection of Minorities) Act‘‘ کے عنوان سے ایک قانون منظور کیا تھا۔ اس بل کی خاص خاص باتیں یہ تھیں: ٭18برس سے کم عمر کوئی شخص اگر اسلام قبول کرتا ہے تو اس وقت تک غیر مسلم ہی کہلائے گا جب تک وہ بلوغت کی عمر تک نہ پہنچ جائے۔ ٭18برس سے زائد عمر کا شخص اگر اسلام قبول کرے گا تو مذہب تبدیل کرنے کے بعد اسے 21دن تک سیف ہائوس میں مقید رکھا جائے گا۔ 21دن تک وہ اسلام قبول کرنے کا اعلان نہیں کرسکتا ٭زبردستی مذہب تبدیل کرانے یعنی کلمہ طیبہ پڑھانے اور شادی کروانے والے یعنی نکاح خوان کے لیے 7سال اور سہولت کار کو 5سال قید کی سزادی جائے گی۔ ٭نو مسلموں کی سماعت ان کیمرا ہوگی اور مقدمات خصوصی عدالت میں چلیں گے جو 90دن کے اندر فیصلہ سنانے کی پابند ہوں گی۔
پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے اس بل کے ذریعے کسی غیر مسلم کے اٹھارہ سال کی عمر سے پہلے اسلام لانے پر پابندی عائد کر دی گئی اور اسے قابل تعزیر جرم قرار دے دیا گیا۔ اگر کوئی بچہ چودہ، پندرہ برس کی عمر میں بالغ ہوجائے تب بھی وہ 18برس کی عمر تک اسلام قبول نہیں کرسکتا۔ اگر اسلام قبول کر بھی لے تو اس کے اسلام قبول کرنے کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی۔ وہ غیر مسلم ہی شمار ہوگا حالانکہ بلوغت کے بعد وہ شرعی احکام کا ذمے دار ہوجاتا ہے۔ 18سال کی عمر کے بعد اگر کوئی شخص مسلمان ہونا چاہے تو 21دن تک وہ اسلام قبول کرنے کا اعلان نہیں کرسکتا۔ وہ سیشن جج کو ایک درخواست دے گا جو سات دن کے اندر اندر اسے طلب کرے گا اور اس شخص کو سمجھانے بجھانے کے لیے اس کے غیرمسلم والدین، دوستوں، رشتے داروں اور مذہبی پنڈتوں کو بھی بلائے گا جو اسے اسلام قبول کرنے سے روکنے کے لیے سمجھائیں بجھائیں گے۔ تبلیغی اور معاشرتی دبائو ڈالیں گے۔ اگر کوئی میاں بیوی اسلام قبول کرلیں گے تو ان کے بچے اٹھارہ سال کی عمر تک غیر مسلم ہی تصور کیے جائیں گے۔ انہیں اس عمر سے پہلے اسلام لانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اگر والدین بچوں کو اسلام قبول کرنے پر زور دیں گے تو یہ جرم ہوگا۔
اس متنازع نجی بل کے لیے پیپلز پارٹی کی قیادت نے بھرپور سرگرمی دکھاتے ہوئے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے صوبائی معاون کے ذریعے بل اسمبلی میں پیش کیا جسے سرکاری ارکان نے سات منٹ کے اندر منظور کرلیا۔ تحریک انصاف، مسلم لیگ (ن) ایم کیو ایم سمیت کسی جماعت نے بل کی مخالفت نہیں کی اور نہ ہی اس میں کوئی ترمیم پیش کی۔ اس موقع پر صوبائی وزیر نثار کھوڑو نے ایکٹ کی منظوری کے بعد ایوان میں موجود تمام ارکان کو مبارک باد پیش کی۔ بعد ازاں مسلم لیگ ن کے گورنر نے اس بل پر دستخط نہیں کیے یوں یہ بل عملی شکل اختیار نہیں کر سکا۔
سندھ اسمبلی میں اس بل کی منظوری میں ناکامی کے تقریباً پانچ برس بعد ایک بار پھر اس مسترد بل کو قانون بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس مرتبہ اس بل کو پیش کرنے کی سعادت وفاقی سطح پر کی جارہی ہے۔ یہ بل بھی سندھ اسمبلی کے بل کا چربہ ہی ہے جو جبری تبدیلی مذہب سے روکنے کے نام پر لوگوں کو اسلام سے روکنے کی کوشش ہے۔ گزشتہ ماہ اگست 2021 کے اواخر سے تحریک انصاف کی حکومت Prohibtion of Forced Religious Conversion Bill2021 کے نام سے اس بل کی لابنگ کررہی ہے۔ کچھ پارلیمنٹرین کو ذاتی طور پر یہ بل مہیا کیا گیا ہے۔
24اگست 2021 کو حکومت نے کچھ علماء اور اسلامی نظریاتی کونسل کا ایک ان کیمرا اجلاس منعقدکیا اور اس میں اس بل کو پیش کیا۔ جس میں قرار دیا گیا ہے کہ اول: 18سال کی عمر تک کوئی اسلام قبول نہیں کرسکتا۔ بل کے آرٹیکل 3اور آرٹیکل 6میں کھل کر لکھا گیا ہے کہ 18سال کی عمر تک کوئی اسلام قبول نہیں کرسکتا اور اگر کسی نے اسلام قبول کرلیا تو اس کا اسلام قبول کیا جانا تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ دوم: 18سال سے زائد عمر کا جو شخص اسلام قبول کرے گا وہ سیشن جج کو درخواست دے گا۔ سیشن جج اس درخواست کے بعد اسے 90دن اپنی حراست میں رکھے گا۔ اس کو تقابل ادیان کا مطالعہ کرائے گا۔ نوے دن کے بعد اس سے پو چھا جائے گا کہ اب وہ اسلام قبول کرتا ہے یا نہیں۔ اگر وہ انکار کردے کہ مجھے اسلام قبول نہیں تو جن لوگوں نے اسے اسلام قبول کرایا ہے ان کے خلاف اس قانون کے تحت فوری مقدمہ دائر کیا جائے گا اس مقدمے میں پانچ سے لے کر دس سال قید اور ایک سے لے کر دولاکھ روپے تک کا جرمانہ ہوگا۔
پاکستان میں خلاف شریعت قا نون سازی نئی بات نہیں اور نہ ہی کسی ایک جماعت کا اس پر اجارہ ہے۔ سول اور فوجی حکومت کا بھی اس میں کوئی امتیاز نہیں۔ دین میں مداخلت کرتے ہوئے غیر شرعی قوانین کا اجرا ماضی سے لے کر آج تک حکمران طبقے کا معمول رہا ہے۔
صدر جنرل ایوب خان پاکستان کا وہ پہلا حکمران ہے جس نے دین میں مداخلت اور شریعت کے احکام میں تحریف کی بنیاد ڈالی۔ اس کے دورِ میں نافذ کردہ عائلی قوانین کی کئی دفعات شریعت اسلامیہ سے متصادم ہیں۔ ایوب خان نے مغربی تہذیب کی دلدادہ خواتین کی خوشنودی کے لیے ڈاکٹر فضل الرحمن، ڈائریکٹر ادارہ تحقیقات اسلامی (وزارت مذہبی اُمور) کے ایما پر خلاف ِ شرع عائلی قوانین بذریعہ آرڈیننس 1961ء میں قوم پر مسلط کیے، جس کا خمیازہ ہم آج تک بھُگت رہے ہیں۔ مروجہ سرکاری نکاح فارم اس کا ثبوت ہے جس کی شریعت سے متصادم کئی دفعات کو آج تک تبدیل نہیں کیا گیا۔
جنرل پرویز مشرف کے دور میںقانون توہین رسالت کو معطل رکھا گیا۔ جون 2004 میں اسلام آباد میں ایک سیمینار میں اس نے کہا تھا کہ وہ حدود آرڈی ننس اور توہین رسالت پر موت کی سزا کے قانون پر نظر ثانی کے حق میں ہے اور اس مقصد کے لیے ایک کمیشن قائم کیا جائے گا۔ اس کے دور میں قومی اسمبلی میں تحفظ حقوق نسواں بل کے عنوان سے حدود آرڈیننس میں ترامیم کا جو مسودہ پیش ہوا، اس میں سب سے زیادہ زنا سے متعلق قوانین کو نشانہ بنایا گیا اور بہت سی قانونی موشگافیوں کی آڑ میں زنا بالجبر کے جرم کو سرے سے حدود شرعیہ کے دائرہ ہی سے نکال دیا گیا ہے اور اسے تعزیرات کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔ زنا بالرضا میں سہولت یہ فراہم کی گئی کہ شرعی حد (سنگسار یا سو کوڑوں) کو باقی رکھتے ہوئے اس کے ساتھ جو تعزیری قوانین حدود آرڈیننس میں شامل کیے گئے تھے، انہیں بالکل ختم کر دیا گیا ہے جس کا عملی نتیجہ یہ ہوا کہ رضا مندی کے زنا کے کیس میں اگر چار گواہوں کی عینی شہادت شرعی قوانین کے مطابق میسر نہ آ سکے تو زنا سے کم درجہ کے وہ جرائم جو زنا کا سبب بنتے ہیں ( دواعی زنا وغیرہ) جو اسی کیس میں ریکارڈ پر آ چکے ہیں، ان پر مجرموں کو کوئی سزا نہیں دی جا سکے گی اور وہ بالکل بری ہو جائیں گے۔ اس کے علاوہ حدود شرعیہ کے قوانین کے دیگر قوانین پر بالاتر ہونے کی دفعہ حذف کر دی گئی ہے اور بہت سی دیگر ایسی ترامیم بھی نئے مسودہ میں شامل کی گئی ہیں جو حدود آرڈیننس کو کلیتاً غیر موثر بنانے کے علاوہ اور کوئی افادیت نہیں رکھتیں۔ صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل کی جانب سے شریعت کے نفاذ کے لیے 2003 میں حسبہ بل پیش کیا گیا تو وفاقی حکومت کی طرف سے اسے چیلنج کیا گیا۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے اسے غیر آئینی قرار دے کر منسوخ کردیا۔
(جاری ہے)