دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا

237

راقم الحروف آج چار ماہ سے ختم نبوت کے سلسلے میں مضامین اور ملزمان کے خلاف تحقیقات کے لیے دائر درخواستوں کے سلسلے میں وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے حکم پر سول اور فوجی حساس اداروں کی سابقہ شہر میرپورخاص (سندھ) اور گلستان جوہر کراچی میں رہائش پزیر ہوں اور پاکستان آڈٹ اینڈ اکائونٹس کمپلیکس مین یونیورسٹی روڈ گلشن اقبال کراچی میں میرے سابق ڈائرکٹر جنرل آڈٹ (سندھ) AG (Sindh) اور AGPR سب آفس کراچی سے تمام تحقیقات مکمل کرکے میرے اپارٹمنٹ کے ساتھ منسلک دکانداروں اور حتیٰ کہ گیٹ پر تعینات چوکیداروں سے تمام معلومات حاصل کرکے میرے گھر تشریف لائے تھے اور ان سے اس سلسلے میں نہ صرف مکمل تعاون کیا تھا بلکہ انہیں دلائل کے ساتھ قائل کیا تھا اس دوران میرا ذاتی ٹیلی فون Under Observation تھا جبکہ میرپورخاص سے تمام خفیہ ایجنسیوں کے افسران و اہلکار مجھے سے رابطہ کرکے معلومات لیتے رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اور ختم نبوت پر مضامین لکھنے کی وجہ سے دائیں ٹانگ جو شوگر کی وجہ سے متاثر ہوئی تھی نہ سرجری ہوئی اور نہ آپریشن اب مکمل روبہ صحت ہوں اس دوران مجھ سے یہ بھی معلومات کی گئیں کہ مجھے اخبارات سے کالم لکھنے کے کتنے پیسے ملتے رہے جب میں نے انکار کیا تو وہ تعجب میں پڑ گئے۔
آج اپنے کالم کا آغاز معیشت کے حوالے سے کر رہا ہوں وزیر اعظم عمران خان پاکستان کی معاشی و اقتصادی صورتحال کو بہتر بنانے میں مصروف ہیں لیکن ان کے وفاقی وزراء اور وفاقی مشیران جن کا ماضی داغ دار ہے وہ ان کو صد فی صد ناکام بنانے کے لیے کوشاں ہیں بظاہر تو ہر وقت جھوٹی تعریفوں اور معیشت کی جعلی تصویروں پر وزیر اعظم کو خراج تحسین پیش کرتے نظر آتے ہیں لیکن اندر سے یہ منافقین خوش ہوتے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا جلد دھڑن تختہ ہونے والا ہے۔ موجودہ وفاقی حکومت کی یہ بدقسمتی ہے کہ سول بیوروکریسی کے تمام اعلیٰ و ادنیٰ افسران بشمول وفاقی وزراء و مشیران کی ایک کثیر تعداد مختلف سیاسی پارٹیوں کے ادوار میں بھرتی ہوئے تھے اور ان کی تمام وفاداریاں سابقہ حکمرانوں سے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف سے بہت کم وفاقی وزراء اور مشیر وزیر اعظم کے دست راست ہیں بلکہ ان کے وفادار ہیں وزیر اعظم پاکستان عمران خان میں انسانوں کو پرکھنے کی صلاحیت کا زبردست فقدان ہے جس کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے منافقین سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزراء اور مشیران پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزراء اور مشیروں کے خلاف نہ صرف گمراہ کرتے رہتے ہیں بلکہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ 1923ء کی دفعات 3 اور 5 کی خلاف ورزیاں کرتے ہوئے کابینہ اجلاس میں ہونے والے اجلاسوں اور وزیر اعظم کی ہر نقل و حرکت کی اطلاع اپنے سابقہ باسوں کو دیتے رہتے ہیں اس کی تازہ مثال سابقہ اور موجودہ وفاقی وزیر خزانہ شوکت فیاض ترین کی ہے جو پیپلز پارٹی کے وزرائے اعظم یوسف رضا گیلانی اور راجا پرویز اشرف کے دور حکومت میں وفاقی وزیر خزانہ رہ چکے ہیں ان کا تعلق ملتان سے ہے جبکہ نیب راولپنڈی نے ان کے خلاف سابقہ دور حکومت میں بجلی کمپنیوں سے بھاری رقم بطور کِک بیکس وصول کرنے او راجا پرویز اشرف کے مڈل مین کا
کردار ادا پر احتساب عدالت اسلام آباد میں مقدمہ دائر کیا تھا جبکہ اس مقدمے کے تفتیشی افسر دوسرے دن اپنے کمرے میں مردہ پائے گئے تھے بلکہ بجلی کے پنکھے سے ان کی لاش کو پھندے کے ساتھ لٹکایا گیا تھا اور ان کی اس المناک موت کو خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی تھی جبکہ مرحوم کے والد نے پاکستانی میڈیا سے اس سانحہ پر سابق وزیر اعظم راجا پرویز اشرف اور شوکت ترین پر سنگین الزامات لگائے تھے دونوں استاد شاگرد نے بھاری رقم اپنے وکلا کے ذریعے خرچ کرکے اسلام آباد پولیس کے افسران سے خودکشی کی رپورٹ لکھوا کر اپنے آپ کو بچا لیا تھا اس سانحہ کے خاتمے کے بعد دونوں حضرات نے نیب راولپنڈی کے افسران جو پیپلز پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں انہوں نے انتہائی کمزور اور ناقص ریفرنس ان کے خلاف دائر کیا جس میں یہ لوگ بری ہو گئے تھے اس کیس میں نیب راولپنڈی، اسلام آباد ہائی کورٹ میں ان کے بریت کے خلاف اپیل دائر کرنے والی تھی لیکن بحیثیت وفاقی وزیر خزانہ ان کے سخت ترین دبائو کی وجہ سے دائر نہیں کر سکی۔
راقم نے اپنے کالم بعنوان پاکستان کو تباہ و برباد کرنے کا عالمی ایجنڈا میں انکشاف کیا تھا کہ پاکستان کو تباہ و برباد کرنے کے لیے را، موساد اور امریکی سی آئی اے کو جو ٹاسک دیا تھا اس کو پورا کرنے کے لیے وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کا انتخاب کر لیا گیا ہے، وفاقی وزیر خزانہ انتہائی چالاک، عیار اور زیرک شخص ہیں وہ بڑی خوبصورتی سے اپنے کارڈز کھیل رہے ہیں انہوں نے وفاقی بجٹ سے پہلے اپنی تقریروں کے ذریعے پوری پاکستانی قوم کے ساتھ دھوکا اور فراڈ کیا، وہ آئی ایم ایف کی کسی شرط کو تسلیم نہیں کریں گے جبکہ اندرون خانہ انہوں نے آئی ایم ایف کی نہ صرف تمام شرائط تسلیم کر لی ہیں بلکہ معتبر ذریعوں نے انکشافات کیے ہیں کہ انہوں نے باقاعدہ تحریر معاہدہ کیا ہوا ہے اور اب پوری قوم انتہائی عذاب میں مبتلا ہے۔ راقم الحروف کو نام نہ لینے کی شرط پر بتایا ہے کہ یہ اور راجا پرویز اشرف نے بجلی کمپنیوں سے اربوں روپے کی کرپشن کی تھی جس سے انہوں نے اپنا نجی بینک کھولا تھا جس کو چلانے میں یہ ناکام ہو چکے ہیں اس وقت پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو ختم کرنے کے لیے جان بوجھ کر نئے صدارتی آرڈیننس جاری کرا کے صنعت کاروں اور تاجروں کو پاکستان سے بھگانے میں مصروف ہیں تاکہ بلاول زرداری کو پاکستان کا وزیر اعظم بنایا جا سکے اس مقصد کو پانے کے لیے صدارتی آرڈیننس بعنوان ٹیکس قوانین (ترمیمی آرڈیننس چہارم) 2021 جاری کروایا ہے جس میں نیب کو بہت خطرناک اختیارات تفویض کر دیے ہیں جس کے تحت نیب ٹیکس گزاروں کے 20 سال پرانی اور بند فائلیں کھول سکے گا۔ اس کالے قانون کو نافذ کرنے سے پاکستان کے ہزاروں صنعت کار بالعموم اور کراچی کے تاجر بالخصوص پاکستان سے تمام کاروبار بند کرکے نہ صرف بیرون ملک روانہ ہو جائیں گے بلکہ پاکستان معاشی طور پر تباہ و برباد ہو جائے گا اس بین الاقوامی سازش کو ناکام بنانے کے لیے وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کو عہدے سے نہ صرف برطرف کیا جائے بلکہ چیئرمین نیب کو ہدایتیں جاری فرمائیں وہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں ان کے احتساب عدالت سے بریت کے خلاف اپیل دائر کرے ان سے اور سابق وزیر اعظم راجا پریز اشرف سے اربوں روپے کی وصولی اور نیب راولپنڈی کے تفتیشی افسر کے قتل کی ازسرنو تحقیقات کرکے انہیں معزز عدالتوں سے سخت سزائیں دلوائی جائیں پاکستانی قوم انتہائی ممنون و مشکور ہوگی۔