!جماعت اسلامی ملک کی بڑی جماعتوں کی صف میں

307

کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات میں جماعت اسلامی کے امیدواروں کی کامیابی دراصل اور درحقیقت علامتی کامیابی ہے، اور یہ علامت اس بات کی نشاندہی کر رہی ہے کہ جماعت اسلامی بہت تیزی سے منتخب ایوانوں کی جانب بڑھ رہی ہے یا عوام اسے منتخب ایوانوں کی طرف لے جارہے ہیں۔ یقینا لوگوں کا اجتماعی فیصلہ غلط نہیں ہو سکتا وہ بہت سوچ سمجھ کر اپنے نمائندوں کا انتخاب کرتے ہیں، اب وہ دن بھی نہیں رہے جب لوگ اسلحہ کے خوف سے نہ چاہتے ہوئے بھی ناپسندیدہ افراد کو ووٹ دے دیا کرتے تھے۔ لیکن اسلحہ کی نوک پر ’’کراچی ہمارا ہے‘‘ کا نعرہ لگانے والوں کے تمام منفی اعمال بھی آج جماعت اسلامی کے کارکنوں یا نامزد افراد کی کامیابی کا سبب بن رہے ہیں، کیوں کہ ظلم جب بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔ کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات میں کراچی سے نامزد کردہ جماعت اسلامی کے پانچ امیدوار کامیاب ہوئے جبکہ پورے پاکستان سے جماعت اسلامی کے نو امیدواروں کو کامیابی ملی۔ لیکن یہاں ہم صرف کراچی کی بات کریں تو ہر کوئی یہ کہتا ہوا نظر آتا ہے کہ جماعت اسلامی نے گزشتہ چند سال کے دوران شہر کے مختلف مسائل کا سدباب کرنے کے لیے جس طرح جدوجہد کی اور کر رہی ہے اس کے نتیجے میں جماعت اسلامی کو اس سے زیادہ نشستیں ملنا اس کا حق تھا۔
جماعت اسلامی نے کراچی کے ہر محاذ پر جدوجہد کی اور لوگوں کے مسائل حل کرنے کے لیے بھرپور توجہ دی بلکہ ان مسائل کا سدباب بھی کیا۔ بحریہ ٹائون میں لوگوں کے مجموعی طور پر کروڑوں روپے پھنس چکے تھے جسے جماعت اسلامی کی ذیلی کمیٹی نے مسلسل کوشش سے واپس دلایا اور واپس دلایا جارہا ہے۔ جماعت اسلامی کی یہ کوششیں یقینا قابل تعریف اور مثالی ہیں۔ بحریہ ٹاؤن کے متاثرین میں شامل ایک خاتون کو جب جماعت اسلامی کی پبلک ایڈ کمیٹی نے ان کی پھنسی ہوئی رقم کا چیک دیا انہوں نے آنسوؤں کے درمیان اس بات کا برملا اظہار کیا کہ ’’میں اب تک ہر انتخابات میں ایم کیو ایم کو ووٹ ڈالا کرتی تھی لیکن آج کے بعد میں ہمیشہ ہر انتخابات میں صرف جماعت کے نامزد افراد کو ووٹ دیا کروں گی، یہ میں اس لیے کروں گی کہ جماعت اسلامی نے میری ڈوبی ہوئی رقم کو واپس دلاکر میرے خاندان کو خوش کردیا‘‘۔ بلدیہ ٹائون کے علاقے سے تعلق رکھنے والی اس خاتون کے آنسووں کے درمیان کہے گئے یہ جملے ان کی سچائی کی گواہی دے رہے تھے۔
جماعت اسلامی کی پبلک ایڈ کمیٹی نے اجتماعی طور پر پریشان حال لوگوں کی مدد کے ساتھ انفرادی مسائل کا شکار ہزاروں افراد کی مدد کرکے انہیں پریشانی سے نجات دلارہی ہے۔ نادرا سے شناختی کارڈ بنوانے میں مشکلات ہوں یا مکانوں پر قبضے کا سنگین مسئلہ جماعت اسلامی کے کارکن ہر وقت خدمت انسانیت کے لیے تیار نظر آتے ہیں۔ جماعت اسلامی یہ نیک کام محض انتخابات میں ووٹ لینے اور کامیاب ہونے کے لیے نہیں کیا کرتی بلکہ اس کا اصل مقصد اللہ کی رضا حاصل کرنا ہے۔
بات ہورہی تھی کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات کی۔ کنٹونمنٹ بورڈز کے ان انتخابات میں جو 12 ستمبر کو ملک بھر میں ایک ساتھ ہوئے۔ ان انتخابات میں جماعت اسلامی کے کراچی سمیت ملک بھر سے اپنے 9امیدواروں کی کامیابی اس بات کی دلیل ہے کہ عوام جماعت اسلامی کو تمام منتخب ایوانوں میں لے جانے کی طرف گامزن ہوچکے ہیں۔ اس الیکشن سے یہ بات بھی واضح ہوچکی کہ اپنے آپ کو کراچی کی بڑی اور طاقتور سیاسی پارٹی ہونے کا دعویٰ کرنے والی متحدہ قومی موومنٹ کا بھرم ٹوٹ چکا اور غبارے سے ہوا نکل چکی ہے۔ ان انتخابات میں ایم کیو ایم کراچی سے بمشکل تین نشستیں حاصل کر سکی۔ یوں جماعت اسلامی نے 5نشستیں حاصل کرکے پورے ملک کی تیسری بڑی کنٹونمنٹ بورڈز کی جماعت ہونے کا اعزاز حاصل کرلیا‘ اس غیر معمولی کامیابی سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ عوام جماعت اسلامی کی کراچی کے مسائل کے حوالے سے جدوجہد کو تسلیم کرنے لگے ہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جماعت اسلامی منتخب ایوانوں میں پہنچ جائے گی تو اس شہر کے تمام مسائل بتدریج ختم ہو جائیں گے۔ ان انتخابات میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف اور صوبے کے حکومتی جماعت پیپلز پارٹی نے کراچی سے بل ترتیب 14 اور 11 نشستیں حاصل کیں۔ مذکورہ جماعتوں نے اپنی پارٹیوں کے نامزد کردہ امیدواروں کی کامیابی کے لیے وفاقی اور صوبائی وزرا کے ساتھ سرکاری مشینری کا بلا جھجھک استعمال بھی کیا۔ وزرا اپنا سیاسی اثر رسوخ کا استعمال کرتے رہے‘ جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وفاق اور صوبے کی حکومتی جماعتوں کو لوگوں نے سیاسی و سرکاری دبائو کی وجہ سے مجبوراً ووٹ دیا۔ جبکہ حکومت میں نہ ہونے کے باوجود ان انتخابات میں جماعت اسلامی کی برتری اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگوں نے اس سے حقیقی عوامی خدمت کرنے والی جماعت جان کر ووٹ دیا اور اسے زیادہ سے زیادہ نشستوں پر کامیاب کرانے کی کوشش کی۔ جماعت اسلامی کے نامزد کردہ 5 شخصیات کی کامیابی کا سہرا جماعت اسلامی کراچی کے امیر انجینئر حافظ نعیم الرحمن کو جاتا ہے جنہوں نے اپنی حکمت عملی اور مسلسل محنت سے جماعت اسلامی کراچی کا احیا کیا ہے عوامی مسائل حل کرنے کی ایک نئی تاریخ رقم کر رہے ہیں۔ کنٹونمنٹ بورڈز کراچی کے نتائج سے آئندہ بلدیاتی انتخابات میں کراچی کا مئیر جماعت اسلامی کے ہونے سے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ خیال رہے کہ 1980 کی دہائی اور 2001 میں جماعت اسلامی کراچی کی بڑی سیاسی جماعت کہلاتی تھی جب میئر و سٹی ناظم کراچی جماعت اسلامی کی منتخب شخصیات عبدالستار افغانی اورنعمت اللہ خان ایڈووکیٹ ہوا کرتے تھے۔