گرین لائن سروس کب شروع ہوگی

137

سرکاری منصوبوں کے تاخیر سے مکمل ہونے کا معاملہ تو عام ہے لیکن 2016ء میں جس گرین لائن بس سروس کا سنگ بنیاد رکھا گیا اس حوالے سے یہ اعلان بھی کیا گیا کہ ایک سال میں منصوبہ مکمل ہوجائے گا۔ یہ منصوبہ 2021ء کے ستمبر میں بھی مکمل نہیں ہے۔ ستمبر کی 19 تاریخ کو چالیس بسیں کراچی پہنچی ہیں۔ اب حکومت نے اعلان کیا ہے کہ نومبر تک اس منصوبے کا آغاز ہوجائے گا لیکن جسارت ہی کی رپورٹ ہے کہ اہل کراچی گرین لائن بس کو 2022ء سے قبل چلتا ہوا نہیں دیکھ سکیں گے۔ اس منصوبے میں اس قدر تاخیر کی کوئی اور وجہ نہیں اسے صرف اس لیے تاخیر کا شکار کیا جارہا ہے کہ اس کا افتتاح کون کرے گا۔ وفاق معاملات اس لیے روکتا ہے کہ اس کے نزدیک ابھی اس کی مرضی کے لوگ اس کے افتتاح کے لیے موجود نہیں۔ متحدہ (تمام گروپس) کسی نہ کسی طرح اس منصوبے کا افتتاح اپنے سر لینا چاہتی ہے۔ سندھ حکومت اپنا کارنامہ ظاہر کرنا چاہتی ہے۔ اس لیے بلدیاتی انتخابات بھی نہیں کروائے جارہے کیوں کہ کراچی میں مصنوعی قیادت کے لیے جوڑ توڑ نہیں ہوپایا ہے۔ اس سیاسی کھینچا تانی کا ساراملبہ کراچی کے عوام پر ڈالا جارہا ہے۔ ابھی تو منصوبہ شروع نہیں ہوا کہ اس کے لیے لگائے گئے جنگلے بھی زنگ آلود ہوگئے ہیں۔ گویا مرمت پر منصوبہ شروع ہونے سے قبل ہی اخراجات ہوں گے۔ عوامی وسائل پر سیاست کے نتیجے میں یہ وسائل ضائع ہوتے ہیں اور یہ سیاست کرنے والوں کا کچھ نہیں جاتا، عوام ہی نقصان اٹھاتے ہیں۔ وفاق اور صوبہ ضد چھوڑیں کسی پرانے ٹرین ڈرائیور یا کے ٹی سی کے کسی پرانے ریٹائرڈ بس ڈرائیور سے اس منصوبے کا افتتاح کرادیں اس کے اصل مستحق یہی لوگ ہیں جو رات دن کام کرکے اداروں کو مضبوط بناتے ہیں۔