تن بہ تقدیر…………اقبال

98

’تن بہ تقدیر‘ ہے آج اْن کے عمل کا انداز
تھی نہاں جن کے ارادوں میں خدا کی تقدیر

تھا جو ’ناخْوب، بتدریج وہی ’خْوب‘ ہْوا
کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر