تمام جماعتوںکو انتخابا ت کیلیے اپناذہن بدلنا ہوگا‘ لیاقت بلوچ

36

لاہور( نمائندہ جسارت) نائب امیر جماعت اسلامی، سیاسی، قومی اُمور کمیٹی کے صدر لیاقت بلوچ نے کہا کہ عمران خان سرکار انتخابی اصلاحات کے لیے قومی اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں سنجیدہ بھی نہیں اور عملاً دلچسپی بھی نہیں۔ الیکٹرونک ووٹنگ مشین اور چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ہنگامہ پروری کو ایشو بناکر انتخابی اصلاحات کے عمل سے اجتناب کا راستہ اختیار کیا جارہا ہے۔ شفاف اور غیرجانبدارانہ انتخابات کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کے اپنے اعمال اور نیتیں ٹھیک ہونی چاہییں، وگرنہ نیت خراب مشین خراب اور نیتیں خراب تو ساری مشینیں خراب۔ تمام جمہوری جماعتوں، قیادتوں کو جمہوریت، پارلیمانی نظام اور انتخابا ت کے لیے اپنا مائنڈ سیٹ بدلنا ہوگا۔ انتخابات کے لیے آئین کے آرٹیکل 62-63 کو بنیاد بنالیا جائے تو تمام دکھ درد دور ہوجائیں گے۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ پاکستان میں حالات خراب کرنے، پاکستان کا عالمی امیج تباہ کرنے اور دہشت گردی پھیلانے کے لیے امریکہ، اسرائیل اور بھارت کی ناپاک تثلیث مکروہ کھیل بڑھارہی ہے۔ نیوزی لینڈ ٹیم کے دورہ کی منسوخ بھی اِسی کا شاخسانہ ہے۔ پاکستان کے لیے اصل مسئلہ تو خود حکومت نے پیدا کردیا ہے۔ قومی سلامتی کے لیے خطرات بڑھ رہے ہیں۔ افغانستان کے حالات کو گھمبیر بنایا جارہا ہے اور مسئلہ کشمیر کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ رہا ہے لیکن پاکستان کی اپنی قومی پالیسی اور حکمتِ عملی نہیں ہے۔ بیرونی دباؤ اور سازشوں کا حکومت یا ریاستی ادارے تنہا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ پوری قوم کو قومی ترجیحات پر متحد، یک جان اور یک آواز بنانا ہوگا۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ حکومتِ پاکستان دن بہ دن عالمی صورتِ حال میں اپنے تذبذب کی وجہ سے افغانستان میں طالبان سے دور ہورہی ہے۔ خطہ میں امن و سلامتی کا تقاضہ ہے کہ طالبان عبوری حکومت کو فوری طور پر تسلیم کیا جائے اور افغان عوام کو ہر ممکن انسانی مدد فراہم کی جائے۔