مہنگائی مزید بڑھ سکتی ہے،اسٹیٹ بینک ،نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان شرح سود میں اضافہ

123

کراچی/اسلام آباد( اسٹاف رپورٹر+صباح نیوز)اسٹیٹ بینک نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں مہنگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ مرکزی بینک کی جانب سے پیر کو آئندہ 2ماہ کے لیے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے 15ماہ بعد شرح سود میں اضافہ کردیا گیا۔پالیسی ریٹ میں25 بیسس پوائنٹس اضافے کے بعد شرح سود 7.25 فیصد ہوگئی۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق زری پالیسی کمیٹی نے محسوس کیا ہے کہ معاشی بحالی کی رفتار توقع سے زیادہ بڑھ گئی ہے ، اجناس کی عالمی قیمتوں کے ساتھ ہی ملکی طلب کی بھرپور بحالی کی وجہ سے درآمدات اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافہ ہورہا ہے۔ مہنگی درآمدات اور اس کی طلب میں اضافے کے باعث مالی سال میں مہنگائی میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ مرکزی بینک نے کہا کہ رواں مالی سال جولائی میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 80 کروڑ ڈالر جب کہ اگست میں ایک ارب 50 کروڑ ڈالر ہوگیا، ترسیلات زر اگرچہ مستحکم رہیں، رواں مالی سال جولائی اور اگست کے دوران اس میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 10.4 فیصد اضافہ ہوا تاہم درآمدات نے انہیں بے اثر کردیا۔اسٹیٹ بینک کے مطابق مستقبل میں مہنگائی کا انحصار ایندھن، بجلی اور اجناس کی عالمی قیمتوں اور ان کی ملکی طلب پر ہوگا۔ زری پالیسی کمیٹی ملک میں مہنگائی، مالی استحکام اور ترقی کی شرح کو متاثر کرنے والے معاملات کی مسلسل نگرانی کرتی رہے گی۔دوسری جانب حکومت کے ریورس گیس ٹیرف پلان کے تحت صارفین کو ملنے والی 43فیصد گیس کی قیمتوں میں 37 فیصد تک غیرمعمولی اضافہ ہوجائے گا۔ یہ اقدام کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے زیر غور گیس کی قیمتوں کے لیے تازہ سبسڈی میکانزم کا حصہ ہے تاکہ موسم سرما کے 4 مہینوں میں قدرتی گیس کے بجائے بجلی پر انحصار بڑھایا جائے۔پیٹرولیم ڈویژن کی رپورٹ کے مطابق پہلے سلیب میں 47فیصد گیس صارفین تقریباً 32فیصد گیس کا استعمال کرتے ہیں۔ ان سے 121 روپے فی ملین برٹش تھرمل یونٹ کی شرح وصول کی جاتی ہے اور ان کا ماہانہ بل 308روپے ہے۔دوسرے سلیب میں 30فیصد صارفین تقریبا 25فیصد گیس استعمال کرتے ہیں، ان سے 300 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو وصول کیا جاتا ہے اور ان کا ماہانہ بل فی الحال 957روپے ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ 57فیصد صارفین تقریبا 77فیصد گیس استعمال کرتے ہیں اور وزارت پیٹرولیم ٹیرف میں تبدیلی کے بغیر ہی ان کا تحفظ کرنا چاہتی ہے۔ تیسرے سلیب میں تقریبا 20لاکھ صارفین آتے ہیں جو گیس کا تقریباً 18فیصد گیس استعمال کرتے ہیں، فی الحال ان سے فی یونٹ 553 روپے وصول کیے جاتے ہیں اور ان کا ماہانہ بل 3 ہزار 733 روپے ہے۔پیٹرولیم ڈویژن نے ایسے صارفین کے لیے گیس کا ریٹ تقریبا 24فیصد یعنی 683روپے فی یونٹ بڑھانا چاہتی ہے۔اس کے علاوہ 3.3 فیصد صارفین چوتھے سلیب میں آتے ہیں جن کی ماہانہ کھپت 300مکعب میٹر ہے اور اس وقت فی یونٹ 738روپے وصول کیا جاتاہے، جس کا مطلب ہے کہ ان کا ماہانہ بل 8ہزار 16روپے ہے۔پیٹرولیم ڈویژن نے اس زمرے کی قیمت 35فیصد یعنی ایک ہزار روپے فی یونٹ کرنے کی تجویز دی ہے جس سے ان کا ماہانہ بل 2ہزار 260روپے سے بڑھ کر 10ہزار 272روپے ہوجائے گا۔پیٹرول ڈویژن نے پانچویں سلیب کے 93ہزار صارفین کے استعمال کردہ گیس کے ریٹ میں 36فیصد یعنی ایک ہزار 500روپے یونٹ اضافے کرنے کی تجویز دی ہے جس سے ان کا ماہانہ بل 14ہزار 400روپے تک جا سکتا ہے۔اس طرح چھٹے اور آخری سلیب میں 49ہزار 400 صارفین کے زیر استعمال گیس کے ٹیرف میں 37فیصد یعنی 2ہزار فی یونٹ اضافہ کی تجویز دی ہے۔ایسے صارفین سے ایک ہزار 460روپے فی یونٹ وصول کیا جارہا ہے اور اضافے کی صورت میں ان کا ماہانہ بل 25ہزار سے 34ہزار تک پہنچ سکتاہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ اور سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ کو چیلنجوں کا سامنا ہے کیونکہ مقامی سطح پر گیس سپلائی کے ذرائع ختم ہو چکے ہیں اور کوئی اضافہ بھی نہیں ہوا۔