امریکا افغانستان میں قتل و غارت پر معافی مانگے اور زر تلافی دے،طالبان،عالمی ادارہ صحت کے سربراہ کابل پہنچ گئے

121

کابل(خبر ایجنسیاں)امریکا افغانستان میں قتل و غارت پر معافی مانگے اور زر تلافی دے۔طالبان۔عالمی ادارہ صحت کے سربراہ کابل پہنچ گئے۔تفصیلات کے مطابق طالبان کی عبوری حکومت کے ثقافت اور اطلاعات کے نائب وزیر طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ امریکا کو افغان جنگ کے دوران کی گئی قتل و غارت گری پر بھی معافی مانگے اور لواحقین کی تلافی کے طور پر مالی امداد بھی کرنی چاہییے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا نے اگست کے آخر میں ڈرون حملے میں بچوں سمیت 10 افراد کی ہلاکت کو ’’سنگین غلطی‘‘ تسلیم کرتے ہوئے کہا تھا کہ ڈرون حملے کا نشانہ بننے والے داعش کے مشتبہ خودکش بمبار نہیں بلکہ معصوم شہری تھے۔امریکا کے اس سفاک اعتراف پر طالبان حکومت کے نائب وزیر اطلاعات ذبیح اللہ مجاہد نے چینی میڈیا کو انٹرویو میں کہا کہ یہ واحد واقعہ نہیں ہے جب امریکا نے سنگین جرم کا ارتکاب کیا ہو۔ 20 سالہ افغان جنگ میں ایسا کئی بار ہوا ہے۔اس موقع پر ذبیح اللہ مجاہد نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ امریکا کو اپنے ماضی کی قتل و غارت گری اور جنگی جرائم پر بھی جوابدہ ہونا چاہیے اور لواحقین کو زر تلافی بھی ادا کرنا چاہیے۔ڈرون حملے میں معصوم جانوں کی ہلاکت کے امریکی اعتراف پر نائب وزیر اطلاعات ذبیح اللہ مجاہد نے مذمت کرتے کہا کہ یہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی اور ایک ایسی لاپروائی ہے جس میں درجنوں قیمتی جانوں کا نقصان ہوا۔علاوہ ازیںعالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او )کے سربراہ ٹیڈروس ادھانوم کابل پہنچ گئے۔افغان قائم مقام وزیرصحت کا کہناہے کہ ٹیڈروس افغان حکام سے صحت کے شعبے میں عالمی بینک کی امداد کی بحالی کے امکانات پر بات چیت کریں گے۔ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس دورہ کابل کے دوران افغان وزیراعظم، نائب وزیراعظم اور قائم مقام وزیرخارجہ سے بھی ملاقات کریں گے۔