گرین لائن منصوبہ ،طفل تسلیوں کے بجائے آغاز کی حتمی تاریخ دی جائے،حافظ نعیم

100

کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے گرین لائن منصوبے کے لیے مجموعی بسوں کی نصف تعداد 40کی کراچی آمد اور وفاقی وزرا و گورنر سندھ کی جانب سے منصوبے کے آئندہ ماہ آغاز کی خوشخبری پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت اہل کراچی کو بے وقوف بنانے اور طفل تسلیاں دینے کے بجائے منصوبے کے آغاز کی حتمی تاریخ کا اعلان کرے ۔ تاریخ پر تاریخ دینے کا سلسلہ بند کیا جائے ، منصوبے کی غیر معمولی تاخیر کی ذمے داری موجودہ وفاقی و صوبائی حکومتوں سمیت نواز لیگ کی حکومت پر بھی عائد ہو تی ہے ، نواز لیگ ، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی حکومت کی نا اہلی اور اہل کراچی کے مسائل سے عدم دلچسپی کے باعث ہی کراچی کے عوام ابھی تک اس منصوبے کے فوائد سے محروم ہیں ، لاہور میٹرو 11ماہ اور ملتان میٹرو17ماہ میں مکمل کی گئی لیکن کراچی کی گرین لائن 5سال سے زائد عرصے کے بعد بھی تاحال نامکمل ہے ۔ کئی اسٹیشن ابھی مکمل طور پر تعمیر ہونے باقی ہیں جہاں ایلیویٹرز اور لفٹ بھی نہیں نصب نہیں کی جا سکی ہیں ۔ تعمیر شدہ ٹریک اور ریلنگ بھی خراب ہو گئی ہے ، 40بسیں ابھی اور آنی ہیں معلوم نہیں وفاقی وزرا اور گورنر سندھ اگلے ماہ آخر کس طرح اس کے آغاز کا دعویٰ کر کے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اپنی نا اہلی اور نا قص کارکردگی کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ایک طرف نہ صرف منصوبے میں عالمی سطح پر کرپشن کی اطلاعات نے بہت سے سوال اُٹھا ئے ہیں بلکہ غیر معمولی تاخیر نے اصل لاگت میں بھی اضافہ کر دیاہے ۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ نواز لیگ کے دور حکومت ، 2016میں شروع ہونے والا منصوبہ جسے ایک سال میں مکمل ہونا تھا نواز حکومت نے مکمل نہیں کیا ۔ پی ٹی آئی کی حکومت بھی تین سال کے دوران اسے مکمل نہیں کر سکی ۔ پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی بھی ایک دوسرے پر الزامات لگا کر وقت گزارتی رہیں اور دونوں نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں ۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کراچی کے ساتھ ہمیشہ سے سوتیلی ماں جیسا سلوک ہوتا آرہا ہے ۔ اس کی حق تلفی کرنے اور نظر انداز کرنے کا عمل آج بھی جاری ہے ۔ کراچی ٹرانسفارمیشن پلان میں بہت سے منصوبے اور پروجیکٹ شامل کر دیے گئے ، کراچی کے لیے پہلے 162ارب اور پھر ایک سال قبل 11سو ارب روپے کے پیکیجز کا اعلان بھی کر دیا گیا مگر عملاً کراچی کے لیے کچھ نہیں کیا گیا ۔ ملک کے سب سے بڑے شہر اور اقتصادی حب کے ساتھ یہ ناروا سلوک اب ختم ہونا چاہیے۔