اقوام متحدہ کا چین اور امریکہ کو نئی سرد جنگ سے دور رہنے کا انتباہ

150

نیویارک: اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے ممکنہ نئی سرد جنگ کے بارے میں انتباہ کرتے ہوئے چین اور امریکہ سے اپیل کی کہ وہ اپنے تعلقات کو بہتر کریں اور مکمل طور پر غیر فعال معاملات کو درست کریں ، اس سے پہلے کہ دو بڑے اور نہایت بااثر ممالک کے درمیان مسائل باقی دنیا تک پھیل جائیں۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق  اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے رواں ہفتے ہونے والے اقوام متحدہ کے عالمی رہنماؤں کے سالانہ اجلاس، جس میں کورونا، موسمیاتی تبدیلیوں اور دوسرے اہم امور زیر بحث آنے ہیں، سے قبل بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے پہلے کہ دو بڑے اور نہایت بااثر ممالک کے درمیان مسائل باقی دنیا تک پھیل جائیں ان کو معاملات روک دینے چاہیے، بدقسمتی سے آج ہمارے سامنے محض تصادم ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کی دو بڑی معاشی طاقتوں کو ماحولیات پر تعاون کرنا چاہیے اور جنوبی چین کے سمندر میں انسانی حقوق، معاشیات، آن لائن سکیورٹی اور خود مختاری کے حوالے سے جاری سیاسی اختلافات کے باوجود تجارت اور ٹیکنالوجی پر مضبوطی سے بات کرنی چاہیے۔

انتونیو گوتیریس نے کہا کہ ہمیں دو طاقتوں کے درمیان ایک فعال تعلق کو دوبارہ قائم کرنے کی ضرورت ہے، ویکسینیشن کے مسائل، موسمیاتی تبدیلی کے مسائل اور بہت سے دوسرے عالمی چیلنجوں کو بین الاقوامی برادری اور بنیادی طور پر سپر پاورز کے درمیان تعمیری تعلقات کے بغیر حل نہیں کیا جا سکتا۔

خیال رہے دو سال قبل اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے عالمی رہنماؤں کو خبردار کیا تھا کہ امریکہ اور چین کے درمیان حریف انٹرنیٹ، کرنسی، تجارت، مالیاتی قواعد اور ان کی اپنی جیو پولیٹیکل اور فوجی حکمت عملی کی وجہ سے دنیا دو حصوں میں تقسیم ہو جائے گی۔

انہوں نے انٹرویو میں اس انتباہ کو دہراتے ہوئے مزید کہا کہ دو حریف جغرافیائی اور فوجی حکمت عملی خطرات پیدا کرے گی اور دنیا کو تقسیم کرے گی، تعلقات کو جلد ہی ٹھیک کرنا ہوگا۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے مزید کہا کہ  سوویت یونین اور اس کے مشرقی بلاک کے اتحادیوں اور امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کے درمیان نام نہاد سرد جنگ دوسری جنگ عظیم کے فورا بعد شروع ہوئی اور 1991 میں سوویت یونین کے ٹوٹنے کے ساتھ ختم ہوئی۔

واضح رہے  یہ دو ایٹمی ہتھیاروں سے لیس سپر طاقتوں کا تصادم تھا جن کے نظریات ایک دوسرے سے مختلف تھے، ایک طرف کمیونزم اور آمریت پسندی تھی جبکہ دوسری طرف سرمایہ داری اور جمہوریت تھی۔

انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ ایک نئی سرد جنگ زیادہ خطرناک ہو سکتی ہے کیونکہ سوویت یونین اور امریکہ کی نفرت نے واضح قوانین بنائے، اور دونوں فریق ایٹمی تباہی کے خطرے سے آگاہ تھے جبکہ بیک چینلز اور فورم تیار کیے، اس بات کی ضمانت دینے کے لیے کہ چیزیں کنٹرول سے باہر نہیں ہوں گی۔