حجاب کا تصور تہذیب کی نمائندگی ہے،احکام حجاب کے مخاطب معاشرے کے تمام افراد ہیں،تہذیب ہے حجاب کانفرنس کا اعلامیہ

138

کراچی (اسٹاف رپورٹر)جماعت اسلامی خواتین کے تحت تہذیب ہے حجاب کے موضوع پر مقامی ہوٹل میں جنرل سیکرٹری حلقہ خواتین پاکستان دردانہ صدیقی کی زیر صدارت کانفرنس منعقد ہوئی ، جس میں مہمانوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ پروگرام کے اختتام پر ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ۔ اعلامیے کے مطابق حجاب کا تصور ایک پوری تہذیب کی نمائندگی کرتا ہے ۔ اسلام کے احکام حجاب کی مخاطب صرف عورت نہیں ، معاشرے کا ہر فرد ہے ۔ ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمیں ہمارے دین نے عفت و عصمت کا ایک ایسا خوبصوت نظام دیا ہے ۔ جس کے تحت دونوں کو ایک دوسرے سے ملنے جلنے اور معاملہ کرنے کی تہذیب سکھائی گئی ہے ، دونوں اصناف کی حدود مقرر کی گئی ہیں اور مرد عورت دونوں کو ایک دوسرے کے لیے کچھ اصول و ضوابط کا پابند کیا گیا ہے تاکہ کوئی کسی پر ظلم نہ کرسکے۔یہ نظام ایک مہذب سوسائٹی کو تشکیل دیتا ہے جہاں مرد اور خواتین باہم مدمقابل نہیں بلکہ مل کر معاشرے کی تعمیر کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔ اگر دونوںاصناف کو ایک دوسرے سے معاملہ کرنے کی تہذیب نہ سکھائی جائے تو معاشرے میں فساد برپا ہوتا ہے ۔ اس فساد کا زیادہ نقصان عورت کو بھگتنا پڑتا ہے ۔ بدقسمتی سے آج ہم یہی صورتحال دیکھ رہے ہیں ۔ مغرب میں بہت سے قوانین کے باوجود عورت محفوظ نہیں ہے ۔ ہمارے ہاں مسلمانوں کا معاشرہ ہے اس کے باوجود عورت غلط رویوں کا شکار ہو رہی ہے ۔ اسلام کے دئیے ہوئے ضابطے عورت کی حفاظت کی واحد ضمانت ہیں ۔ یہ نہ صرف عورت کے دکھوں کا ازالہ کرسکتے ہیں ، بلکہ پورے معاشرے کی اصلاح کا باعث بن سکتے ہیں ۔ ہمارا یہ بھی پیغام ہے کہ والدین اور ادارے اپنی ذمہ داریاں سمجھیں ۔ گھروں اور اداروں میں لڑکوں اور لڑکیوں کو اسلام کے ان اصولوں کی بچپن ہی سے تعلیم دی جائے تاکہ انہیں معلوم ہو کہ مخالف صنف کے معاملے میں ان کو کیا تہذیب سکھائی گئی ہے ۔ لڑکوں کو خواتین کا احترام کرنا سکھایا جائے ، یہ بتایا جائے کہ اپنی جسمانی طاقت کے بل پہ عورت کو کمزور سمجھنے کا رویہ بزدلی کی انتہا ہے اور اشرف انسانیت کی پامالی ہے ۔ جبکہ لڑکیوں کو یہ سکھایا جائے کہ وہ خود کو احترام کے قابل بنائیں ، دوسروں کو غلط روئیوں کی اجازت نہ دیں اور اپنے طور اطوار اور لباس سے وقار کا مظاہرہ کریں ۔ دونوں اصناف کو اپنی حدود معلوم ہونی چاہییں ۔ معاشرے میں عورت کے خلاف ہراسمنٹ اور تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ، محرم رشتوں کی پامالی کی خبریں بھی آرہی ہیں ، خاندان کا ادارہ شکست وریخت کا شکار ہے جس کی بنیادی وجہ معاشرہ میں حیا اور حجابی رویوں سے اجتناب اور تقویٰ سے دوری ہے ۔ مادیت پرستی اور دنیا کی رنگینیوں میں گم ہوکر ہم نسلوں کی تربیت سے غافل ہوگئے ہیں ۔ یہ اس بات کی نشان دہی بھی کرتے ہیں کہ ہمارے ہاں صنفی رویوں کی بہت کمی ہے ۔ آج اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم اللہ کے دئیے ہوئے نظام عفت و عصمت کی طرف واپس پلٹیں کیونکہ اسلامی تہذیب ہی اس بات کی ضمانت ہے کہ ایک عورت صنعا سے حضر موت تک تنہا سفر کرے گی اور اسے کسی کا خوف نہ ہوگا ۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ نصاب تعلیم اور میڈیا کے ذریعے دونوں اصناف کے لیے اسلام کے دیے ہوئے اصول و ضوابط کا شعور معاشرے میں عام کیا جائے ۔ اس کے ساتھ خواتین سے بدسلوکی کو روکنے کے لیے موجودہ قوانین کا شعور عام کیا جائے اور آئین کے مطابق مزید قانون سازی بھی کی جائے ، خصوصاً خواتین کی حرمت پامال کرنے والے سائبر کرائمز میں فوری انصاف کا حصول آسان بنایا جائے کیونکہ ایک عورت کے لیے اس کی حرمت پر آنچ آنے کا معاملہ سب سے زیادہ تکلیف دہ ہے ۔