قومی صنعتی تعلقات کمیشن مزدوروں کو انصاف فراہم کرے ، شمس سواتی

92

نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کے صدر شمس الرحمن سواتی نے قومی صنعتی تعلقات کمیشن میں ممبران کی انتہائی تاخیر سے تقرری کو مزدوروں کو انصاف سے محروم کرنے اور ہمیشہ نظر انداز کرنے کی حکومتی پالیسی پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب جب کہ تقرری عمل میں آچکی ہے اسے دیر آید درست ہی کہا جاسکتا ہے۔ انہوں نے اپیل کی ہے کہ وہ مزدوروں کے ہزاروں زیر التوا مقدمات کا فیصلہ کرنے پر خصوصی توجہ دیں۔NIRC مالکان اور انتظامیہ کے اثرورسوخ سے متاثر ہونے کے بجائے مظلوم مزدوروں اور ٹریڈ یونینز کو انصاف فراہم کرے۔ پاکستان میں اس وقت کوئی ادارہ، انڈسٹری، لیبر قوانین اور سوشل پروٹیکشن کے قوانین پر عمل نہیں کررہا۔ ٹھیکیداری نظام رائج کردیا گیا ہے، مستقل آسامیوں پر مستقل بھرتی نہیں کی جاتی جو مستقل بھرتی کی بھی جائے تو بھرتی لیٹر جاری نہیں کیا جاتا۔ مزدوروں کو ٹریڈ یونین کے حق سے محروم رکھا جاتا ہے۔ مالکان پاکٹ یونینز، محکمہ محنت کے افسران سے ملی بھگت کرکے بنا لیتے ہیں اور مزدور اپنی حقیقی نمائندہ یونین بنانے کی پاداش میں ملازمتوں سے برطرف کردیے جاتے ہیں۔ مزدوروں کو رجسٹر نہیں کیا جاتا۔ کم از کم تنخواہ کے قانون پر عملدرآمد نہیں کیا جاتا۔ 12,12 گھنٹے ڈیوٹیاں لی جاتی ہیں اور معاوضہ اتنا کم دیا جاتا ہے کہ مزدور اس سے نہ زندہ رہ سکتے ہیں نہ گزر بسر کرسکتے ہیں، نہ بچوں کو تعلیم دلا سکتے ہیں اور نہ ہی علاج کی سہولت میسر ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاغر اور غیر صحت مند مزدور اس ملک کے حکمرانوں، کارخانہ داروں اور متعلقہ افسر شاہی سے سوال کرتا ہے کہ ہمیں خود جو مراعات حاصل ہیں ان کے ساتھ مزدوروں کے ساتھ روا سلوک کا موزانہ کرلو۔ شاید تمہارا ضمیر جاگ جائے۔ خود حکمران اس ملک میں مزدوروں کی تعداد 7 کروڑ سے زائد بتاتے ہیں۔ میرا حکمرانوں سے سوال ہے کہ ہمیں یہ بھی بتائیں کہ ان میں کتنے رجسٹرڈ ہیں۔ کتنے مزدوروں کو سوشل سیکورٹی، ای او بی آئی اور ورکرز ویلفیئر فنڈ کی سہولت حاصل ہے۔ تمہیں خود معلوم ہوجائے گا کہ تم مزدوروں پر کتنا ظلم کرتے ہو۔ شمس الرحمن سواتی نے کہا ہے کہ اس وقت ایک لیبر پالیسی کی اشد ضرورت ہے تا کہ فارمل سیکٹر میں لیبر قوانین اور سماجی تحفظ قوانین پر عملدرآمد یقینی ہو اور انفارمل سیکٹر کے دہاڑی دار مزدوروں کو بے گار کیمپ سے نجات دلا کر انسانیت کا درجہ حاصل ہوسکے۔ حکمرانوں نے دہاڑی دار مزدوروں کو بھکاری بنادیا ہے۔ حکمران اپنی حقیقی ذمہ داریاں پوری کریں، تمام مزدوروں کو جن کی تعداد ساڑھے 7 کروڑ ہے کو قانونی اور سماجی تحفظ دیا جائے، انسانی حقوق اور زندہ رہنے کا حق تسلیم کیا جائے۔ وسائل کا بہائو مراعات یافتہ طبقے سے ان کی طرف کرو، دولت کی منصفانہ تقسیم، تعلیم، علاج، گھر اور عزت اور وقار کی زندگی گزارنے کا حق دیا جائے۔
NLF کے صدر شمس الرحمن سواتی نے گجرات اور سیالکوٹ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر نیشنل لیبر فیڈریشن گجرات کے صدر صفدر وڑائچ، بزرگ مزدور رہنما ملک وارث، فریاد شاہ، خالد محمود، ملک امانت و دیگر بھی موجود تھے۔ نیشنل لیبر فیڈریشن پنجاب وسطی کے صدر محمد امین منہاس بھی ان کے ہمراہ تھے۔ لیبر ڈائریکٹر گوجرانوالہ اور ڈپٹی ڈائریکٹر گجرات کا حکومتی وزراء کی ایما پر ایک خاص مزدور دشمن طبقے کی سرپرستی اور حقیقی ٹریڈ یونین کو اُن کے قانونی حق سے محروم کرنے کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ افسران قانون کے دائرے میں رہیں اور حکومتی وزراء کی چاکری اور حکومتی پارٹی کے کارکن بن کر کام کرنے سے باز رہیں۔ اگر متعلقہ افسران نے اپنے غیر قانونی اقدامات کا ازالہ نہ کیا اور حکومتی وزراء کی ایما پر غیر قانونی اقدامات سے باز نہ آئے تو پھر ہمارے پاس احتجاج کے علاوہ دوسرا راستہ نہیں ہے۔
حکمران سید علی گیلانی کا قرض اتاریں
نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کے صدر شمس الرحمن سواتی نے اسلام آباد ممتاز کشمیری حریت رہنما سید علی گیلانی کے تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جرأت اور بہادر، تدبر اور حکمت اور آزادی کا استعارہ سید علی گیلانی نے نیلسن منڈیلا سے زیادہ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں لیکن متعصب دنیا کو اس کا ادراک نہیں۔ جو تحریک پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے برپا کی تھی اس تحریک پاکستان کی تکمیل اور پاکستان کی شہ رگ کشمیر کی آزادی کی جنگ سید علی گیلانی کا لازوال کارنامہ ہے۔ ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے سے خائف بھارتی درندوں نے ان کی میت کو اغوا کیا اور ان کے ورثاء کو بھی جنازے سے محروم کیا اور پورے کشمیر میں کرفیو لگا کر مقبوضہ کشمیر کو جیل بنادیا۔ سید علی گیلانی کی میت سے خوفزدہ بھارت یہ جان لے کہ وہ کشمیر کو زیادہ دیر غلام نہیں رکھ سکتا۔ پاکستان کے حکمران تو ریاستی ادارے اپنا فرض پورا کریں اور سید علی گیلانی کا قرض اتاریں۔