پانی کا بڑھتا ہوا بحران

210

ایک زمانہ تھا جب کراچی کی سڑکیں صبح لوگوں کے جاگنے سے پہلے پانی سے دھلا کرتی تھیں۔ آج کے کراچی سے وہ کراچی بہت مختلف تھا۔ کسی کو اس وقت یہ گمان بھی نہ تھا کہ کبھی کراچی پر ایسا وقت بھی آئے گا کہ ایک طرف لوگ ٹھاٹھیں مارتے سمندر اور دوسری طرف حب ڈیم کے قریب بھی بوند بوند پانی کو ترسیں گے۔ ووٹ جیسی امانت جب کسی اہل فرد کے حق میں استعمال کی جاتی ہے تو مئیر عبدالستار افغانی جیسے امانتدار لوگ شہر کے ذمے دار بنتے ہیں۔ مئیر عبدالستار افغانی پہلی بار 9 نومبر 1979 میں کراچی کے مئیر منتخب ہوئے ان کا تعلق جماعت اسلامی سے تھا جب وہ کراچی کے مئیر بنے تو انہوں نے شہر کی خدمت پوری دیانتداری سے کی اور شہر کی وسعت اور بڑھتی ہوئی آبادی کو مدِّ نظر رکھ کر پانی کی فراہمی کا انتظام کیا یہی وجہ تھی کہ ان کے دور میں پانی کچی آبادیوں میں بھی آیا کرتا تھا اور شہر میں پانی کی قلت نہیں تھی۔ مئیر افغانی شہر کی خدمت کی بدولت دوبار مئیر منتخب ہوئے آپ کو 12 فروری 1987 میں جبراً برطرف کیا گیا اس کے بعد ایم کیو ایم کے ڈاکٹر فاروق ستار کراچی کے مئیر بنے، ایم کیو ایم کی لسانی سیاست نے کراچی کو اپنی منزل سے دور کردیا سب سے پہلے شہر کا امن وامان تباہ ہوا اس کے بعد جہاں پورے شہر پر تباہی آئی وہاں پانی کا نظام بھی مافیا کے ہاتھوں میں آگیا۔ جن لائنوں میں پانی پابندی سے آتا تھا ان سے فراہمی آب طویل تعطل کے بعد آنے لگا اور کئی علاقوں میں پانی نلوں سے سرے سے ہی غائب ہوگیا۔
14اگست 2001 میں نعمت اللہ ایڈووکیٹ جن کا تعلق بھی جماعت اسلامی سے تھا کراچی شہر کے ناظم بنے مگر اب کراچی شہر ایک تباہ حال شہر تھا ہر طرف بدامنی کا دور دورہ تھا سڑکیں، گلیاں اور پارک سب ٹوٹی پھوٹی اور ویران تھے ہر طرف بد امنی تھی مگر نعمت اللہ خان نے پیرانا سالی کے باوجود جوانوں کی طرح اس شہر کی خدمت کی جس کا اعتراف اپنے اور پرائے سبھی لوگوں نے ان کے انتقال کے موقع پر کیا۔ نعمت اللہ خان نے کراچی کی بڑھتی ہوئی آبادی کو مدِّنظر رکھتے ہوئے پانی کی ضرورت کو پورا کیا آپ نے حب ڈیم سے پانی کی فراہمی کے سسٹم کو ٹھیک کیا اس کے بعد پہلے سے موجود لائنوں کو درست کیا اور نئی لائینیں ڈلوائیں مگر آپ جانتے تھے کہ کراچی جیسے بڑے شہر میں یہ بھی ناکافی ہے آپ نے کے تھری کے نام سے ایک فراہمی آب کا منصوبہ شروع کیا اور اس کو برق رفتاری سے صرف چھ بلین روپے میں 2004 میں مکمل کردیا اس سے کراچی والوں کو روزانہ کی بنیاد پر ایک سو ملین گیلن پانی ملنے لگا پانی کی قلت اس وقت کے حساب سے کافی حد تک کم ہوگئی تھی مگر اس کے باوجود نعمت اللہ صاحب نے ایک اور فراہمی آب کا منصوبہ منظور کرایا جس سے روزانہ کی بنیاد پر 150 بلین گیلن پانی فراہم ہونا تھا اور جس کا نام کے فور تھا اس منصوبے کا بجٹ 25.5 بلین روپے کا تھا اور نقشہ تیار ہوچکا تھا مگر کام کے آغاز سے پہلے آپ کی مدت نظامت جون 2005 میں ختم ہوگئی۔ اس کے بعد دوبارہ کراچی ایم کیو ایم کی لسانی سیاست کے حوالے کردیا گیا۔ نئے ناظم شہر مصطفی کمال تھے انہوں شہر کے لیے پانی کی ضروریات کو نظر انداز کیا اور کے فور پانی کے منصوبے کو ردی کی ٹوکری کی نذر کردیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی اس منصوبے کے روکے جانے کے خلاف کوئی قدم نہ اٹھایا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کراچی کو سندھ کا حصّہ تسلیم بھی کرتی ہے اور اس سے اپنا حصّہ بھی وصول کرتی ہے مگر اس شہر کے ساتھ سوتیلی ماں کا سا سلوک اوّل روز سے جاری رکھے ہوئے ہے۔ اور رہ گئی با ت ایم کیو ایم کی تو اس کا ایجنڈا کبھی بھی کراچی کی ترقی اور خوشحالی کا نہیں رہا ہے اس کا ثبوت ان کی تیس سالہ کارکردگی ہے ہر
دفعہ وفاق اور سندھ میں حکومتوں کا حصّہ بننا ان کی اوّلین ترجیح رہی ہے۔ آمر مطلق جنرل پرویز مشرف کے زمانے میں تو ان کے روٹھنے اور منانے کے کھیل نے تو حد ہی کردی تھی۔ آج کراچی کے مردوں، عورتوں اور بچّوں کے ہاتھوں میں پانی کی بالٹیاں ہیں اور وہ پانی کے حصول کے لیے سرگرداں ہیں جن لوگوں کی مالی حالت اچھی ہے وہ بھی ٹینکروں کا پانی مہنگے داموں خریدنے پر مجبور ہیں۔ شہر کے اندر قانونی اور غیر قانونی ہائیڈ رینٹ دونوں موجود ہیں اور سرکاری سرپرستی میں چل رہے ہیں واٹر اینڈ سیوریج بورڈ اور سند ھ کی حکومت پانی کی کمیابی کا رونا روتی رہتی ہے اور ٹینکروں کے ذریعے پانی مہنگے داموں فروخت ہورہے ہیں جن سے حاصل ہونے والی آمدنی، کسی مردار کے گوشت کو جس طرح گدھ نوچ نوچ کر کھاتے ہیں اسی طرح پانی کی قلت کے شکار عوام سے حاصل ہونے والی اس آمدن کو سرکاری اہلکار وزراء اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کھاتے ہیں۔ ٹینکروں کے ذریعے پانی کی فروخت سرکاری سرپرستی میں ایک طاقتور مافیا بن چکا ہے جس نے واٹر اینڈ سیوریج بورڈ تک کو غلام بنا لیا ہے پورے شہر میں یہ ٹینکر دن رات دندناتے پھرتے ہیں غیر تربیت یافتہ ڈرائیور ان ٹینکروں کو چلاتے ہیں جس کے سبب حادثات روز مرہ کا معمول بن چکے ہیں۔ سڑکیں پہلے ہی ٹوٹ پھوٹ چکی ہیں ان ٹینکروں سے گرنے والے پانی سے مزید سڑکیں ٹوٹ رہی ہیں۔ شہر کے اندر سیکٹروں غیر فعال پمپنگ اسٹیشن موجود ہیں اور ان میں ہزاروں ملازمین تعینات ہیں یہ سب سیاسی بھرتیاں ہیں۔ وال مین پانی کی سپلائی سے پہلے اپنے ایجنٹوں کو ان علاقوں اور گلیوں میں بھیجتا ہے جو فی گھر سو دوسو روپے رشوت وصول کرتے ہیں پھر ان علاقوں کو پانی سپلائی کیا جاتا ہے۔ واٹر اینڈ سوریج کے کرپشن کا یہ حال ہے کہ دفاتر میں بیٹھ کر اس کا عملہ وہ رقم
بھی ہڑپ کررہا ہے جو لائینوں کی مرمت کی مد میں مختص کی گئی ہوتی ہے۔ اس کا ثبوت پورے شہر میں پینے کا پانی ٹوٹی ہوئی پائپ لائنوں سے نکل کر ضائع ہوتا رہتا ہے جس کی وجہ سے سڑکیں اور گلیاں پیدل چلنے کے قابل بھی نہیں رہی ہیں۔ آبادیوں کا پانی صنعتی علاقوں میں قائم کارخانوں دیا جاتا ہے یہ کام وال مین اور انجینئر سپلائی کی پائپ لائنوں میں اسٹیل کی پلیٹیں ڈال کر کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو پانی نہ آنے یا کم آنے کی وجہ پتا ہی نہ چل سکے۔ 8ستمبر کو ہونے والے جماعت اسلامی کے دھرنے میں جو واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کراچی کے سامنے شاہراہ فیصل پر دیا گیا تھا اس بدترین کرپٹ ادارے کے سارے کچے چھٹّے کو کھول کررکھ دیا گیا۔
یکم جولائی 2018 کو جب بلاول زرداری اپنی الیکشن مہم کے دوران لیاری تشریف لائے تو انہوں نے ایک اعلان کیا تھا کہ ’’وعدہ کرتا ہوں کے عوام کو پانی فراہم کرنے کے لیے جو کرنا پڑا کریں گے سمندر کا پانی میٹھا کرنا پڑا تو وہ بھی کریں گے‘‘۔ لیکن بقول الطاف حسین حالی
وہ امید کیا جس کی ہو انتہا
وہ وعدہ نہیں جو وفا ہوگیا
ایسے ماحول میں یہ بات سچ ہے کہ حق کبھی تھالی میں سجا کر کوئی نہیں دے گا بلکہ عوام کو اپنا جمہوری حق استعمال کرنا ہوگا اور گھروں سے نکل کر سراپا احتجاج بننا پڑے گا۔ آج کوئی سیاسی جماعت عوام کے بنیادی حقوق کے لیے آواز اٹھانے کو تیار نہیں ہے اس میں تمام سیاسی جماعتوں کے آپس میں مفادات کا تعلق اور اتحاد ہے کراچی میں عوام کے حقوق کے لیے اگر سراپا احتجاج ہے تو وہ ہے جماعت اسلامی جس کی تازہ مثال حال ہی میں ہونے والا ایک دھرنا تھا جو شاہراہ فیصل پر دیا گیا تھا عوام کی تکالیف پر صدائے احتجاج بلند کرنا صر ف جماعت اسلامی کا طریقہ ہے کیوں کہ آپؐ نے فرمایا: ’’مومن مومن کا بھائی ہے وہ ایک جسم کی مانند ہے اگر جسم کے کسی عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو سارا جسم تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے‘‘۔